بھارت: عالمی دہشت گردی کا سرغنہ

عالمی دہشت گردی

سری لنکا میں ہونے والی حالیہ بدترین دہشتگردی میں بھارت کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔سفارتی ذرائع کے مطابق سری لنکا میں خودکش دھماکوں کا ماسٹر مائنڈ زاہران ہاشمی بھارت سے تربیت یافتہ نکلا، خودکش بمبار زاہران ہاشمی طویل عرصہ جنوبی بھارت میں مقیم رہا، اس کے انتہا پسند تنظیموں سے رابطے رہے جب کہ دہشتگرد تنظیم جماعت التوحید کے تانے بانے بھی بھارت سے مل رہے ہیں۔

واضح رہے کہ سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں ایسٹر کے موقع پر گرجا گھروں اور ہوٹلوں میں دھماکے ہوئے تھے جس کے نتیجے میں 250 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

یہ حقیقت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بھارت دہشتگردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔

بھارتی حکومت ہمسایہ ممالک میں دہشتگردی کی پشت پناہ ہے اور بھارت ریاستی پالیسی کے طور پر دہشت گردی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ بھارتی جاسوس و دہشتگرد کلبھوشن یادیو، بھارتی ریاستی دہشت گردی کی زندہ مثال ہے۔

اس بات کو پیش نظر رکھنا بھی ضروری ہے کہ پاکستان کے ساتھ فروری کے دوران محاذ آرائی کی جو صورتحال پیدا ہوئی تھی اس سے حکمران جماعت بی جے پی کو مطلوبہ فوائد حاصل نہیں ہوسکے تھے۔ ایسی صورت میں کہ بھارت میں انتخابات بدستور جاری ہیں، بی جے پی کیلئے ضروری ہوگیا تھا کہ خطے میں ایسی کوئی کارروائی ہو جس سے اسے فائدہ پہنچ سکے۔ یہ بات اب پاکستان کے مقابلے پر آکر تو ممکن نہیں رہی اس لیے کوئی تعجب نہیں کہ چھوٹے سے ملک سری لنکا کو ہدف بنایا گیا ہو۔

یہاں اس حقیقت کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں کہ 2018 کے دوران سری لنکا کے صدر سری سینا کو یہ خطرہ محسوس ہوگیا تھا کہ را کہیں انہی قتل نہ کر دے کیونکہ اس وقت ان کی کوشش تھی کہ وزیر اعظم کو ہٹا کر سابق صدر مہندا راجاپاکسے کو ان کی جگہ وزیر اعظم مقرر کر دیں۔

وزیراعظم عمران خان کے 5 نکات اور عملی اقدامات

واضح رہے کہ راجاپاکسے نے اپنی صدارت کے دوران چین کے ساتھ گرمجوش دوستانہ تعلقات استوار کیے تھے۔ اس بات سے بھی صرف نظر نہیں کیا جاسکتا کہ سری لنکا میں یہ دہشت گردی بیجنگ میں ہونے والے بیلٹ اینڈ روڈ فورم سے چند روز قبل کی گئی، اس فورم میں سری لنکا کو بھی اہم کردار ادا کرنا تھا، اس حملے کی وجہ سے سری لنکا کی معیشت کو بھی دھچکا لگنے کا خطرہ ہے۔

سری لنکا کے واقعے میں ملوث عناصر کے بارے میں بھی اطلاعات یہ ہیں کہ سری لنکا کے بعض علاقوں یا لسانی گروہوں کی زبان بول رہے تھے، دہشت گردی کے واقعات میں اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ حملہآور لباس اور وضع قطع سے کیا لگ رہے تھے، اس لیے کہ خطے میں متعدد واقعات ایسے ہوچکے ہیں جب حملہ آوروں نے بھیس بدل کر کارروائی کی۔

2008 کے ممبئی حملوں کے بعد جس طرح پاکستان پر اندھا دھند الزام تراشی کی گئی اس کی وجہ سے اصل حقائق بے بنیاد پرا پیگنڈے کی دھول میں چھپتے چلے گئے۔یہ جائزہ لینا ہوگا اس کے حامی کس ملک میں محفوظ رہتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ رابطوں کو برقرار رکھتے رہے ۔

loading...

اس کے علاوہ اگر خیال یہ ہے کہ کوئی بیرونی طاقت یا ملک اس دہشت گردی کے پس پشت تھا تو لازمی طور پر یہ دیکھنا ہوگا کہ کس ملک کو اس کارروائی سے زیادہ فائدہ ہوا۔ اس بات سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا کہ سری لنکا سے مخاصمت کی وجہ سے پہلے تو بھارت طویل عرصے تک LTTE کی خفیہ طور پر پشت پناہی کرتا رہا، لیکن جب بھارت نے اس کی حمایت ترک کردی تو LTTE نے راجیو گاندھی کو قتل کر دیا۔1990 کے عشرے کے تقریبا نصف دور میں ہی بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ذمہ داروں نے LTTE کے ساتھ اپنے رابطے بحال کرلیے، اس کا مقصد خطے میں طاقت کے توازن کو اپنے حق میں کرنا تھا۔

را نے ایسا ہی کردار پاکستانی صوبے بلوچستان میں ادا کیا۔ اس وقت چین اور پاکستان کے ساتھ سری لنکا کے انتہائی خوشگوار تعلقات ہیں اور یہ مراسم وسعت پا رہے ہیں۔ ان حالات میں یہ بھارت ہی ہے جو سری لنکا کو چین کے زیادہ قریب جانے پر سزا دے سکتا ہے۔ اس پس منظر میں کوئی تعجب نہیں کہ بھارت نے درپردہ LTTE کو دوبارہ منظم ہونے میں مدد فراہم کی ہو اور سری لنکا میں دہشت گردی کیلئے اس کی حوصلہ افزائی بھی کی ہو۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اکثر بھارتی ذرائع ابلاغ کسی جواز کے بغیر سری لنکا کی دہشت گردی میں پاکستان کو ملوث قرار دینے کی بھونڈی کوشش کر تے رہے ہیں جو حماقت کے سوا کچھ نہیں تھا۔

پاکستان نے سری لنکا کو یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستانی خفیہ ادارہ اس کے ملک میں ہونے والی دہشت گردی کے ذمہ دار عناصر کا سراغ لگانے کے لئے بھرپور تعاون کرے گا۔ یہ پاکستان کا نہایت بروقت اقدام ہے بالخصوص اس لیے بھی کہ جس بڑے پیمانے پر جانی نقصانات ہوئے ہیں وہ سب کچھ نیشنل توحید جماعت جیسے چھوٹے سے گروپ کیلئے کسی طور بھی ممکن نہیں تھا، یہ تو کسی ایسے منظم گروہ کا کام معلوم ہوتا ہے جو ملک کی ملٹری ایجنسی کی جڑوں میں چھپا بیٹھا ہو۔ تاہم قابل غور بات یہ ہے کہ نیشنل توحید جماعت اپنے جنگجوﺅں کو بھارتی علاقے تامل ناڈو میں دہشت گردی کی تربیت دیتی رہی ہے۔

یہ علاقہ ایک زمانے میں سری لنکا کے مخالف LTTE گروپ کا مرکز تھا اور بھارتی ایجنسی را LTTE کے تخریب کاروں کی خفیہ طور پر مدد اور سر پرستی کرتی تھی۔ را کا یہ کردار 1991 میں راجیو گاندھی کے قتل کے بعد بھی جاری رہا۔ دوسری بات یہ ہے کہ سری لنکا کے مسلمانوں سے جن کی تعداد بہت کم ہے داعش کا کبھی گہرا تعلق نہیں رہا۔ یوں بھی سری لنکا کے مسلمان دہشت گردی اور انتہا پسندی سے ہمیشہ بہت دور رہے، اس کے باوجود یہ ذرائع ابلاغ داعش کی ویب سائٹ کا حوالہ دے کر یہ ثابت کرنے پر تلے رہے کہ یہ کارروائی غیر ملکی دہشت گرد گروپ یعنی داعش نے کی ہے۔

ان حالات میں پاکستانی خفیہ ادارہ ہی یہ ٹھوس شواہد کے ساتھ یہ ثابت کرسکتا ہے کہ یہ سب افسانے ہیں جن کا حقائق سے کوئی تعلق ہی نہیں ۔ پاکستانی خفیہ ادارے کو طالبان جیسے مذہبی دہشت گردوں اور بی ایل اے جیسے سیکولر انتہا پسندوں سمیت ہر قسم کے تشدد پسند عناصر کے ساتھ نمٹنے کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔

یہ ایک حوصلہ افزا بات ہے کہ سری لنکا کی حکومت نے واضح طور پر اعلان کر دیا کہ اس خونیں واقعے اور مجرموں کی نسلی، مذہبی، سیاسی اور قومی وابستگی سے متعلق کسی قیاس آرائی کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔بہر صورت سری لنکا کے اس المناک واقعے کی درست تحقیقات کیلئے لازم ہے کہ زمینی حقائق سمیت تمام پہلوﺅں کا نہایت ٹھنڈے دل کے ساتھ بغور جائزہ لیا جائے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں