بادشاہت کا خاتمہ

ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ من موہن پاس ہی بیٹھا تھا۔ اس نے ریسیور اٹھایا اور کہا ’’ہیلو۔ فور فور فور فائیو سیون دوسری طرف سے پتلی سی نسوانی آواز آئی۔ ’’سوری۔ رونگ نمبر‘‘ من موہن نے ریسیور رکھ دیا ..مزید پڑھیں

بانجھ

میری اور اُس کی ملاقات آج سے ٹھیک دو برس پہلے اپولو بندر پر ہُوئی شام کا وقت تھا۔ سورج کی آخری کرنیں سمندر کی اُن دراز لہروں کے پیچھے غائب ہو چکی تھی۔ جو ساحل کے بنچ پر بیٹھ ..مزید پڑھیں

ایک خط

تمہارا طویل خط ملا جسے میں نے دو مرتبہ پڑھا۔ دفتر میں اس کے ایک ایک لفظ پر میں نے غور کیا۔ اور غالباً اسی وجہ سے اس روز مجھے رات کے دس بجے تک کام کرنا پڑا۔ اس لیے ..مزید پڑھیں

آنکھیں

اس کے سارے جسم میں مجھے اس کی آنکھیں بہت پسند تھیں۔ یہ آنکھیں بالکل ایسی ہی تھیں جیسے اندھیری رات میں موٹر کارکی ہیڈ لائیٹس جن کو آدمی سب سے پہلے دیکھتا ہے۔ آپ یہ نہ سمجھیے گا کہ ..مزید پڑھیں

ایکٹریس کی آنکھ

’’پاپوں کی گٹھڑی‘‘ کی شوٹنگ تمام شب ہوتی رہی تھی، رات کے تھکے ماندے ایکٹر لکڑی کے کمرے میں جو کمپنی کے ولن نے اپنے میک اپ کے لیے خاص طور پرتیار کرایا تھا اور جس میں فرصت کے وقت ..مزید پڑھیں

اولاد

جب زبیدہ کی شادی ہوئی تو اس کی عمر پچیس برس کی تھی۔ اس کے ماں باپ تو یہ چاہتے تھے کہ سترہ برس کے ہوتے ہی اس کا بیاہ ہو جائے مگر کوئی مناسب و موزوں رشتہ ملتا ہی ..مزید پڑھیں

انار کلی

نام اُس کا سلیم تھا مگر اس کے یار دوست اسے شہزادہ سلیم کہتے تھے۔ غالباً اس لیے کہ اس کے خدو خال مغلئی تھے خوبصورت تھا۔ چال ڈھال سے رعونت ٹپکتی تھی۔ اس کا باپ پی ڈبلیو ڈی کے ..مزید پڑھیں

آم

خزانے کے تمام کلرک جانتے تھے کہ منشی کریم بخش کی رسائی بڑے صاحب تک بھی ہے۔ چنانچہ وہ سب اس کی عزت کرتے تھے۔ ہر مہینے پنشن کے کاغذ بھرنے اور روپیہ لینے کے لیے جب وہ خزانے میں ..مزید پڑھیں

افشائے راز

’’میری لگدی کسے نہ ویکھی‘ تے ٹٹدی نوں جگ جاندا‘‘ ’’یہ آپ نے گانا کیوں شروع کر دیا ہے‘‘ ’’ہر آدمی گاتا اور روتا ہے۔ کونسا گناہ کیا ہے؟‘‘ ’’کل آپ غسل خانے میں بھی یہی گیت گا رہے تھے‘‘ ..مزید پڑھیں