برمی لڑکی

گیان کی شوٹنگ تھی۔ اس لیے کفایت جلدی سو گیا۔ فلیٹ میں اور کوئی نہیں تھا بیوی بچے راولپنڈی چلے گئے تھے ہمسایوں سے اسے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ یوں بھی بمبئی میں لوگوں کو اپنے ہمسایوں سے کوئی سروکار ..مزید پڑھیں

برقعے

ظہیر جب تھرڈ ایئر میں داخل ہوا تو ایک اس نے محسوس کیا کہ اسے عشق ہو گیا ہے۔ اور عشق بھی بہت اشد قسم کا۔ جس میں اکثر انسان اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ وہ کالج ..مزید پڑھیں

برف کا پانی

’’یہ آپ کی عقل پر کیا پتھر پڑ گئے ہیں‘‘ ’’میری عقل پر تو اُسی وقت پتھر پڑ گئے تھے جب میں نے تم سے شادی کی بھلا اس کی ضرورت ہی کیا تھی اپنی ساری آزادی سلب کرالی۔ ’’جی ..مزید پڑھیں

بڈھا کھوسٹ

یہ جنگ عظیم کے خاتمے کے بعدکی بات ہے جب میرا عزیز ترین دوست لیفٹیننٹ کرنل محمد سلیم شیخ ( اب ) ایران ٗ عراق اور دوسرے محاذوں سے ہوتا ہوا بمبئے پہنچا۔ اُس کو اچھی طرح معلوم تھا، میرا ..مزید پڑھیں

بدصورتی

ساجدہ اورحامدہ دو بہنیں تھیں۔ ساجدہ چھوٹی اور حامدہ بڑی۔ ساجدہ خوش شکل تھی۔ ان کے ماں باپ کو یہ مشکل درپیش تھی کہ ساجدہ کے رشتے آتے مگر حامدہ کے متعلق کوئی بات نہ کرتا۔ ساجدہ خوش شکل تھی ..مزید پڑھیں

بدتمیزی

’’میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ کو کیسے سمجھاؤں‘‘ ’’جب کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو اس کو سمجھانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیئے‘‘ ’’آپ تو بس ہر بات پر گلا گھونٹ دیتے ہیں۔ آپ نے یہ تو ..مزید پڑھیں

بجلی پہلوان

بجلی پہلوان کے متعلق بہت سے قصے مشہور ہیں‘ کہتے ہیں کہ وہ برق رفتار تھا۔ بجلی کی مانند اپنے دشمنوں پر گرتا تھا اور انھیں بھسم کر دیتا تھا لیکن جب میں نے اسے مغل بازار میں دیکھا تو ..مزید پڑھیں

بادشاہت کا خاتمہ

ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ من موہن پاس ہی بیٹھا تھا۔ اس نے ریسیور اٹھایا اور کہا ’’ہیلو۔ فور فور فور فائیو سیون دوسری طرف سے پتلی سی نسوانی آواز آئی۔ ’’سوری۔ رونگ نمبر‘‘ من موہن نے ریسیور رکھ دیا ..مزید پڑھیں

بانجھ

میری اور اُس کی ملاقات آج سے ٹھیک دو برس پہلے اپولو بندر پر ہُوئی شام کا وقت تھا۔ سورج کی آخری کرنیں سمندر کی اُن دراز لہروں کے پیچھے غائب ہو چکی تھی۔ جو ساحل کے بنچ پر بیٹھ ..مزید پڑھیں