لاہور ہائیکورٹ نے درخواست نمٹا دی ۔۔۔

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف کو پارٹی اجلاسوں کی صدارت سے روکنے کے لئے دائر درخواست نمٹا دی جبکہ نوازشریف کی پارٹی صدارت سے نا اہلی کے خلاف دائر دوسری درخواست پر فریقین کو 21 ستمبر کیلئے نوٹس جاری کر دیئے ۔ گزشتہ روز چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے پاکستان عوامی تحریک کے رہنما خرم نواز گنڈا پور کی درخواست پر سماعت کی۔ اس موقع پر الیکشن کمیشن کی جانب سے ڈائریکٹر لاء عمر حیات بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت خرم نواز گنڈاپور کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سابق وزیراعظم سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل ہونے کے باوجود پارٹی اجلاسوں کی صدارت کر رہے ہیں ، جس پر چیف جسٹس منصور علی شاہ نے الیکشن کمیشن سے اس معاملے پر دریافت کیا ۔لاہور ہائی کورٹ میں الیکشن کمیشن کے لاء ڈائریکٹر عمر حیات نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن نواز شریف کے پارٹی اجلاسوں کی صدارت کے معاملے پر کارروائی کر رہا ہے ،اس معاملے میں عوامی تحریک اور تحریک انصاف کا موقف سننے کیلئے اگست میں ہی تاریخ مقرر کی ہے ۔ جس پر لاہور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے جواب کی بنیاد پر درخواست نمٹادی۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے نوازشریف کو پارٹی اجلاسوں کی صدارت سے روکنے سے متعلق شہری محمد امین کی درخواست پر بھی سماعت کی۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن نے پولیٹیکل پارٹیز آرڈر کی دفعہ پانچ کے تحت فیصلہ جاری کیا ہے۔فیصلے کے تحت نااہل نواز شریف کو پارٹی صدارت کیلئے بھی نااہل قرار دیا گیا ہے، سابق وزیراعظم کی پارٹی اجلاس کی صدارت کرنا پولیٹیکل پارٹیز آرڈر کی دفعہ پانچ آئین کے آرٹیکل سترہ سے متصادم ہے۔ جس پر فاضل عدالت نے فریقین کو اکیس ستمبر کیلئے نوٹس جاری کر دیئے ہیں۔

مزید پڑھیں۔  ایشین گیمز: ہاکی کے سیمی فائنل میں بھارت کو شکست

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں