کمبھ کے میلے میں بچھڑنے والے

کمبھ کے میلے میں بچھڑنے والے

گیتا پانڈے

انڈیا کے شمالی شہر الہ آباد میں 49 دنوں تک جاری رہنے والے کمبھ میلے کو دنیا کا سب سے بڑا اجتماع کہا جا رہا ہے جہاں ایک اندازے کے مطابق 11 کروڑ افراد جمع ہو رہے ہیں۔

اس بھیڑ میں گم ہونے کا خطرہ بھی رہتا ہے لیکن ایسے لوگوں کے لیے امداد بھی فوری فراہم کی جا رہی ہے۔ بی بی سی کی گیتا پانڈے نے ‘لاسٹ اینڈ فاؤنڈ سینٹر’ یعنی بچھڑنے اور ملنے کے مرکز میں ایک دن گزارا۔

ایک مقامی خیراتی ادارے ‘بھارت سیوا دل’ میں بھولے بھٹکے کیمپ کے سربراہ امیش تیواری بتاتے ہیں کہ ‘کھونے والوں میں زیادہ تر بڑی عمرکے لوگ ہیں اور ان میں بھی 60 سے زیادہ عمر کی خواتین ہوتی ہیں۔’

الہ آباد (پریاگ راج) کا یہ سب سے پرانا کیمپ ہے جسے امیش کے والد راجہ رام تیواری نے سنہ 1946 میں قائم کیا تھا۔ اس وقت سے اب تک اس نے تقریبا 15 لاکھ لوگوں کو اپنے بچھڑوں سے ملایا ہے۔

کیمپ کے داخلے پر ایک پولیس والا ایک رجسٹر میں آنے والوں کا نام اور ان کا پتہ لکھتا ہے جبکہ اندر اپنے لوگوں سے بچھڑے درجنوں افراد اپنے دوست اور اہل خانہ کا بے صبری سے انتظار کرتے نظر آتے ہیں۔

ماحول میں جذباتی کرب محسوس کیا جاسکتا ہے۔ لوگ اپنے پیارے کا بے چينی سے انتظار کر رہے ہیں۔ آنسوؤں کے ساتھ لوگ التجا کرتے ہیں کہ ‘ایک بار اور میرے نام کا اعلان (لاؤڈسپیکر پر عوام کو آگاہ کیا جاتا ہے) کر دیں۔’

ان میں ایک 35 سالہ خاتون اپنی آٹھ سالہ بیٹی کے ساتھ ہیں لیکن وہ اپنا نام نہیں بتانا چاہتیں۔ بچی کو ایک کمبل میں لپیٹ کر رکھا گیا ہے کیونکہ جب وہ آئی تو اس کے جسم پر کپڑے نہیں تھے۔ اس خاتون نے مجھے بتایا: ‘میرے بیٹے اور شوہر نے غسل کر لیا تھا اور میں اپنی بیٹی کے ساتھ باتھ روم کے لیے چلی گئی۔ جب ہم واپس آئے تو ہمیں وہ نہیں ملے۔’

ہندو عقیدت مند مقدس دریا گنگا، جمنا اور اساطیری سرسوتی کے سنگم پر غسل کرتے ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ اس سے ان کے گناہ دھل جائیں گے اور انھیں باربار جنم لینے کے چکر سے ‘موکش’ یعنی نجات مل جائے گی۔

ان کا موبائل فون، ان کا ہینڈ بیگ سب کچھ ان کے شوہر کے پاس ہے۔ انھیں کوئی فون نمبر یاد نہیں ہے اور انھیں اپنے گھر کا راستہ بھی معلوم نہیں ہے۔

بچی کے لیے کچھ اس کے سائز سے بڑے لباس کا انتظام ہو جاتا ہے اور بار بار ان کے نام کا اعلان ہوتا ہے لیکن ابھی تک ان کو لینے کوئی نہیں آیا ہے۔

مسٹر تیواری انھیں بس کا کرایہ دینے کی پیشکش کرتے ہیں لیکن وہ اندھیرا ہونے کے بعد سفر کرنے سے گریز کر رہی ہے۔ عورت کہتی ہے کہ جہاں وہ رہتی ہیں وہاں جانے کے لیے کوئی گاڑی نہیں ہے تو کس طرح حفاظت سے وہاں پہنچيں گی۔ مسٹر تیواری انھیں رات کو خیمے میں رہنے کی اجازت دیتے ہیں۔

ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی کہ کیا کرے کہ کیمپ کا ایک سٹاف ان کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ ان کے شوہر آ گئے ہیں۔ وہ بظاہر پرسکون ہو جاتی ہے اور پھر سب ایک ساتھ روانہ ہو جاتے ہیں۔

مسٹر تیواری بتاتے ہیں کہ ‘جس دن بھیڑ زیادہ ہوتی ہے اس دن لوگ بہ آسانی بچھڑ جاتے ہیں۔ صبح سے اب تک ہمیں 560 ایسے لوگ ملے ہیں جن میں سے 510 کو ہم نے ان کے رشتہ داروں سے ملا دیا ہے۔’

جب شام گہری ہونے لگتی ہے تو مزید بھولے بھٹکے لوگوں کی آمد بڑھ جاتی ہے۔ ایک معمر شخص وارد ہوتا ہے جو اپنی اہلیہ سے بچھڑ گیا ہے۔ اپنا آنسو پوچھتے ہوئے اس نے کہا: ‘پتہ نہیں وہ ابھی کہاں ہے۔ اس کے پاس کھانے کے لیے بھی کچھ ہے کہ نہیں، اس کے پاس نہ تو ٹیلیفون ہے اور نہ ہی پیسہ۔’

مسٹر تیورای کہتے ہیں کہ ‘لوگ کہتے ہیں کہ غلط کیا ہو سکتا ہے لیکن جب آفت آتی ہے تو آپ کچھ نہیں کر سکتے۔’

میلے میں چاروں طرف ان کے 25 رضاکار ہیں اور انھیں جو کوئی شخص اپنوں سے بچھڑا ہوا نظر آتا ہے وہ انھیں کیمپ میں لے آتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ‘خدا کی مرضی سے لوگ بچھڑتے اور ملتے ہیں، ہمارا کام ان کی خدمت کرنا ہے۔ یہ بھولے ہوئے لوگ میرے خدا ہیں۔’

بھولے بھٹکے کیمپ سے چند منٹ کے فاصلے پر تیز روشنی میں نہایا پولیس کی نگرانی میں چلنے والا ‘کھویا-پایا کیندر’ (مرکز) ہے۔

جب دوپہر کو میں وہاں گئی تو وہاں بہت قسم کی سرگرمی تھی۔ ریجسٹریشن کاؤنٹر پر رضاکار تھے جن میں زیادہ تر نوجوان لڑکے لڑکیاں تھیں جو اپنے کمپیوٹر میں کھونے والوں کا نام پتہ درج کر رہے تھے۔ جو رضاکار باہر سے آئے تھے وہ مقامی زبان اور تہذیبی باریکیوں کو سمجھنے سے قاصر تھے۔

loading...

ایک رضاکار نے ایک 60 سالہ خاتون کا نام پوچھا تاکہ وہ خانہ پری کر سکے۔ تو اس خاتون نے جواب دیا: ‘رام بسل کی اماں’۔ رضاکار حیران و پریشان کہتی ہے ‘میں آپ کا نام پوچھ رہی ہوں، آپ کے بیٹے کا نہیں۔ خاتون کہتی ہے کہ کوئی بھی ان کا اصل نام نہیں جانتا۔ اور پھر باربار اصرار پر ہچکچاتے ہوئے بتایا ‘سرسوتی دیوی موریا۔’

سرسوتی دیوی نے بتایا کہ وہ وہاں اپنے گاؤں کے پانچ پڑوسیوں کے ساتھ آئي ہیں۔ وہ سنگم پر اپنے ساتھیوں سے بچھڑ گئی۔ ایک گھنٹے تک ان کی تلاش کے بعد وہ کیمپ پہنچیں۔ وہ اس گروپ کے دو مردوں کا نام بتا رہی ہیں لیکن ان کا فون نمبر ان کے پاس نہیں ہے۔

دوسرے کھوئے ہوئے لوگوں کا بھی یہی حال ہے۔ وہ بھی معمر ہیں۔ پڑھے لکھے نہیں ہیں اور ان کے پاس فون نمبر بھی نہیں ہے۔ بعض لوگوں کو تو درست طور پر یہ بھی پتہ نہیں کہ وہ کہاں سے آئے ہیں۔ زیادہ تر لوگ اپنے گاؤں کا نام تو بتا رہے ہیں لیکن ان کا ضلع کیا ہے انھیں پتہ نہیں۔

سرسوتی دیوی خوش قسمت ٹھہریں کہ جب وہ اپنے کوائف درج کرا رہی تھیں اسی وقت دو نوجوان انھیں تلاش کرتے ہوئے وہاں پہنچے۔ ان کے چہرے سے اطمینان ظاہر ہو رہا تھا۔ سب ایک ہی ساتھ بول رہے تھے۔ ایک پرویش یادو نے کہا: ‘ہم سمجھیں انھیں کچھ ہو گیا ہے۔ ہم گاؤں میں ان کے پڑوسی ہیں۔ ہم ان کے بغیر کیسے واپس جاتے اور اپنا چہرہ دکھاتے۔’

دریں اثنا نئے لوگ وہاں آتے رہے۔ ہرچند کے زیادہ تر بچھڑے لوگ اپنے لوگوں سے ملنے میں کامیاب رہے لیکن بعض کہانیوں کا انجام پرمسرت نہیں۔

نوکھا دیوی کو مرکز میں پہنچے کئی گھنٹے ہو گئے ہیں لیکن ابھی تک رضاکار ان سے کوئی معلومات حاصل نہیں کر سکے ہیں۔ وہ پریشان نظر آئیں اور سوالوں کا جواب دینے سے قاصر۔

ایک رضاکار نے کہا کہ ‘اگر مزید 12 گھنٹوں تک کوئی انھیں لینے نہیں آتا تو ہم انھیں پولیس کے حوالے کر دیں گے جو انھیں بے گھر لوگوں کے شیلٹر میں رکھ دیں گے۔’

ابھی ہم وہیں پر لوگوں کی کہانیاں سن رہے تھے کہ دو معمر خواتین پاس آئیں۔ ان کے ہاتھ میں ایک کاغذ تھا جس پر دو نام اور فون نمبر لکھے تھے۔ ایک نے کہا کیا آپ فون کرکے پوچھیں گی کہ میرے دوست کیمپ میں ہیں یا نہیں؟

انھوں نے گجراتی زبان میں بتایا کہ ان کا نام پربھا بین پٹیل ہے۔ وہ مغربی شہر احمد آباد سے دو دوستوں کے ساتھ آئی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ‘غسل کے بعد ہم پاس ہی کے ایک مندر چلے گئے اور اس طرح اپنے دوست سے بچھڑ گئے۔’

وہ دونوں خواتین پریشان تھیں کہ اگر ان کی دوست نہیں ملی تو وہ ان کے اہل خانہ کو کیا جواب دیں گی۔ میں نے ایک نمبر پر فون کیا جس پر فورا جواب ملا میں نے فون پربھا بین کو دے دیا۔ انھوں نے حالات بتائے اور فون بند کر دیا۔ پھر تھوڑی دیر بعد میرا فون بجا میں نے پربھا بین کو فون دے دیا وہ پرجوش اور مطمئن نظر آنے لگیں۔ ان کی دوست کیمپ میں آ چکی تھیں۔

بھولے بھٹکے کیمپ کے پاس ہی ایک کیمپ خواتین اور بچوں کے لیے مخصوص تھا اور اسے بھی مقامی تنظیم ‘ہیم وتی نندن بہوگنا میموریئل کمیٹی’ سنہ 1956 سے چلا رہی ہے۔

اس کے مینجر سنت پرساد پانڈے نے بتایا کہ صبح سے انھوں نے 950 افراد کو اپنے دوست اور رشتے داروں سے ملا دیا ہے جبکہ 15 افراد اب بھی منتظر ہیں۔

پانڈے بتاتے ہیں کہ وہ وہاں منتظر لوگوں کو کھانا، کپڑا اور کمبل فرام کرتے ہیں اور جن کے پاس پیسہ نہیں انھیں گھر جانے کا کرایہ دیتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان کے ساتھ 100 رضاکار ہیں جو 32 مربع کلومیٹر میں پھیلے علاقے میں بھولے بھٹکے لوگوں کی تلاش میں لگے رہتے ہیں۔

وہیں پر ایک سندھیا وشکرما ہیں جو اپنی پانچ سالہ بیٹی رادھیکا کی خبر کی منتظر ہیں۔ وہ روتے ہوئے کہتی ہے کہ ‘ایک گھنٹے سے وہ غائب ہے۔ ہم نے اسے ہرجگہ تلاش کیا اور پھر یہاں اعلان کروانے آئے کہ کسی کو ملے تو یہاں پہنچا دیں۔’

تھوڑی ہی دیر میں خبر آتی ہے کہ جس بچی کی وہ تلاش کر رہی ہیں اسی طرح کی ایک بچی پولیس کی نگرانی میں چلنے والے کیمپ میں ہے۔ جب سندھیا اور ان کی بہن وہاں پہنچیں تو ایک پولیس والے نے ان کی بچی کا ہاتھ پکڑ رکھا تھا۔ پولیس پوچھتی ہے کہ کیا وہ اس کو پہچانتی ہے تو بچی کہتی ہے کہ ‘ہاں، یہ میری ماں ہے۔’

پولیس پوری طرح سے اطمیان کرنے کے وہ اس کی ماں ہی ہے کوئی بچہ چور نہیں اس کے بعد ہی بچی کو سندھیا کے حوالے کر دیتی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ ‘ایک بوڑھے شخص نے اسے بہت دور پایا اور یہاں لا کر چھوڑ گیا۔’

تھوڑی ہی دیر میں تشویش کے آنسو خوشی کے آنسو میں بدل گئے اور سب نے مسکراتے ہوئے ایک تصویر لی۔

بشکریہ بی بی سی اردو

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں