کیا آپ دیسی انڈوں یعنی بھورے یا براﺅن رنگ کے انڈے کو سفید والے کے مقابلے میں صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند سمجھتے ہیں؟

اگر آپ کا جواب بھی ہاں ہے تو یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کیونکہ بیشتر افراد کا یہی خیال ہے کہ دیسی انڈے سفید انڈوں کے مقابلے میں صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند ہیں جس کی وجہ ان کا مہنگا ہونا ہے۔
جانیں طبی ماہرین کیا کہتے ہیں۔

دونوں ایک واضح فرق تو رنگ کا ہی ہے، دیسی انڈے عام طور پر آف وائٹ یا ہلکے بھورے رنگ کے ہوتے ہیں اور سفید انڈے تو ظاہر ہے سفید ہی ہے، مگر دیسی انڈوں کو عام طور پر فارمی سے زیادہ صحت بخش سمجھا جاتا ہے اور یہ زیادہ مہنگے بھی ہوتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق دیسی انڈے کو قدرتی طریقے سے حاصل کیا جاتا ہے، عام طور پر یہ بھورے رنگ کے انڈے ایسی مرغیاں دیتی ہیں جن میں مصنوعی ہارمونز اور ادویات کو انجیکٹ نہیں کیا جاتا، عام پولٹری فارموں میں مرغیوں کو ہارمونز اور ادویات کے ذریعے فیڈ کیا جاتا ہے تاکہ زیادہ گوشت اور انڈے (سفید) کیے جاسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ دیسی انڈوں کو صحت مند کہا جاسکتا ہے کیونکہ یہ مصنوعی ہارمونز یا کیمیکلز سے محفوظ ہوتے ہیں۔
غذائی اعتبار سے دونوں اقسام میں بمشکل 10 سے 15 فیصد ہی فرق ہوتا ہے، دیسی انڈے اس لیے زیادہ صحت بخش ہوسکتے ہیں کیونکہ وہ مصنوعی ہارمونز اور کیمیکلز سے پاک ہوتے ہیں، دوسری صورت میں دونوں میں کوئی خاص فرق نہیں۔
ویسے یہ واضح رہے کہ سفید انڈوں کو کھانا بھی نقصان دہ نہیں بلکہ صحت کے لیے فائدہ مند ہی ہوتا ہے، جن مرغیوں کو مصنوعی ہارمونز فیڈ کرائے جاتے ہیں وہ انسانوں کو انڈوں کی شکل میں نقصان نہیں پہنچاتے کیونکہ ان کی مقدار بہت محدود ہوتی ہے، تاہم بہت زیادہ کھانا انسانوں میں ہارمونز کے عدم توازن کا خطرہ کسی حد تک بڑھا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں۔  سندھ کے لوگوں کو مستقبل میں اچھی صحت سے محروم ہونے کا خدشہ ہے ،جسٹس ثاقب نثار

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں