اے ٹی ایم فراڈ سے کیسے بچا جائے

ATM_Fraud-prevention-aajkal-google

پاکستان میں آے۔ ٹی۔ ایم کے ذریعے اکاونٹس ہیک کرنے کی واردات سامنے آرہی ہیں۔ اور ایک نجی بنک کے کچھ اکاونٹس سے دو کروڑ کے قریب رقم چوری کی گئی ہے۔ جس سے صارفین میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ اس ضمن میں تفشیش کا آغاز تو ہو گیا ہے۔ تاہم صارفین کو چاہیے وہ درج ذیل ہدایات پر عمل کر کے اپنی رقم چوری ہونے سے بچا سکتے ہیں۔

1۔ فوری طور پر اپنے متعلقہ بنک سے رابطہ کریں اور اپنے اکاونٹ سے انٹرنیشنل ٹرانزیکشنز بند کروائیں۔
اپنے اکاونٹ سے انٹرنیشنل ٹرانزیکشنز بند کروانی اس لیے ضروری ہیں کیونکہ ہیکرز چوری شدہ معلومات کو استعمال کرکے آپ کی رقم بین الاقوامی اکانٹس میں منتقل کر دیتے ہیں۔

ATM_money_hacking_device_aajkal_google

2۔ فوری طور پر اپنے موبائل نمبر پر ایس ایم ایس سروس بحال کروائیں۔
بنک سے رابطہ کریں اور اپنے مطلوبہ اکانٹ پر ایس ایم ایس سروس بحال کروئیں۔ جس سے آُپ کو اپنے اکانٹ سے ہونے والی ہر ٹرانزیکشن کی فوری معلومات آپ کے نمبر پر میسج کر کے دی جاتی ہے۔ لہذا اگر آپ کو کسی ایسی ٹرانزیکشن کا میسج آتا ہے جو آپ نے نہیں کی تو فوری طور پر بنک سے رابطہ کریں۔

3۔ دو بنک اکاونٹ کھلوائیں۔
دو بنک اکاونٹ کھلوانا اس لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے ساری رقم ایک ہی اکاونٹ میں نہ رکھیں۔ اگر ایک ہی اکاوںٹ میں رکھی ہوئی ہے اور وہی اکاونٹ ہیک ہوگیا تو ساری رقم سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ لہذا جس اکاونٹ کے ساتھ آے۔ ٹی۔ ایم کارڈ منسلک ہوے اس میں ضرورت کے مطابق تھوڑی رقم رکھیں اور زیادہ رقم ایسے اکاونٹ میں رکھیں جس کے ساتھ کارڈ منسلک نہیں ہے۔

مزید پڑھیں۔  عدالتی سال ختم‘ سپریم کورٹ میں 40 ہزار540 مقدمات زیر التواء

ATM_Fraud_aajkal_google

4۔ پیسے نکا لنے سے پہلے کارڈ ڈلنے والی جکہ کو اچھی طرح ہلا یں۔
کارڈ سے معلومات چوری کرنے والے گروہ کے پاس ایسے آلات موجود ہوتے ہیں جو وہ آے ٹی ایم مشین میں کارڈ ڈالنے والی جگہ پر گوند وغیرہ سے نصب کر دیتے ہیں جس کے اندر ایک چپ لگی ہوتی ہے جو آُپ کے کارڈ سے خفیہ معلومات چوری کرنے میں مدد دیتی ہے۔ لہذا جب بھی کارڈ ڈالیں تو ہلا کر چک کریں۔ اگر کوئی ڈوائس لگی ہوگی تو آسانی سے اتر جائے گی۔ اگر ایسا ہو تو پولیس یا بنک انظامیہ کو اطلاع کریں۔

5۔ کارڈ کو مشین میں ڈالتے ہوئے اوپر نیچے ہلاتے رہیں۔
مشین پر لگائے گے آلات بہت حساس ہوتے ہیں۔ اگر کارڈ کو اوپر نیچے ہلاتے رہیں تو وہ آسانی سے معلومات چوری نہیں کر پاتیں۔

6۔ پن کوڈ ڈالتے وقت اسے ہاتھ سے چھپا کر رکھیں۔
جب کارڈ مشین میں ڈالنے کے بعد آپ خفیہ پن کوڈ ڈالتے ہیں تو اسے چھپا کر اندراج کریں۔ کیونکہ اس مافیا کے پاس ایسے خفیہ کیمرے ہوتے ہیں جو وہ آے۔ ٹی۔ ایم کے پاس لگا دیتے ہیں اور آپ کے پن کوڈ کو چوری کرنے کے بعد آپ کی رقم نکالنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

7۔ رش والے علاقے میں نصب آے۔ ٹی۔ ایم مشین سے رقم نکلوائیں۔
ہیکرز کو ڈیٹا چوری کرنے کے لیے آلات لگانے پڑتے ہیں۔ جو وہ ایسے علاقوں میں ہی نصب کر سکتے ہیں جہاں ارد گرد لوگ کم ہوں یا ایسے علاقے جو سنسان ہوں۔ لہذا پیسے نکالنے کے لیے بنک کے اندر نصب مشینز یا دیگر مصروف جگہوں پر ںصب مشینز کا استعمال کریں۔

مزید پڑھیں۔  امریکہ میں چوروں نے اے ٹی ایم کو دھماکا خیز مواد سے اڑا دیا

ATM-fraud_money-hacking-aajkal-google

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں