شریفن

جب قاسم نے اپنے گھر کا دروازہ کھولا۔ تو اسے صرف ایک گولی کی جلن تھی جو اس کی دہنی پنڈلی میں گڑ گئی تھی۔ لیکن اندر داخل ہو کر جب اس نے اپنی بیوی کی لاش دیکھی تو اس ..مزید پڑھیں

شراب

’’آپ کے منہ سے بُو کیوں آ رہی ہے‘‘ ’’کیسی بو؟‘‘ ’’جیسی پہلے آیا کرتی تھی۔ مجھے بنانے کی کوشش نہ کیجیے‘‘ ’’لاحول ولا، تم بنی بنائی ہو، تمھیں کون بنا سکتا ہے‘‘ ’’آپ بات ٹال کیوں رہے ہیں؟ ’’میں ..مزید پڑھیں

شاردا

نذیر بلیک مارکیٹ سے وسکی کی بوتل لانے گیا۔ بڑک ڈاک خانے سے کچھ آگے بندر گاہ کے پھاٹک سے کچھ ادھر سگرٹ والے کی دکان سے اس کو اسکوچ مناسب داموں پر مل جاتی تھی۔ جب اس نے پینتیس ..مزید پڑھیں

شانتی

دو نوں پیرے ژین ڈیری کے باہر بڑے دھاریوں والے چھاتے کے نیچے کرسیوں پربیٹھے چائے پی رہے تھے۔ ادھر سمندر تھا جس کی لہروں کی گنگناہٹ سنائی دے رہی تھی۔ چائے بہت گرم تھی۔ اس لیے دونوں آہستہ آہستہ ..مزید پڑھیں

شادی

جمیل کو اپنا شیفر لائف ٹائم قلم مرمت کے لیے دینا تھا۔ اس نے ٹیلی فون ڈائریکٹری میں شیفر کمپنی کا نمبر تلاش کیا۔ فون کرنے سے معلوم ہوا کہ ان کے ایجنٹ میسرز ڈی، جے، سمتوئر ہیں جن کا ..مزید پڑھیں

شاداں

خان بہادر محمد اسلم خان کے گھرمیں خوشیاں کھیلتی تھیں۔ اورصحیح معنوں میں کھیلتی تھی۔ ان کی دو لڑکیاں تھیں۔ ایک لڑکا۔ اگر بڑی لڑکی کی عمرتیرہ برس کی ہو گی تو چھوٹی کی یہی گیارہ ساڑھے گیارہ۔ اور جو ..مزید پڑھیں

سونے کی انگوٹھی

’’چھتے کا چھتہ ہو گیا آپ کے سر پر۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ بال نہ کٹوانا کہاں کا فیشن ہے۔ ‘‘ ’’فیشن ویشن کچھ نہیں۔ تمہیں اگر بال کٹوانے پڑیں تو قدرِ عافیت معلوم ہو جائے۔ ‘‘ ’’میں ..مزید پڑھیں

سونورل

بشریٰ نے جب تیسری مرتبہ خواب آور دوا سونورل کی تین ٹکیاں کھا کر خود کشی کی کوشش کی تو میں سوچنے لگا کہ آخر یہ سلسلہ کیا ہے۔ اگر مرنا ہی ہے تو سنکھیا موجود ہے۔ افیم ہے۔ ان ..مزید پڑھیں

سوراج کے لیے

مجھے سن یاد نہیں رہا۔ لیکن وہی دن تھے۔ جب امرتسر میں ہر طرف ’’انقلاب زندہ باد‘‘ کے نعرے گونجتے تھے۔ ان نعروں میں، مجھے اچھی طرح یاد ہے، ایک عجیب قسم کا جوش تھا۔ ایک جوانی۔ ایک عجیب قسم ..مزید پڑھیں

سودا بیچنے والی

سہیل اورجمیل دونوں بچپن کے دوست تھے۔ ان کی دوستی کو لوگ مثال کے طور پر پیش کرتے تھے۔ دونوں اسکول میں اکٹھے پڑھے۔ پھر اس کے بعد سہیل کے باپ کا تبادلہ ہو گیا اور وہ راولپنڈی چلا گیا۔ ..مزید پڑھیں