چیمپئنز ٹرافی جیت کر میں نے قوم کا قرض اتار دیا۔ محمد عامر

Exclusive-interview-M.Amir-Cricketer-aajkal-google

http://www.espncricinfo.com/video/clip?id=21456024
بنگلہ دیش پریمیئر لیگ کیلئے جانے سے پہلے نمائندہ خصوصی ‘کریک انفو’ سے پاکستانی فاسٹ باؤلر محمد عامر کی غیر رسمی ملاقات۔
انٹرویو منجانب: عمر فاروق
ترجمہ: عبدالعلیم نجم (آج کل نیوز)

سوال: 5 سالہ پابندی کے بعد جب آپ نے پہلے بال کروائی۔۔۔ کچھ یادیں شیئر کریں اپنے چاہنے والوں کے ساتھ؟۔
عامر: میرے اوپر شدید دباو تھا۔ ان پانچ سالوں میں بلکل بھی کرکٹ نہیں کھیلی تھی۔ مجھے لگتا تھا کہ میں نے ان پانچ سالوں صرف پانچ میچ کھیلے تھے۔ جو ایک فاسٹ باولر کے لیے ایک مشکل کام ہے۔ نیوزی لینڈ میں صورت حل کافی گھمبیر تھی۔ اس لیے میرے اوپر کافی دباو تھا۔ لیکن خدا کا شکر ہے کہ میں نے اچھا پرفارم کرپایا اور مجھے شاہد بھائی کی بطور کپتان حمایت حاصل تھی۔ جس نے مجھے کافی حوصلہ دیا۔ اگرچہ میں بہت اچھا پرفارم نہیں کر پایا۔ لیکن پھر بھی یہ بہت بہتر تھا۔

سوال: آج کا عامر 2010 والے عامر سے کتنا مختلف ہے۔ کیا آپ کو لگتا ہےکہ کیا آپ ایک مختلف قسم کے کھیل میں واپس آئے ہیں یا آپ پہلے سے 1مختلف باؤلر کے طور پر واپس آئے ہیں؟
عامر: پہلی بات تو یہ ہے اگر میرے علاوہ اردگرد کے لوگوں پر نظر ڈالیں تو آپ دیکھیں گے کہ ہر ایک جیسے جیسے بڑا ہوتا ہے۔ تووہ اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے۔ جب 16 یا 17 سال کے ہوتے ہیں تو آپ سمجھتے ہیں کہ آپ جو کر رہیں ہے۔ وہ ٹھیک ہے۔ لیکن جب آُپ 20 سال کے ہوتے ہیں تو آُپ کو 18 یا 17 سال کی عمر میں کی گئی اپنی غلطیوں کا احساس ہوتا ہے۔ کیونکہ ہم عمر کے ساتھ سیکھتے ہیں۔ میں اب سیکھ رہا ہوں اور بہتر طور پر دیکھ سکتا ہوں کہ میرے لیے کیا بہتر
ہے کیا نہیں۔

سوال: کیا آپ کو لگتا ہے کہ کرکٹ خاص طور پر آپکی کرکٹ تبدیل ہوئی ہے؟
عامر: کرکٹ تھوڑی نہیں بلکہ بہت زیادہ بدل چکی ہے۔ اب دونوں طرف سے دو نئی گیندیں ہوتی ہیں۔ آج سے پہلے 30 گز کے دائرے سے باہر 4 سے 5باؤلر کی پابندی نہیں ہوتی تھی۔ کرکٹ آج سے پہلے اتنی تیز رفتار نہیں تھی۔ جتنی آج ہے۔ تب 290 سے 300 کے سکور کا حدف کافی ہوتا تھا۔ لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ اب 300 سے زیادہ بھی کافی نہیں ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ اب ٹی20 کرکٹ بہت زیادہ ہے۔

M.Amir_interview_cricket_aajkal_google1

سوال: پاکستانی کرکٹ شائقین کو 2010 کی وہ سیریز آج بھی یاد ہے۔ جس میں آپ کی بال بہت زیادہ سونگ کر رہی تھی۔ لیکن اب لوگ سمجھتے ہیں کہ جب سے آپ ٹیم میں واپس آئے ہیں۔ آپ کی سوئنگ پہلے جیسی نہیں رہی۔ کیا آپ کو بھی ایسا ہی لگتا یا یہ ایک ٹیکنیکل چیز ہے۔ جسے محنت سے والپس حاصل کیا جا سکتا ہےِ؟
عامر: نہیں مجھے ایسا نہیں لگتا کہ میری سونگ میں کمی آئی ہے۔ وہ اس لیے کہ سوئنگ کا انحصار کنڈیشنز پر ہوتا ہے۔ اگر کنڈیشنز باؤلر کے مطابق ہوں تو وہ زیادہ سوئنگ کر پاتا ہے۔ اگر آپ اس سال ہونے والی چیمئینز ٹرافی کو دیکھیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ کوئی باؤلر بھی سوئنگ نہیں کروا پایا تھا۔ لیکن ویسٹ انڈیزمیں ٹیسٹ سیریز کے دوران کنڈیشنز میرے حق میں تھیں اور میں سوئنگ کر پایا۔ بنگلہ دیش میں ایشیا کپ کھیلتے ہوئے بھی پچ کنڈیشنز میرے لیے اچھی تھی۔ جب آپ کا سامنا ایک فلیٹ پچ سے ہو تو آپ کیسے سوئنگ کروا سکتے ہو؟
لیکن بحثیت باؤلر میں یہ ضرور کہوں گا کہ ٹیکنکل مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ جب آپ 5 سال بعد باؤلنگ کرواتے ہیں تو آپ بھول چکے ہوتے ہیں کہ آپ کے کندھے اور کلائی کی پوزیشن کیا ہونی چاہیے۔ یہ کسی بھی باؤلر کے ساتھ ہو سکتا ہے اور یہ میرے ساتھ بھی ہوا اور میں اس پر محنت بھی کر رہا ہوں تاکہ کے اسے بہتر بنا سکوں۔

سوال: حال ہی میں مکی آرتھر نے آپکی باؤلنگ کے بارے بات کرتے ہوے کہا ہے کہ آپ کی ٹیسٹ میں باؤلنگ لینتھ جتنی ہونی چاہیے۔ اس سے قدرے چھوٹی ہے۔ اس کی ایک وجہ مخصوص اورز کے میچ ہو سکتے ہیں جو آپ کھیلتے آئے ہیں۔ کیا آپ کو بھی ایسا ہی لگتا ہے؟
عامر: جی ایسا ہی ہے۔ میں نے جب انگلنڈو کے خلاف ٹیسٹ میں واپسی کی۔ تب میں 5 سال بعد ٹیسٹ فارمیٹ کھیل رہا تھا۔ تب میری باولنگ لینتھ واقعی چھوٹی تھی۔ لیکن ویسٹ انڈٰیز کے خلاف باؤلنگ دیکھیں تو میں نے بال کو مزید اٹھانا شروع کر دیا تھا اور میں نے 6 وکٹیں لیں۔ اس سے پہلے میں صرف 5 فرسٹ کلاس میچ کھیلے تھے۔ لیکن میرے ٹیسٹ کے 12 سے 18 ماہ دورانیے میں 16 سے 18 کیچ ڈراپ کیے گےر اور یہ بات اہمیت رکھتی ہے۔ کیونکہ میچ کے بعد پوچھتے ہیں کہ میں نے وکٹیں کیوں نہیں لیں، لیکن ان کیچز کا کیا ہوگا جو ڈراپ کیے گئے۔
کیا ہوتا اگر ان 17 کیچز میں سے 10 پکڑ لیے جاتے؟ اگر وہ سب کیچ پکڑے جاتے اور ڈراپ نا ہوتے تو میری اوسط آج 20 سے 23 ہوتی۔ میں جانتا ہوں کہ لوگوں کی ہم سے بہت زیادہ امیدیں ہوتی ہیں لیکن آخر میں قسمت بہت اہمیت رکھتی ہے۔ جو پچھلے سال میرے ساتھ نہیں تھی۔

مزید پڑھیں۔  وزیراعظم عمران خان کل لاہور کا ایک روزہ دورہ کریں گے

M.Amir_interview_cricket_aajkal_google2

M.Amir_interview_cricket_aajkal_google3

سوال: کیچز کا ڈراپ ہونا آپ کے لیے کتنا مایوس کن ہے؟
عامر: بہت زیادہ مایوس کن ہوتا ہے۔ کیونکہ باؤلر کی سخت محنت کے بعد اگر کیچ چھوڑ دیا جائے تو سب برباد ہو جاتا ہے۔ لیکن کوئی بھی جان بوجھ کر کیچ نہیں چھوڑتا۔ کیونکہ اس سے فیلڈر بھی مایوس ہوجاتا ہے۔ لیکن آخر کو یہ سب کھیل کا حصہ ہے۔

سوال: آپ نے چیمئینز ٹرافی کے فائنل میں جو 2 گیندیں ورات کوہلی کروائیں۔ ایک پر کیچ ڈراپ ہوا اور دوسری پر وکٹ لینے میں کامیاب ہوئے۔ اس حوالے سے اپنے جذبات سے ہمیں آگاہ کریں۔
عامر: ہر کوئی جانتا ہے کہ اگر آپ کوہلی کو آؤٹ کر لیتے ہیں تو انڈیا کی جیت کے چانسز 50 فیصد ہوتے ہیں۔ لیکن جب تک کوہلی کھیل رہا ہے تب تک انڈیا کی جیت کے چانسز 70 سے 80 فیصد ہوتے ہیں۔ اگر آُپ کوہلی کی حدف حاصل کرنے کی شرح دیکھیں تو وہ دنا میں سب سے اوپر ہے۔ جب کوہلی کا کیچ ڈراپ ہوا تو ایمانداری سے بتاؤں تو مجھے لگا کہ ہم آدھا میچ ہار چکے ہیں۔ کیونکہ وہ ایسا بیٹسمین ہے کہ اگر آُپ اسے ایک موقع دیں۔ تو وہ 100سے کم رن نہیں بناتا۔ تب کیچ ڈراپ ہونے کے بعد میں نے سوچا کہ کہ کوہلی ان سوئنگ بال کی توقع کر رہا ہوگا۔ کیونکہ پہلی بال آؤٹ سوئنگ تھی۔ لیکن میں اسے پھر سے ویسی ہی بال کراونا چاہ رہا تھا۔ اگر آپ اس میچ کے کلپس دیکھیں تو پتا چلے گا کہ کوہلی میری دوسری بال جس پر آؤٹ ہوا تھا۔ اس کو آؤٹ سوئنگ سمجھ کر ہی کھیلنا چاہتاتھا۔

سوال: انڈٰیا اور دوسری کسی بھی ٹیم کے ساتھ کھیلنے میں کیا فرق ہے؟
عامر: آسڑیلیا اور انڈیا دو ایسی ٹٰیمیں ہیں جن کے خلاف کیھلتے ہوئے میری انرجی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ میں ان دونوں ٹیموں کے خلاف بہت پرجوش ہوتا ہوں اور کچھ مخلتف کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ایسا فطرتی ہے کیونکہ یہ دونوں ٹیمیں ہی کافی مضبوط ہیں۔ بحثیت پاکستانی ہر کوئی یہ سوچتا ہے کہ اگر آُپ نے انڈٰیا کے خلاف اچھا پرفارم کر لیا تو آپکی شہرت آسمان تک پہنچ جاتی ہے۔ اگر آُپ پانچ میچوں میں پرفارم نہیں کر پائے تو انڈیا کے خلاف پرفارم کر لیں وہی سال بھر کے لیے آپکی پرفارمنس کو بڑہا دے گی۔

سوال: آپ کیسا محسوس کریں گے کہ اگر انڈیا کے خلاف ایک بھی مکمل سیریز کھیلے بغیر آپ رٹائر ہوگئے تو؟ کیونکہ فل حال دونوں طرف سے کوئی مستقل سیریز نہیں کھیلی جا رہی ہے۔
عامر: دیکھو میرا ہمیشہ سے یہ یقین رہا ہے کہ ہمارے پاس جو ہے اس کے لیے ہمیشہ شکرگزار رہنا چاہیے۔ ہم کرکٹ کھیل رہے ہیں اور میرے لیے یہی کافی ہے۔ میں انڈیا آسٹریلیا کے خلاف اپنے ملک کے نمائندگی کر رہا ہوں اور یہی میرے لیے کافی ہے۔ ہاں یہ بھی ہے کہ انڈٰیا کے خلاف دی ہوئی پرفارمنس ساری زندگی آپ کے ساتھ رہتی ہے کہ عامر نے انڈٰیا کے خلاف یہ کیا یا وہ کیا۔ جیسے سعید انور بھائی کی پرفارمنس آج بھی ہر کسی کو یاد ہے۔ میرا یہ ماننا ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کے خلاف کھیلنا چاہیے کیونکہ ایک دوسرے کے خلاف کھیلتے ہوئے ہم دباؤ میں کھیلنا سیکھ سکتے ہیں۔ جو دوسری ٹیموں کے خلاف کھیلنے میں مدد دے گا۔

M.Amir_interview_cricket_aajkal_google6

M.Amir_interview_cricket_aajkal_google5

سوال: آپ کی ٹیم میں واپسی کے بعد آپکے ٹیم میں دیگر کھیلاڑیوں کے ساتھ تعلقات کیسے ہیں؟
عامر: یقین مانیں ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیں اور ہمارے ارد گرد ماحول بہت پرسکون ہے۔ ہم سب جوان ہیں اور سب ہی مختلف سطحوں پر ایک دوسرے کے ساتھ کھیل چکے ہیں۔ انڈر 19 میں اگر آپ مجھے عماد اور وسیم کو دیکھیں تو بابر ہمارا جونیئر تھا۔ سرفراز بھائی کے ساتھ بھی معاملات بہت اچھے ہیں۔

سوال: جب آپ ٹیم میں واپس آئے تو پی سی بی نے شعیب ملک کو آپ کا گُرو (منٹور) مکرر کیا تھا۔ شعیب نے آپکو کس طرح سے متاثر کیا؟
عامر: آپ جانتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم میں اگر کوئی شخص ہے جسکی میں پیروی کرنا چاہتا ہوں۔ تو وہ شعیب بھائی ہیں۔ میں ان کی شخصیت کی طرف دیکھتا ہوں جو اب بہت حد تک قابل تقلید ہے۔ وہ اچھا بولنا جانتے ہیں وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ جونیئر اور سینئرز سے کس طرح سے بات کرنی ہے۔

سوال: جب آپ دوسرے ملکوں میں کھیلنے گئے تو کس طرح سے آپ کا استقبال کیا گیا خاص طور پر آپ کے ساتھ ان کا رویہ کیسا تھا؟
عامر: ایمانداری سے بتاؤں تو جب ہم آسٹریلیا کے خلاف کھیلنے گئے تو میں جانتا تھا آسڑیلوی مخالف کھلاڑی کا مزاق اڑانے یا ہتک کے لیے بہت مشہور ہیں۔ لیکن انہوں نے میرے ساتھ بہت اچھا رویہ رکھا۔ اور میں بہت حیران ہوا۔ مچل سٹارک کے ساتھ میری گالم گلوچ بھی ہوئی لیکن باقی لوگ جیسا کہ وارنر، سمتھ اور جوش، ان سب لوگوں کا میرے ساتھ رویہ اچھا تھا۔

سوال: ٹٰیم میں واپسی کے بعد باقی تمام فاسٹ باؤلرز میں سے آپ پر کام کا بوجھ سب سے زیادہ ہے۔ یہ سب کتنا مشکل ہے؟
عامر: یہ بہت مشکل ہے۔ کیونکہ اپنی واپسی کے بعد میں ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی20 تینوں فارمیٹس مسلسل کھیل رہا ہوں۔ ایک فاسٹ باؤلر کے لیے یہ سب اور بھی مشکل ہوجاتا ہے جب وہ 5 سال بغیر کھیلے واپس آئے۔ اور میں سمجھتا ہوں کے یہ بہت زیادہ ہے میرے لیے۔ اور میں اب سوچتا ہوں کہ مجھے سلیکٹرز سے بات کرنی چاہیے تھی کہ مجھے فل حال یہ فارمیٹس کھیلنے ہیں۔ یعنی ٹی20 اور ون ڈے پہلے کھیلتا اور ٹٰیسٹ بعد میں کتاللی۔ میں نے بغیر کسی ٹریننگ کے کیھلنا شروع کر دیا تھا۔

مزید پڑھیں۔  تحریک انصاف کو قومی اسمبلی کی 110 نشستوں کے ساتھ برتری حاصل، سرکاری نتائج

سوال: ایسی کچھ افواہیں گردش میں ہیں کہ آُپ ٹیسٹ کرکٹ چھوڑکر صرف مخصوص اورز(ٹی20 اورون ڈے) کی کرکٹ ہی کھیلنا چاہتے ہیں۔
عامر: جھے نہیں معلوم کہ ایسی باتیں کہاں سے آرہی ہیں۔ ایسا نہیں تھا کہ میں ٹیسٹ چھوڑنا چاہتا ہوں بلکہ میں انہیں مینج کرنا چاہتا تھا اور اس حوالے سے میں نے مینجمنٹ سے بات بھی کی تھی۔ کوئی ایسی پالیسی ہونی چاہیے کہ جس سے کھیلاڑیوں کو آرام دیا جا سکے۔ جیسے مختلف کھلاڑیوں کو مخصوص وقت کے لیے ایک دوسرے سے بدل دیا جائے اور ایسا مینجمنٹ نے کیا بھی ہے جو ایک خوش کن بات ہے۔ نئے لڑکے ٹٰیم میں آ رہے ہیں اور انہیں کھیلنے کا موقع بھی مل رہا ہے اور ایسا اس وقت ممکن ہے جب آپ کے پاس پہلے گیارہ کھلاڑیوں کے علاوہ بھی اچھے لڑکے ہوں۔ آپ مچل سٹارک کو ہی دیکھ لیں اگر وہ ایک ٹیسٹ سیریز مکمل کھیلتا ہے تو اسے ون ڈے سے آرام دیا جائے گا۔ اسے روٹیشن پالیسی کہتے ہیں۔ میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں ریٹائر ہونا چاہتا ہوں بلکہ میں صرف مینج کرنے کی بات کی تھی۔

M.Amir_interview_cricket_aajkal_google9

سوال: لہذا کیا حکمت عملی ہے؟ آپ کیسے مینج کریں گے؟
عامر: اگر ایک مین باؤلر ہے تو وہ پانچ ٹیسٹ نہیں کھیل سکتا۔ اگر وہ 3سے 4 کھیل سکتا ہے تو اسے ریسٹ کرنا چاہیے۔ بہرحال ہم انسان ہیں کوئی مشین نہیں ہیں۔ ہمارے جسم کو بھی آرام کی ضروت ہوتی ہے اور روٹیشن پالیسی سے آپکے جسم کو ریکور کرنے کا وقت ملتا ہے۔

سوال: یہ صرف ٹیسٹ نہیں ہیں۔ یہ ون ڈے بھی تو ہو سکتے ہیں؟
جی ہاں یہ سب مینجمنٹ سے متعلق ہے۔ اگر میں ٹیسٹ کھیلتا ہوں تو مجھے ون ڈے سے آرام دیا جانا چاہیے اور اگر میں ون ڈے کھیلتا ہوں تو مجھے ٹیسٹ سے آرام ملنا چاہیے۔ اور یہ آرام کوئی بیڈ ریسٹ نہیں ہے۔ اس وقت میں آپ اپنے آپکو ریکور کروںگا۔

سوال: آپ ایک لمبے عرصے تک کرکٹ سےباہر رہے پھر واپس آئے اور اپنی ایک جگہ بنائی اس سب کے بعد کوئی زاتی مقصد جسے آُپ حاصل کرنا چاہتے ہوں؟
عامر: بحثیت باؤلر مقصد بدلتا نہیں ہے۔ وہ ہمیشہ ایک ہی رہتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ وکٹیں لی جائیں اور اپنا ایک نام پیدا کیا جائے۔ پہلے میں سوچا کرتا تھا کہ مجھے 700 وکٹس حاصل کرنی ہیں۔ لیکن اب ایسا ممکن نہیں ہے کیونکہ میں اپنے کرئیر کے پانچ سال ضائع کر چکا ہوں۔ اب ایسا ممکن نہیں ہے کہ میں مزید 15 سال تک کھیل سکوں۔ جتنی کرکٹ اب ہم کھیل رہیں اس میں آرام مل پانے کے باعث اب ایسا ممکن نہیں ہے۔ اور اس بات کا بھی کوئی یقین نہیں کہ میں زخمی ہوئے بغیر اگلے پانچ سال کرکٹ کھیل سکوں۔ 2019 کا ورلڈ کپ میرا ٹارگٹ ہے اور میں اس میں کچھ بڑا کرنا چاہتا ہوں کہ جس سے میں تاریخ میں ہمیشہ کے لیے یاد رکھا جاؤں۔

سوال: آپ اپنے پارٹنر باؤلر کے طور پر محمد آصف کو کتنا یاد کرتےہیں؟
عامر: مسکراتے ہوئے۔ ایمانداری سے بات کروں تو میں اس وقت آصف کے بارے میں بات نہیں کر سکتا۔ میں اس وقت خوش ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے اہلیت کی بنیاد پر وہ پاکستانی کرکٹ میں ایک خطرناک باؤلر تھا۔ ایک جوڑے کے طور پر ہم دونوں نے جب بھی باؤلنگ کی ہم حریف کے لیے خطرناک ثابت ہوئے۔ وہ وکٹیں لیتا تھا۔ ٹیسٹ میں تیز ترین 100 وکٹوں کا ریکارڈ آصف کا ہی تھا جسے بعد میں سعید اجمل اور یاسر شاہ نے توڑا۔ لہذا آصف کی اہلیت میں کوئی شک نہیں ہے۔
کیا آپ اپنے ان جذبات کے حوالے سے بات کر سکتے ہیں جو آُپ نے لارڈ ٹیسٹ میں آخری وکٹ لے کر جیتتے ہوئے محسوس کیے اور انگلینڈ میں ہی چیمپیئن ٹرافی جیت کر محسوس کیا؟
چیمپیئن ٹرافی جیتنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ میرے ملک میں جہاں میری وجہ سے بہت سارے لوگوں کو میری وجہ سے تکلیف اور دکھ برداشت کرنا پڑا آج خدا نے مجھ سے یہ پرفارمنس لی ہے اور میں نے سوچا شائد آج اس جیت کی صورت میں میں لوگوں کو دوبارہ سے خوش کر پایا ہوں۔ میرے لیے وہ بہت بڑی بات تھی کیونکہ میں نے ہمیشہ یہ کہا کہ مجھے یہ قرض ضرور اتارنا ہے۔ اور مجھے کچھ ایسا کرنا جس سے پاکستانی قوم مجھ خوش ہو جائے۔ اور اس دن تمام پاکستانی مداح بہت خوش تھے۔

M.Amir_interview_cricket_aajkal_google7

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں