تحمل اور برداشت کی پالیسی اختیار کی جائے

پی ٹی ایم

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنماعلی وزیر اور محسن جاوید داوڑ کی سربراہی میں شر پسندوں کے ایک گروہ نے خار کمڑ چیک پوسٹ پر حملہ کیا اور فائرنگ کی جس سے پانچ فوجی اہلکار زخمی ہوگئے ۔ فائرنگ کے تبادلے میں حملہ کرنے والے تین افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ دس زخمی ہیں تمام زخمیوں کو آرمی ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

محسن جاوید داوڑ مجمع کو مشتعل کرنے کے بعد فرار ہوگئے جبکہ علی وزیر کو آٹھ ساتھیوں سمیت حراست میں لے لیا گیا ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق پی ٹی ایم کے محسن داوڑ اور علی وزیر کی سربراہی میں ایک گروہ نے خار کمڑ چیک پوسٹ پر حملہ کیا جس سے پانچ فوجی اہلکار زخمی ہوگئے ۔ گروہ کے حملے کا مقصد دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو چھڑانے کیلئے دبا ڈالنا تھا. علی وزیر کو آٹھ ساتھیوں سمیت حراست میں لے لیا گیا آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ پاک فوج نے اشتعال انگیزی کے سامنے تحمل کا مظاہرہ کیا ۔ اس سانحہ سے پوری قوم حیران و پریشان ہے۔

تاہم ملک کی منتخب حکومت نے کوئی بیان دینے یا صورت حال واضح کرنے کی فوری ضرورت محسوس نہیں کی ۔ پیپلز پارٹی کے چئیر مین بلاول بھٹو زرداری نے پریس کانفرنس میں یہ اطلاع ملنے کے بعد کہا کہ ایک منتخب رکن پارلیمنٹ محسن داوڑ کیسے فوجی چیک پوسٹ پر حملہ کرسکتا ہے ۔ اگر تشدد ہوا ہے تو ہم اس کی مذمت کرتے ہیں ۔ لیکن پر امن شہریوں ، سیاسی کارکنوں کے خلاف بھی تشدد نہیں ہونا چاہئے ۔ پر امن احتجاج کرنا ان کا بنیادی حق ہے ۔ میں پہلے دن سے کہہ رہا ہوں کہ آپ پی ٹی ایم سے اختلاف کرسکتے ہیں ، آپ ان سے بحث کرسکتے ہیں ۔ لیکن اگر آپ فاٹا کے نوجوان سیاست دانوں سے مذاکرات نہیں کریں گے اور اگر آپ شکایتوں کا ازالہ نہیں کریں گے یا ان کی غلط فہمیاں دور نہیں کریں گے تو پھر ہمیں ان حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو مشرف کے دور میں بلوچستان میں وقوع پذیر ہوئے تھے۔

ہم سب نے دیکھا ہے کہ ایوب آمریت کے بعد بنگلہ دیش میں کیا ہوا ۔ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے متعدد ٹوئیٹ پیغامات میں اس سانحہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور تصادم سے باز رہنے کا مشورہ دیا ہے ۔ حکومتی اتحاد میں شامل بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل گروپ)کے صدر اختر مینگل نے ایک ٹوئیٹ میں پی ٹی ایم کے کارکنوں پر حملہ کی شدید مذمت کی ۔ اپوزیشن اور اختر مینگل کی مذمت کے باوجود حکومت یا وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے اس سنگین اور افسوسناک واقعہ پر کسی قسم کا ردعمل دینے، تحقیقات کروانے یا اس معاملہ کو سول اختیار کے تحت لانے کا کوئی اعلان سامنے نہیں آیا۔

ملک کے ایک دور دراز علاقے میں ایک مسلح تصادم کے بعد وہاں کرفیو نافذ کرنے اور مواصلات کے ذرائع بند کرنے کا فیصلہ انتہائی سنگین اقدام ہے اور اس بارے میں قوم کو یا تو آئی ایس پی آر کے پریس ریلیز سے معلومات ملی ہیں یا غیر مصدقہ ذراءع سے پی ٹی ایم کی طرف سے معلومات فراہم ہو رہی ہیں ۔ سوشل میڈیا پر فوج اور پی ٹی ایم کے حامی گروپ موجود ہیں جو صورت حال پر اپنے مفاد کے مطابق تبصرے اور معلومات فراہم کررہے ہیں ۔ ان حالات میں منتخب حکومت کی خاموشی اور بے بسی ناقابل فہم اور ناقابل قبول ہے۔

حکومت کی خاموشی سے ان اندیشوں کی بھی تائید ہوتی ہے کہ ملک کی کوئی منتخب حکومت سیکورٹی معاملات میں رہنمائی یا نگرانی کرنے کی اہلیت و ہمت نہیں رکھتی ۔ ماضی میں بھی اس حوالے سے سول حکومتیں خاموش تماشائی بنی رہی تھیں اور اب ایک ایسی حکومت جس کا سربراہ خود مختاری اور عوام کو اعتماد میں لینے کے بلند بانگ دعوے کرتا ہے، انتہائی اشتعال انگیز اور افسوس ناک واقعہ پر جزو معطل ہونے کا مظاہرہ کر رہا ہے ۔ اگر دونوں طرف پاکستان کے ہی بیٹے ہیں تو سیاسی اور صحافتی حلقوں کو ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا ورنہ پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

وزیر اعظم اور پاک فوج کے سربراہ پی ٹی ایم کے مطالبوں کو جائز اور درست قرار دیتے ہیں ۔ تاہم فوج کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی ایم کے کچھ عناصر کو غیر ملکی طاقتوں کی حمایت حاصل ہے ۔ اگر پی ٹی ایم کے بعض لوگوں پر غیر ملکی ایجنسیوں سے رقم لینے یا کسی ملک دشمن ایجنڈا پر کام کرنے کا شبہ ہے تو ان لوگوں کے خلاف عدالتوں میں مقدمات چلا کر انہیں سزا دلوائی جائے ۔ کسی تنظیم یا اس کے لیڈروں کی سیاسی سرگرمیوں کے قانونی ہونے کا جائزہ لینا ملک کی عدالتوں کا کام ہے ۔ اسی طرح ان عناصر کے ساتھ سیاسی ڈائیلاگ کے ذریعے معاملات طے کرنا ملک کی منتخب حکومت اور سیاسی پارٹیوں کا شعبہ ہے ۔ پاکستان کو معاشی بحران سے لے کر متعدد سرکش گروہوں کی ناراضگی کی صورت میں پہلے ہی سنگین صورت حال کا سامنا ہے ۔ پاک فوج کی حب الوطنی اور قوم و ملک کے لئے قربانیوں سے انکار ممکن نہیں لیکن شمالی وزیرستان میں رونما ہونے والے سانحہ پر پارلیمنٹ پر غور ہونا چاہئے ۔ سمجھ لینا چاہئے کہ پاکستان اب مزید انتشار اور افتراق کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔ ملک کو مثبت تبادلہ خیال کے ذریعے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ۔

loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں