دسمبر پاکستان کے لیئے بھاری ہے۔

loading...

سولہ دسمبر 1971، سولہ دسمبر 2014 اور ستائیس دسمبر 2007 پاکستان کی تاریخ کے سیاہ ترین دن

دسمبر کا مہینہ پاکستان کی تاریخ میں ایک سیاہ مہینے کا درجہ رکھتا ہے۔ سردیوں کے کہر کے علاوہ اس مہینے نے پاکستان پر اور بہت سے کہر ڈھائے ہیں ۔ اس مہینے نے پاکستان کے وجود پر تین بھڑے زخم لگائے ہیں۔

پہلا 1971 میں سولہ دسمبر کو سانحہ مشرقی پاکستان کی صورت میں لگا۔ اس دن اس جنگ کا خاتمہ ہوا تھاجس نے 1970 کے الیکشنز کے بعد پیدا ہونےوالی صورت حال سے جنم لیا تھا۔ اس دن پاکستانی افواج نے ڈھاکہ میں ہتھیار ڈالے دیے اور پاکستان دو لخت ہوا۔ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ اس سانحہ میں ایک طرف پاکستان کے دو حصے ہوے اور دوسری طرف افواج پاکستان کے تقریبا نوے ہزار فوجی جنگی  قیدی بنے۔ اس کے بعد دسمبر کا سولواں دن پاکستان میں آنے والے ہر دسمبر میں نمایاں ہوگیا۔

ابھی اس کے زخم نمایاں تھے اور سولہ دسمبر 1971 ہمارے اجتماعی شعور سے محو نہیں ہو تھا کہ 2014 میں آںے والا دسمبر ایک اور حولناک سولہ دسمبر لے کر آیا۔

سولہ دسمبر 2014 کی صبح پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خواہ کے شہر پشاور میں آرمی پبلک سکول میں چھ دہشت گردوں نے حملہ کر دیا۔ اس حملے میں 133 معصوم طالب علموں سمیت 144 لوگ شہید ہوئے۔  اس سانحہ نے پاکستان کو اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔ اس سانحے کے بعد سے ہم  ہر سولہ دسمبر کے دن دو سانحوں کو یاد کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں۔  موبائل فون کے ساتھ کسی کو آتے دیکھ کر گھبرا جاتا ہوں ٗویرات کوہلی

آے پی ایس پر حملہ کرنے والے چھ کے چھ ہشت گر ہلاک کر دیے گے تھے۔  اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی۔ اس حملے کے بعد  نیشنل ایکشن پلان شکیل دیا گیا اور اسی پلان کے تحت ضرب عضب شروع کیا گیا اور دہشت گردوں کے خلاف منظم آپریشن شروع ہوے۔ اسی کے نتیجے میں 2 دسمبر 2015 کو سانحہ آے پی ایس ملوث دیگر دہشت گردوں میں سے چار کو کوہاٹ جیل میں پھانسی دی گئی۔ نئے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کے کمانڈ سنبھالنے کے بعد اس ردالفساد شروع کیا گیا جو ابھی تک کامیابی سے جاری ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کی رپورٹ 10 مارچ 2017 کو سینٹ کے سامنے پیش کی گی جس کے مطابق اب تک 1865 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں اور تقریبا 5000 گرفتار کیے گے ہیں۔  لیکن نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد پوری طرح سے نہ ہونے کی وجہ سے اس پر تنقید ہوتی رہتی ہے۔

دسمبر میں ایک اور زخم جو پاکستان کو لگا۔ وہ بینظیر بھٹو کی شہادت کا ہے۔

ستایئس (27) دسمبر 2007 کو بینظیر بھٹو روالپنڈی لیاقت باغ میں جلسہ عام سے خطاب کے بعد واپس نکل رہی تھیں کہ انہیں ایک خودکش حملے کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا گیا۔ جس کے نتیجے میں پاکستان ایک عالمی شہرت یافتہ لیڈر سے محروم ہو گیا۔  ابھی تک بی بی کے قاتلوں کا تعین نہیں کیا جا سکا۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں