عزت کے لیے

مائی نانکی

چونی لال نے اپنی موٹر سائیکل اسٹال کے ساتھ روکی اور گدی پربیٹھے بیٹھے صبح کے تازہ اخباروں کی سرخیوں پر نظر ڈالی۔ سائیکل رکتے ہی اسٹال پر بیٹھے ہوئے دونوں ملازموں نے اسے نمستے کہی تھی۔ جس کا جواب چونی لال نے اپنے سر کی خفیف جنبش سے دے دیا تھا۔ سرخیوں پر سرسری نظر ڈال کرچونی لال نے ایک بندھے ہوئے بنڈل کی طرف ہاتھ بڑھایا جو اسے فوراً دے دیا گیا۔ اس کے بعد اس نے اپنی بی ایس اے موٹر سائیکل کا انجن اسٹارٹ کیا اور یہ جا وہ جا۔ موڈرن نیوز ایجنسی قائم ہوئے پورے چار برس ہوچلے تھے۔ چونی لال اس کا مالک تھا۔ لیکن ان چار برسوں میں وہ ایک دن بھی اسٹال پر نہیں بیٹھا تھا۔ وہ ہر روز صبح اپنی موٹر سائیکل پر آتا، ملازموں کی نمستے کا جواب سر کی خفیف جنبش سے دیتا۔ تازہ اخباروں کی سرخیاں ایک نظر دیکھتا ہاتھ بڑھا کر بندھا ہوا بنڈل لیتا اور چلا جاتا۔ چونی لال کا اسٹال معمولی اسٹال نہیں تھا۔ حالانکہ امرتسر میں لوگوں کو انگریزی اور امریکی رسالوں اور پرچوں سے کوئی اتنی دلچسپی نہیں تھی۔ لیکن موڈرن نیوز ایجنسی ہر اچھا انگریزی اور امریکی رسالہ منگواتی تھی بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ چونی لال منگواتا تھا۔ حالانکہ اسے پڑھنے وڑھنے کا بالکل شوق نہیں تھا۔ شہر میں بہت کم آدمی جانتے تھے کہ موڈرن نیوز ایجنسی کھولنے سے چونی لال کا اصل مقصد کیا تھا۔ یوں تو اس سے چونی لال کو خاصی آمدن ہو جاتی تھی۔ اس لیے کہ وہ قریب قریب ہر بڑے اخبار کا ایجنٹ تھا۔ لیکن سمندر پار سے جو اخبار اوررسالے آتے بہت ہی کم تھے۔ پھر بھی ہرہفتے ولائت کی ڈاک سے موڈرن نیوز ایجنسی کے نام سے کئی خوبصورت بنڈل اور پیکٹ آتے ہی رہتے۔ اصل میں چونی لال یہ پرچے اور رسالے بیچنے کیلیے نہیں بلکہ مفت بانٹنے کے لیے منگواتا تھا۔ چنانچہ ہر روز صبح سویرے وہ ان ہی پرچوں کا بنڈل لینے آتا تھا جو اس کے ملازموں نے باندھ کر الگ چھوڑے ہوتے تھے۔ شہرکے جتنے بڑے افسر تھے سب چونی لال کے واقف تھے۔ بعض کی واقفیت صرف یہیں تک محدود تھی کہ ہر ہفتے ان کے یہاں جو انگریزی اور امریکی پرچے آتے ہیں۔ شہر میں کوئی ایک موڈرن نیوز ایجنسی ہے۔ اس کا مالک چونی لال ہے۔ وہ بھیجتا ہے اور بل کبھی روانہ نہیں کرتا۔ بعض ایسے بھی تھے جو اس کوبہت اچھی طرح جانتے تھے مثال کے طور پر ان کو معلوم تھا کہ چونی لال کا گھر بہت ہی خوبصورت ہے۔ ہے تو چھوٹا سامگر بہت ہی نفیس طریقے پر سجا ہے۔ ایک نوکر ہے راما، بڑا صاف ستھرا اور سو فی صدی نوکر۔ سمجھدار، معمولی سا اشارہ سمجھنے والا جس کو صرف اپنے کام سے غرض ہے۔ دوسرے کیا کرتے ہیں کیا نہیں کرتے اس سے اس کو دلچسپی نہیں۔ چونی لال گھر پر موجود ہو جب بھی ایک بات ہے۔ موجود نہ ہو جب بھی ایک بات ہے۔ مہمان کس غرض سے آیا ہے۔ یہ اس کو اُس کی شکل دیکھتے ہی معلوم ہو جاتا ہے۔ کبھی ضرورت محسوس نہیں ہو گی کہ اس سے سوڈے برف کے لیے کہا جائے یا پانوں کا آرڈر دیا جائے۔ ہر چیز خودبخود وقت پر مل جائے گی اور پھرتاک جھانک کا کوئی خدشہ نہیں۔ اس بات کا بھی کوئی کھٹکا نہیں کہ بات کہیں باہر نکل جائے گی۔ چونی لال اور اس کا نوکر راما دونوں کے ہونٹ دریا کے دریا پینے پر بھی خشک رہتے تھے۔ مکان بہت ہی چھوٹا تھا۔ بمبئی اسٹائل کا۔ یہ چونی لال نے خود بنوایا تھا۔ باپ کی وفات پر اسے دس ہزار روپیہ ملا تھا۔ جس میں سے پانچ ہزار اس نے اپنی چھوٹی بہن روپا کو دے دیے تھے اور جدی مکان بھی اور خود علیحدہ ہو گیا تھا۔ روپا اپنی ماں کے ساتھ اس میں رہتی تھی اور چونی لال اپنے بمبئے اسٹائل کے مکان میں۔ شروع شروع میں ماں بہن نے بہت کوشش کی کہ وہ ان کے ساتھ رہے۔ ساتھ نہ رہے تو کم از کم ان سے ملتا ہی رہے مگر چونی لال کو ان دونوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے اپنی ماں اور بہن سے نفرت تھی۔ دراصل اسے شروع ہی سے ان دونوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ البتہ باپ سے ضرور تھی کہ وہ تھانیدار تھا۔ لیکن جب وہ ریٹائر ہوا تو چونی لال کو اس سے بھی کوئی دلچسپی نہ رہی جس وقت اسے کالج میں کسی سے کہنا پڑتا کہ اس کے والد ریٹائرڈ پولیس انسپکٹر ہیں تو اسے بہت کوفت ہوتی۔ چونی لال کو اچھی پوشش اور اچھے کھانے کا بہت شوق تھا۔ طبیعت میں نفاست تھی۔ چنانچہ وہ لوگ جو اس کے مکان میں ایک دفعہ بھی گئے۔ اس کے سلیقے کی تعریف اب تک کرتے ہیں۔ این ڈبلیو آر کے ایک نیلام میں اس نے ریل کے ڈبے کی ایک سیٹ خریدی تھی۔ اس کو اس نے اپنے دماغ سے بہت ہی عمدہ دیوان میں تبدیل کروالیا تھا۔ چونی لال کو یہ اس قدر پسند تھا کہ اسے اپنی خوابگاہ میں رکھوایا ہوا تھا۔ شراب اس نے کبھی چھوئی نہیں تھی۔ لیکن دوسروں کو پلانے کا بہت شوق تھا۔ ایرے غیرے کو نہیں، خاص الخاص آدمیوں کو۔ جن کی سوسائٹی میں اونچی پوزیشن ہو۔ جو کوئی مرتبہ رکھتے ہوں۔ چنانچہ ایسے لوگوں کی وہ اکثر دعوت کرتا۔ کسی ہوٹل یا قہوہ خانے میں انھیں اپنے گھر میں جواس نے خاص اپنے لیے بنوایا تھا۔ زیادہ پینے پر اگر کسی کی طبیعت خراب ہو جائے تو اسے کسی تردو کی ضرورت نہ ہوتی۔ کیونکہ چونی لال کے پاس ایسی چیزیں ہر وقت موجود رہتی تھیں۔ جن سے نشہ کم ہو جاتا تھا۔ ڈر کے مارے کوئی گھر نہ جانا چاہے تو علیحدہ سجے سجائے دو کمرے موجود تھے۔ چھوٹا سا ہال تھا۔ اس میں کبھی کبھی مجرے بھی ہوتے تھے۔ اکثر ایسا بھی ہوا کہ چونی لال کے اس مکان میں اس کے دوست کئی کئی دن اور کئی کئی راتیں اپنی سہیلیوں سمیت رہے۔ لیکن اس نے ان کو مطلق خبر نہ ہونے دی کہ وہ سب کچھ جانتا ہے۔ البتہ جب اس کا کوئی دوست ان کی ان نوازشوں کا شکریہ ادا کرتا تو چونی لال غیر متوقع طور پر بے تکلف ہو کر کہتا۔

’’کیا کہتے ہو یار۔ مکان تمہارا اپنا ہے۔ ‘‘

loading...

عام گفتگو میں وہ اپنے دوستوں کے اونچے مرتبے کے پیشِ نظر ایسا تکلف کبھی نہیں برتتا تھا۔ چونی لال کا باپ لالہ گردھاری لال عین اس وقت ریٹائر ہوا جب چونی لال تھرڈ ڈویژن میں انٹرنس پاس کرکے کالج میں داخل ہوا۔ پہلے تو یہ تھا کہ صبح شام گھر پہ ملنے والوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ ڈالیوں پر ڈالیاں آرہی ہیں۔ رشوت کا بازار گرم ہے۔ تنخواہ بونس سیدھی بنک میں چلی جاتی تھی۔ لیکن ریٹائر ہونے پر کچھ ایسا پانسہ پلٹا کہ لالہ گردھاری لال کا نام جیسے بڑے آدمیوں کے رجسٹر سے کٹ گیا۔ یوں تو جمع پونجی کافی تھی۔ لیکن لالہ گردھاری لال نے بیکار مباش کچھ کیا کر، مکانوں کا سٹہ کھیلنا شروع کردیا اور دو برسوں ہی میں آدھی سے زیادہ جائیداد گنوا دی، پھر لمبی بیماری نے آگھیرا۔ ان تمام واقعات کا چونی لال پر عجیب و غریب اثر ہوا۔ لالہ گردھاری لال کا حال پتلا ہونے کے ساتھ چونی لال کے دل میں اپنا پرانا ٹھاٹ اور اپنی پرانی ساکھ قائم رکھنے کی خواہش بڑھتی گئی اور آخرمیں اس کے ذہن نے آہستہ آہستہ کچھ ایسی کروٹ بدلی کہ وہ بڑے آدمیوں کا بظاہر ہم جیلس تھا۔ ہم پیالہ و ہم نوالہ تھا۔ لیکن اصل میں وہ ان سے بہت دور تھا۔ ان کے رتبے سے، ان کی جاہ و منزلت سے البتہ اس کا وہی رشتہ تھا۔ جو ایک بُت سے پجاری کا ہو سکتا ہے یا ایک آقا سے ایک غلام کا۔ ہوسکتا ہے کہ چونی لال کے وجود کے کسی گوشے میں بہت ہی بڑا آدمی بننے کی خواہش تھی جو وہیں کی وہیں دب گئی اور یہ صورت اختیار کرگئی۔ جو اب اس کے دل و دماغ میں تھی۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ جو کچھ بھی وہ کرتا۔ اس میں انتہائی درجے کا خلوص تھا۔ کوئی بڑا آدمی اس سے ملے نہ ملے یہی کافی تھا کہ وہ اس کے دیے ہوئے امریکی اور انگریزی پرچے ایک نظر دیکھ لیتا ہے۔ فسادات ابھی شروع نہیں ہوئے تھے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ تقسیم کی بات بھی ابھی نہیں چلی تھی کہ چونی لال کی بہت دنوں کی مراد پوری ہوتی نظر آئی۔ ایک بہت ہی بڑے افسر تھے۔ جس سے چونی لال کی جان پہچان نہ ہوسکی تھی۔ ایک دفعہ اس کے مکان پر شہر کی سب سے خوبصورت طوائف کا مجرا ہوا۔ چند دوستوں کے ہمراہ اس بڑے افسر کا شرمیلا بیٹا ہربنس بھی چلا آیا۔ چنانچہ جب چونی لال کی اس نوجوان سے دوستی ہو گئی تو اس نے سمجھا کہ ایک نہ ایک دن اس کے باپ سے بھی راہ و رسم پیدا ہو ہی جائے گی۔ ہربنس جس نے تعیش کی زندگی میں نیا نیا قدم رکھا تھا بہت ہی الھڑ تھا۔ چونی لال خود تو شراب نہیں پیتا تھا۔ لیکن ہربنس کا شوق پورا کرنے کے لیے اور اسے شراب نوشی کے ادب آداب سکھانے کے لیے ایک دو دفعہ اسے بھی پینی پڑی۔ لیکن بہت ہی قلیل مقدار میں۔ لڑکے کو شراب پینی آگئی۔ تو اس کا دل کسی اور چیز کو چاہا۔ چونی لال نے یہ بھی مہیا کردی اور کچھ اس انداز سے کہ ہربنس کو جھینپنے کا موقع نہ ملے۔ جب کچھ دن گزر گئے تو چونی لال کو محسوس ہوا کہ ہربنس ہی کی دوستی کافی ہے۔ کیونکہ اسی کے ذریعے سے وہ لوگوں کی سفارشیں پوری کرالیتا تھا۔ ویسے تو شہر میں چونی لال کے اثر و رسوخ کا ہر شخص قائل تھا۔ لیکن جب سے ہربنس اس کے حلقہ واقفیت میں آیا تھا اس کی دھاک اور بھی زیادہ بیٹھ گئی تھی۔ اکثر یہی سمجھتے تھے کہ چونی لال اپنے اثر و رسوخ سے ذاتی فائدہ اٹھاتا ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ اس نے اپنے لیے کبھی کسی سے سفارش نہیں کی تھی۔ اس کو شوق تھا دوسروں کے کام کرنے کا اور انھیں اپنا ممنونِ احسان بنانے کا بلکہ یوں کہیے کہ ان کے دل و دماغ پر کچھ ایسے خیالات۔ طارق کرنے کا کہ بھی کمال ہے۔ ایک معمولی سی نیوز ایجنسی کا مالک ہے لیکن بڑے بڑے حاکموں تک اس کی رسائی ہے۔ بعض یہ سمجھتے تھے کہ وہ خفیہ پولیس کا آدمی ہے۔ جتنے منہ اتنی باتیں، لیکن چونی لال حقیقت میں جو کچھ تھا بہت ہی کم آدمی جانتے تھے۔ ایک کو خوش کیجیے تو بہت سوں کو ناراض کرنا پڑتا ہے۔ چنانچہ چونی لال کے جہاں احسان مند تھے وہاں دشمن بھی تھے اور اس تاک میں رہتے تھے کہ موقعہ ملے اور اس سے بدلہ لیں۔ فسادات شروع ہوئے تو چونی لال کی مصروفیات زیادہ ہو گئیں۔ مسلمان اور ہندوؤں دونوں کے لیے اس نے کام کیا۔ لیکن صرف ان ہی کے لیے جن کا سوسائٹی میں کوئی درجہ تھا۔ اس کے گھر کی رونق بھی بڑھ گئی۔ قریب قریب ہر روز کوئی نہ کوئی سلسلہ رہتا۔ اسٹورروم جو سیڑھیوں کے نیچے تھا۔ شراب اور بیئر کی خالی بوتلوں سے بھرگیا تھا۔ ہربنس کا الھڑ پن اب بہت حد تک دور ہوچکا تھا۔ اب اسے چونی لال کی مدد کی ضرورت نہیں تھی۔ بڑے آدمی کا لڑکا تھا۔ فسادات نے دستر خوان بچھا کر نت نئی چیزیں اس کے لیے چن دی تھیں۔ چنانچہ قریب قریب ہر روز وہ چونی لال کے مکان میں موجود ہوتا۔ رات کے بارہ بجے ہوں گے۔ چونی لال اپنے کمرے میں ریل گاڑی کی سیٹ سے بنائے ہوئے دیوان پر بیٹھا اپنے پستول پر انگلی گھما رہا تھا کہ دروازے پر زور کی دستک ہوئی۔ چونی لال چونک پڑا اور سوچنے لگا۔ بلوائی؟۔ نہیں!۔ راما؟۔ نہیں! وہ تو کئی دنوں سے کرفیو کے باعث نہیں آرہا تھا۔ دروازے پر پھر دستک ہوئی اور ہربنس کی سہمی ہوئی ڈری ہوئی آواز آئی۔ چونی لال نے دروازہ کھولا۔ ہربنس کارنگ ہلدی کے گابھے کی طرح زرد تھا۔ ہونٹ تک پیلے تھے چونی لال نے پوچھا۔

’’کیاہوا؟‘‘

’’وہ۔ وہ۔ ‘‘

آواز ہربنس کے سوکھے ہوئے گلے میں اٹک گئی۔ چونی لال نے اس کو دلاسا دیا۔

’’گھبرائیے نہیں۔ بتائیے کیا ہوا ہے۔ ‘‘

ہربنس نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری۔

’’وہ۔ وہ۔ لہو۔ بند ہی نہیں ہوتا لہو۔ ‘‘

چونی لال سمجھا تھا کہ شاید لڑکی مر گئی ہے۔ چنانچہ یہ سن کر اسے ناامیدی سی ہوئی۔ کیونکہ وہ لاش کو ٹھکانے لگانے کی پوری اسکیم اپنے ہوشیار دماغ میں تیار کر چکا تھا۔ ایسے موقعوں پر جب اس کے گھر میں اس کے مہمان کسی مشکل میں گرفتار ہو جائیں چونی لال کا دماغ غیر معمولی طورپر مستعد ہو جاتا تھا۔ مسکرا کر اس نے ہربنس کی طرف دیکھا جو کہ لرز رہا تھا

’’میں سب ٹھیک کیے دیتا ہوں۔ آپ گھبرائیے نہیں۔ ‘‘

یہ کہہ اس نے اس کمرے کا رخ کیا۔ جس میں ہربنس تقریباً سات بجے سے ایک لڑکی کے ساتھ جانے کیا کرتا رہا تھا۔ چونی لال نے ایک دم بہت سی باتیں سوچیں۔ ڈاکٹر۔ نہیں۔ بات باہر نکل جائے گی۔ ایک بہت بڑے آدمی کی عزت کا سوال ہے اور یہ سوچتے ہوئے اسے عجیب و غریب قسم کی مسرت محسوس ہوتی کہ وہ ایک بہت بڑے آدمی کے ننگ و ناموس کا محافظ ہے۔ راما؟۔ کرفیو کے باعث وہ کئی دنوں سے نہیں آرہا تھا۔ برف؟۔ ہاں برف ٹھیک ہے۔ ریفرجریٹر موجود تھا۔ لیکن سب سے بڑی پریشانی چونی لال کو یہ تھی کہ وہ لڑکیوں اور عورتوں کے ایسے معاملوں سے بالکل بے خبر تھا۔ لیکن اس نے سوچا کچھ بھی ہو۔ کوئی نہ کوئی اوپائے نکالنا ہی پڑے گا۔ چونی لال نے کمرے کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوا۔ ساگوان کے اسپرنگوں والے پلنگ پر ایک لڑکی لیٹی تھی اور سفید چادر خون میں لتھڑی ہوئی تھی۔ چونی لال کو بہت گھن آئی۔ لیکن وہ آگے بڑھا۔ لڑکی نے کروٹ بدلی اور ایک چیخ اس کے منہ سے نکلی۔

’’بھیا!‘‘

چونی لال نے بھینچی ہوئی آواز میں کہا۔

’’روپا!‘‘

اور اس کے دماغ میں اوپر تلے سینکڑوں باتوں کا انبار سا لگ گیا۔ ان میں سب سے ضروری بات یہ تھی کہ ہربنس کو پتا نہ چلے کہ روپا اس کی بہن ہے چنانچہ اس نے منہ پر انگلی رکھ کر روپا کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور باہر نکل کر معاملے پر غور کرنے کیلیے دروازہ کی طرف بڑھا۔ دہلیز میں ہربنس کھڑا تھا۔ اس کا رنگ اب پہلے سے بھی زرد تھا۔ ہونٹ بالکل بے جان ہو گئے تھے۔ آنکھوں میں وحشت تھی۔ چونی لال کو دو بدو دیکھ کر وہ پیچھے ہٹ گیا۔ چونی لال نے دروازہ بھیڑ دیا۔ ہربنس کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔ چونی لال خاموش تھا۔ اس کے چہرے کا کوئی خط بگڑا ہوا نہیں تھا۔ اصل میں وہ سارے معاملے پرغور کررہا تھا۔ اس قدر لعمق سے غور کررہا تھا کہ وہ ہربنس کی موجودگی سے بھی غافل تھا۔ مگر ہربنس کو چونی لال کی غیر معمولی خاموشی میں اپنی موت دکھائی دے رہی تھی۔ چونی لال اپنے کمرے کی طرف بڑھا تو ہربنس زور سے چیخا اور دوڑ کر اس میں داخل ہوا۔ بہت ہی زور سے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے ریل گاڑی کی سیٹ والے دیوان پر سے پستول اٹھایا اور باہر نکل کر چونی لال کی طرف تان دیا۔ چونی لال پھر بھی کچھ نہ بولا وہ ابھی تک معاملہ سلجھانے میں مستغرق تھا۔ سوال ایک بہت بڑے آدمی کی عزت کا تھا۔ پستول ہربنس کے ہاتھ میں کپکپانے لگا۔ وہ چاہتا تھا کہ جلد فیصلہ ہو جائے۔ لیکن وہ اپنی پوزیشن صاف کرنا چاہتا تھا۔ دونوں چونی لال اور ہربنس کچھ دیر خاموش رہے۔ لیکن ہربنس زیادہ دیر تک چپ نہ رہ سکا۔ اس کے دل و دماغ میں بڑی ہلچل مچی ہوئی تھی۔ چنانچہ ایک دم اس نے بولنا شروع کیا۔

’’میں۔ میں۔ مجھے کچھ معلوم نہیں۔ مجھے بالکل معلوم نہیں تھا کہ یہ۔ کہ یہ تمہاری بہن ہے۔ یہ ساری شرارت اس مسلمان کی ہے۔ اس مسلمان سب انسپکٹر کی۔ کیا نام ہے اس کا۔ کیا نام ہے اس کا۔ محمد طفیل۔ ہاں ہاں محمد طفیل۔ نہیں نہیں۔ بشیر احمد۔ نہیں نہیں محمد طفیل۔ وہ طفیل جس کی ترقی تم نے رکوائی تھی۔ اس نے مجھے یہ لڑکی لا کر دی اور کہا مسلمان ہے۔ مجھے معلوم ہوتا تمہاری بہن ہے تو کیا میں اسے یہاں لے کر آتا۔ تم۔ تم۔ تم بولتے کیوں نہیں۔ تم بولتے کیوں نہیں۔ ‘‘

اور اس نے چلانا شروع کردیا۔

’’تم بولتے کیوں نہیں۔ تم مجھ سے بدلہ لینا چاہتے ہو۔ تم مجھ سے بدلہ لینا چاہتے ہو۔ لیکن میں کہتا ہوں مجھے کچھ معلوم نہیں تھا۔ مجھے کچھ معلوم نہیں تھا۔ مجھے کچھ معلوم نہیں تھا۔ ‘‘

چونی لال نے ہولے سے کہا۔

’’گھبرائیے نہیں۔ آپ کے پتا جی کی عزت کا سوال ہے۔ ‘‘

لیکن ہربنس چیخ چلا رہا تھا۔ اس نے کچھ نہ سنا اور کانپتے ہوئے ہاتھوں سے پستول داغ دیا۔ تیسرے روز کرفیو ہٹنے پر چونی لال کے دو نوکروں نے موڈرن نیوز ایجنسی کا اسٹال کھولا۔ تازہ اخبار اپنی اپنی جگہ پر رکھے۔ چونی لال کے لیے اخباروں اور رسالوں کا ایک بنڈل باندھ کر الگ رکھ دیا مگر وہ نہ آیا۔ کئی راہ چلتے آدمیوں نے تازہ اخباروں کی سرخیوں پر نظر ڈالتے ہوئے معلوم کیا کہ موڈرن نیوز ایجنسی کے مالک چونی لال نے اپنی سگی بہن کے ساتھ منہ کالا کیا اور بعد میں گولی مارکر خود کشی کرلی۔

سعادت حسن منٹو
(Visited 1 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں