عمران خان اور سمیع الحق کا غیر فطری اتحاد۔

Loading...

columnist_naveed_nasim-aajkal_google

نوید نسیم (نسیم نامہ)

عام انتخابات جوں جوں قریب آرہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کا دوسری سیاسی جماعتوں سے اتحاد اور سیاسی رہنماؤں کی جماعتیں بدلنے کا موسم شروع ہوگیا ہے۔

سردیاں آتے ساتھ ہی چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نیازی نے بھی انتخابی محرکات کو بھانپتے ہوئے خیبر پختونخوا میں جمیعیت علما اسلام سمیع الحق سے انتخابی الحاق کرلیا ہے۔

دہشتگردی اور انتہا پسندی کے تناظر میں متنازع شخصیت مولانا سمیع الحق کے ساتھ اتحاد پر عمران خان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور لبرل وپروگریسیو سوچ رکھنے والوں کاماننا ہے کہ عمران خان نے دارلعلوم حقانیہ، اکوڑہ کھٹک کے مولانا سمیع الحق سے الحاق کرکے ثابت کردیا کہ عمران خان طالبان کے حامی ہیں۔ جن کی پرورش اور جن کے کئی اہم لیڈروں کا تعلق مولانا سمیع الحق کے مدرسے سے تھا۔ جہاں سے انھوں نے انتہا پسندی کی تربیت حاصل کی۔

ملا عمر اور جلال الدین حقانی سمیت متعدد طالبان رہنماؤں کاتعلق پشاور کے قریب واقع مدرسہ دارلعلوم حقانیہ سے تھا اور اس بارے میں آج تک مولانا سمیع الحق کی طرف سے کوئی تردید سامنے نہیں آئی۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ آکسفورڈ سے اعلی تعلیم یافتہ عمران خان کو کیا ایسی ضرورت محسوس ہوئی کہ انھوں نے انتہا پسند سوچ رکھنے والے مولانا سمیع الحق کے ساتھ انتخابی اتحاد کیا؟۔

Loading...

ایسے وقت میں جب کہ ملکی سیاست میں پینامہ لیکس کے بعد حکومت ہچکولے کھارہی ہے اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے اگلے انتخابات کیلئے جوڑ توڑ شروع ہوچکا ہے۔ یقینی طور پر عمران خان کا مولانا سمیع الحق سے انتخابی الحاق یقینی طور پر اگلے انتخابات کی پاداش میں کیا گیا ہوگا۔

اگلے عام انتخابات کیلئے ہی جمعیت علما اسلام فضل الرحمان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے متحدہ مجلس عمل کو ایک بار پھر سے فعال کرنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ جس کا ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق مولانا سمیع الحق حصّہ نہیں ہونگے۔

ایسے میں عمران خان کا یہ قدم یقینی طور پر خیبر پختونخوا میں ایم ایم اے سے تگڑا انتخابی مقابلہ متوقع ہونے کی وجہ سے اٹھایا گیا ہے۔ عمران خان یقیناً جانتے ہیں کہ مولانا سمیع الحق ماضی میں ایم ایم اے کا اہم حصّہ تھے اور اگر عمران خان جے یو آئی ایس سے اتحاد کرلیتے ہیں تو اس کا فائدہ ایک تو یہ ہوگا کہ مولانا سمیع الحق ایم ایم اے کا حصّہ نہیں بنے گے اور دوسرا کے پی کے میں تحریک انصاف کو ان کی جماعت کی سپورٹ حاصل ہوجائیگی۔ جوکہ انتخابات میں بہت اہمیت کی حامل ہے۔

لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ عمران خان کیلئے انتہا پسندی اور دہشتگردی کو ختم کرنے سے زیادہ اگلے انتخابات زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ جن کیلئے وہ کسی بھی ایسے شخص یا سیاسی جماعت سے الحاق کرلیں گے۔ جن پر طالبان کو سپورٹ کرنے اور طالبان کو پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کا الزام ہو۔

ٹھیک ہے کہ انتخابات میں حریفوں کو مات دینے کیلئے سیاسی جماعتوں سے الحاق کئے جاتے ہیں۔ مگر کسی ایسی سیاسی جماعت یا شخصیت سے الحاق جس کی وجہ سے لاکھوں پاکستانی ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ اربوں روپے کا نقصان ہوا۔ جس پر امریکہ سمیت ہمسایہ ممالک سے دہشتگردوں کو پناہ دینے اور انھیں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کے الزامات لگے ہوں۔ انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کی خاطر ایسی سیاسی جماعت سے الحاق سمجھ سے باہر ہے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ کل کو داعش یا طالبان کی طرف سے عمران خان کو یقین دہانی کروادی جائے کہ وہ انتخابات میں تحریک انصاف کو سپورٹ کریں گے اور یقنی بنائیں گے کہ وہ ووٹرز کو تحریک انصاف کیلئے ووٹ دینے پر مجبو کریں گے۔

عمران خان نے ایم ایم اے سے ممکنہ سخت انتخابی مقابلے سے نبٹنے کیلئے ایم ایم اے کی ایک مضبوط جماعت سے الحاق کرلیا ہے۔ جس نے 2002 کے عام انتخابات کے بعد کے پی کے میں صوبائی حکومت بنائی تھی۔ عمران خان کو اگلے عام انتخابات میں وفاق میں حکومت ملے یا ناملے، عمران خان اس اتحاد کے زریعے خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت دوبارہ سے حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ چاہے اس کیلئے انھیں کسی سے بھی اتحاد کرنا پڑے۔

(Visited 30 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں