جہاں میں نہیں تھا ــــــــ کامران الصوفی

پہاڑی پودینے کے خوشبو دار کچّے راستے پر جہاں تمہارے قدموں نے سوکھے پتّوں کوچرمرایا تھا… سنو وہاں میں تھا ۔۔۔۔ گندم کے کھیت کی انسانی ھمک نے جب تمہیں بہکایا تھا… سنو وہاں میں تھا ۔۔۔۔ اُس رات جب ..مزید پڑھیں

لاہور ڈائری (سلسلہ وار) —- کامران الصوفی

لاہور کے رومانس نے دم توڑا تو تلخابۂِ حیات گھونٹ گھونٹ اندر اتارنے کا مرحلہ درپیش تھا۔ خیالات کی فسوں خیزی چھٹ چکی تو میں نے اپنی جیب کو خالی اور آنکھوں کو بھرا پایا۔   پونچھ روڈ پر غزالہ ..مزید پڑھیں

اُس رات کا فسوں —- کامران الصوفی

اُن دریچوں پر رات اُترتی تھی اور میں “کھارا” سوڈا کا گلاس پکڑے منہ کھولے حیرت اور سرخوشی کے عالم میں اُس طرف دیکھتا تھا۔ ہلکی سی طبلے کی آواز, نُوگزے مزار کی خوشبو اور سبز اندھیرا بھی اس منظر ..مزید پڑھیں