70 سالہ آزادی کی آزادی کو پہچانئے!

آزادی

جو آزاد ملک کا شہری نہیں، وہ درحقیقت شہری نہیں!!!

ہم ایسے ملک میں رہتے ہیں۔ جہاں اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری بھی ہے اور تمام اقلیتیں اپنی مزہبی اور سماجی رسومات منانے میں آزاد ہیں۔ جہاں ہمسایہ ملک بھارت کے ’سونو نگھم‘ اتنی گھٹیا بات نہیں کرسکتے کہ اذان انہیں پریشان کرتی ہے۔ کاش کہ سونو نگھم مندروں میں ہونے والی بےسُروں کی پوجا پر بھی اپنی ماہرانہ نظر ثانی کرتے؟۔

بھارتیوں کو مسلمانوں کی عبادت ہی کیوں چُبھتی ہے؟۔ گائے کی قربانی کوہی گناہِ کبیرہ کیوں سمجھاجاتا ہے اورگائے کی قربانی پر پابندی لگادی گئی ہے۔

بھارت سے موازنہ کرنے کی وجہ وہ دلخراش ماضی ہے۔ جب برصغیر کے بٹوارے سے قبل مسلمان اور ہندو صدیوں سے اکٹھے رہ رہے تھے۔

مگرآج بھارتی جنتا پارٹی کی انتہا پسند حکومت مسلمانوں کو بربریت کا نشانہ بنا رہی ہےاور آئے روز بھارت میں حکومتی سرپرستی میں ایسے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ جن کی وجہ سے بھارت میں آباد مسلمان کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

loading...

ممکن ہے کہ 70 سالوں بعد آج ہم آزادی کی اہمیت کوسمجھنے سے قاصر ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے ہم ایک دوسرے کی کردار کشی کرنے میں لگے ہوں ۔ ہو سکتا ہے ہم آج عارضی مشکلات اور سیاسی حالات کی وجہ سے پاکستان کو کوستے ہوں اور سمجھتے ہوں کہ ’س ملک کا کچھ نہیں بننا۔‘
لیکن اپنے آپ کو بھارت میں بسنے والے 20 کروڑ مسلمانوں کی نسبت خوش قسمت تصور کریں اور زرا سوچیں کہ اگر 1947 میں قائداعظم کی محنت اور ہمارے آباؤاجداد کی جدوجہد کے نتیجے میں ہمیں پاکستان ناملا ہوتا تو آج ہم بھی 20 کروڑ بھارتی مسلمانوں کی طرح بھارتی انتہا پسند حکومت کے ظلم و ستم کا نشانہ بن رہے ہوتے۔

مزید پڑھیں۔  جولیس سے جولیٹ تک... رضا علی عابدی

آیئے پاکستان کی آزادی کو حقیقی معنوں میں منانے کا عہد کریں اور 70 ویں یوم آزادی پر اس آزادی کی اہمیت کو جاننے۔ کیونکہ جو آزاد ملک کا شہری نہیں، وہ درحقیقت شہری نہیں۔
خدیجہ چوہدری

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں