نا اہل نواز شریف نے جُرم کا ینکار کر دیا، آج پھر احتساب کورٹ میں فردِ جُرم عائد

Loading...

آج جج صاحب،محمد بشیر نے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے خلاف نیب کی  جانب سے دائر تین ریفرنسز کی سماعت کی۔

 محترم جج نے نواز شریف  دوبارہ تینوں ریفرنسز جن میں لندن فلیٹس،فلیگ شپ انویسٹمنٹ العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنسز میں فرد جرم عائد کی اور جج صاحب نے انہیں فرد جرم کے نکات پڑھ کر بھی سنائے۔

سابق وزیراعظم نے روسٹم پرمستقل ۲۵ منٹ کھڑے رہے اور  تینوں ریفرنسز میں صحت جرم سے انکار کرتےرہے۔ ان کا کہنا تھا کہ  انہیں فیئر ٹرائل کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے اور ان کے بنیادی حقوق سے ان کو محروم کیا جا رہا ہے۔

 جج محمد بشیر نے کہا کہ آرٹیکل 10 اے فیئر ٹرائل پر کہتا ہے کہ کیسز کو جلد نمٹایا کیا جانا چایئیے جس پر نواز شریف نے جواب دیا  کہ اس طرح تو ہر ریفرنس کے ٹرائل کے لئے ڈیڑھ مہینہ مل جائے گا جب کہ سپریم کورٹ 6 ماہ میں ریفرنسز پر فیصلے کا حکم دیتا ہے۔

loading...

جج محمد بشیر کے چارجز کی کاپیاں ملنے کا پوچھا تو  نواز شریف نے سر ہلا کر  اشارے سے ہاں میں جواب دیا اور چارج شیٹ پر دستخط کر دئیے۔

سماعت کے دوران جج محمد بشیر نے نواز شریف کی تین ریفرنسز جاری کرتے ہوئے درخواست پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا اور درخواست مسترد کردی ۔

عدالت نے نواز شریف پر باضابطہ طور پر فرد جرم کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد سماعت 15 نومبر تک ملتوی کردی۔

(Visited 18 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں