لہنگے اتنے مہنگے

کل دفتر سے واپسی پر اپنی پڑوسن عابدہ آنٹی کو امی کے ساتھ باتوں میں مشغول دیکھ کر میں بھی وہیں بیٹھ گئی۔ موضوع بحث تھا عابدہ آنٹی کی بیٹی بسمہ کی پندرہ دن بعد ہونے والی شادی۔

فطری سی بات ہے کہ اپنے اس فرض کی ادائیگی کے سلسلے میں وہ کافی پریشان تھیں۔ امی نے آنٹی سے پوچھا کہ وہ اتنی پریشان ہیں کہیں لڑکے کے بارے میں خدانخواستہ کوئی بات تو نہیں ہوئی یا سسرال کی طرف سے زیادہ جہیز کا مطالبہ کیا جارہا ہے یا کوئی اور خاندانی مسئلہ تو نہیں؟

لیکن امی اور میں دونوں یہ سن کر حیران رہ گئے کہ آنٹی زیادہ فکرمند اس لیے تھیں کہ بسمہ نے ضد لگارکھی تھی وہ پچاس ہزار سے کم کا لہنگا نہیں لے گی۔

امی نے آنٹی سے پوچھا کہ ایک دن کےلیے پچاس ہزار ضائع کرنا حماقت کے سوا کچھ بھی نہیں۔ تو وہ کہنے لگیں کہ بات تمھاری بالکل ٹھیک ہے بہن، لیکن یہ اولاد بھی تو کچھ سمجھے۔

ٹی وی ڈراموں میں مہنگے کپڑے دیکھ دیکھ کر آج کل کی بچیاں سب کچھ بھلا بیٹھی ہیں۔ نت نئے فیشن اور بے تکے لباس ان کو بھاتے ہیں۔ ماں باپ کی کمر ٹوٹ گئی جہیز بناتے ہوئے اور اب یہ کہ جہاں میرا سب سامان بنایا ہے وہیں پر شادی کا جوڑا بے شک ایک دن پہننا ہے لیکن ہر دلہن کا ارمان ہوتا ہے کہ وہ شادی کے دن سب سے زیادہ پرکشش اور جاذب نظر دکھائی دے۔ اس لیے بسمہ کا اصرار یہی ہے کہ میری صرف اتنی سی خواہش آپ پوری نہیں کر رہیں۔

مجھے ان سب بے تکی باتوں کی وجہ سے بسمہ پر جہاں بہت غصہ آرہا تھا، وہیں آنٹی کی بے بسی پر ترس بھی آرہا تھا کہ آخر ایک دن کی شو کےلیے لوگ کیوں کر اتنے مہنگے لباس لیتے ہیں۔ لہنگا دس ہزار کا ہو یا دس لاکھ کا، پہننا آپ نے صرف بارات والے دن ہی ہے۔ سچی بات تو ہے کہ بعد میں اس لہنگے سے آپ کا یا تو اپنا لباس بننا ہے یا آپ کی بچیوں کے فراک۔ تو اتنا تردد کیوں؟

loading...

ہم لوگ مثال دیتے ہیں بالی وڈ کی اداکارؤں کی کہ کرینہ کپور نے اپنی شادی پر 50 لاکھ کا لہنگا پہنا، انوشکا شرما نے پچیس لاکھ کا جوڑا بنوایا۔ ہم مثال دیتے ہیں ایک لاکھ سے شروع ہوکر 40 لاکھ تک جانے والے لہنگے کی، اس کے ساتھ لاکھوں کی میچنگ جیولری کی۔ ہم مثال دیتے ہیں لہنگے کےلیے نفیس کپڑے اور اس پر بنے موتیوں، تاروں، کرسٹل اور زرقون کے نگینیوں کے کام کی۔

لیکن یہاں ہم مثال دیتے ہوئے اپنے پیارے نبیؐ کی پیاری بیٹی حضرت فاطمہؓ کو بھول جاتے ہیں جن کی شادی کتنی دھوم دھام اور شان و شوکت سے ہوسکتی تھی، لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنی سادگی سے اپنی بیٹی کو رخصت کیا اور مناسب سامان کا انتظام کیا۔ اس لیے کہ خودنمائی اور اسراف اللہ تعالیٰ کو ہرگز پسند نہیں ہے۔

ہماری زندگیوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جب تک ہماری ضروریات، ضروریات رہتی ہیں تب تک ہم مطمئن اور خوش رہتے ہیں، جس وقت خواہشات ضروریات بنالی جائیں تو نہ صرف خدا ناراض ہوتا ہے بلکہ دلی اطمینان اور سکون بھی رخصت ہونے لگتا ہے۔

مہنگا لہنگا، بینڈ باجے، بہت سے باراتی، نت نئے اقسام کے کھانے کبھی ازدواجی زندگی کی خوشی کے ضامن نہیں۔ بلکہ آپ کا اچھا اخلاق، رہن سہن، بول چال اور اچھی تربیت آپ کو اپنے ساتھی کے ساتھ ہم آہنگی کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرسکتی ہے۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

(Visited 133 times, 9 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں