مقصد پہ یقین اور اَن تھک محنت، تن تنہا جنگل اُگا ڈالا!

‎رپورٹ: فاطمہ سی ایچ

آج سے تقریباً 35 سال پہلے ایک پئنگ نامی نوجوان نے اپنی آبائی علاقے شمالی آسام، انڈیا کے قریب
بنجر زمین میں بیج بونا شروع کیےجس کا مقصد جانوروں کے لیے ایک پناہ گاہ بنانا تھا۔

‎اس نوجوان نے تھوڑے ہی عرصے میں اس کوشش کو اپنی زندگی کا اولین مقصد بنانے کا فیصلہ کر لیا، اور اسی جگہ بسیرا کر لیا تاکہ وہ اپنا سارا وقت اس انوکھے اور نیک مقصد میں سرف کر سکے اور ایک سر سبز و شاداب ماحولیاتی نظام تشکیل دے سکے۔ نا قابل یقین طور پر، آج وہ بنجر جگہ ایک نہایت خوبصورت اور ہریالی سے بھرپور جنگل میں تبدیل ہو چکی ہے جو کہ 1360 ایکڑ تک پھیلا ہوا ہے۔ یاد رہے کہ یہ جنگل پئنگ نے اکیلے و تنہا طور پر اُگایا ہے۔

اِس سب کی شروعات 1979 سے ہوئی، جب سیلاب کی وجہ سے بڑی تعداد میں سانپ اور دیگر ریپبلس اُس بنجر زمین پر مُردہ ملے۔ پئنگ کی عُمر تب صرف 16 برس تھی۔ وہ وقت پئنگ کی زندگی کا اہم ترین موڑ تھا جب اُس نے اتنی کثیر تعداد میں مُردہ ریپبلس دیکھے اور ایک پورا جنگل اُگانے کا فیصلہ کر ڈالا۔

پئنگ کا ایک انٹرویو کے دوران کہنا تھا کہ “وہ سانپ گرمی کی شدت سے مر گئے کیونکہ وہاں نہ کوئی درخت تھا اور نہ کوئی سایہ۔ میں وہاں بیٹھ کہ اُنہیں یوں بے جان دیکھ کر بہت رویا۔ یہ سراسر قتلِ عام تھا۔ میں نے محکمہ جنگل کو بھی اطلاع دی اور اُن سے درخت اُگانے کی درخواست کی۔ مگر اُنہوں نے صاف انکار کرتے ہوا کہا کہ یہاں کچھ نہیں اُگ ساکم۔ بلکہ مجھے وہاں بانس اُگانے کا مشورہ دیا۔ بے شک یہ بہت تکلیف دہ تھا مگر میں یہ کرنے میں کامیاب ہوا۔ میری مدد کرنے کے لیے کوئی بھی نہیں تھا، کوئی بھی نہیں۔ کسی کو بھی دلچسپی نہیں تھی۔”

مزید پڑھیں۔  سلمان خان کی فلم ریس3 ریلیز سے پہلے ہی 100 کروڑ بھارتی روپے کمانے میں کامیاب
loading...

پئنگ کی اِس قابل ذکر اور کامیاب کاوش کو پوری دنیا میں پزیرائی ملنے میں کئی سال لگ گئے مگر وہاں جنگلی حیات کو بسنے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔ پینگ نے گہری سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ماحولیاتی توازن کو سمجھا اور اپنے بڑھتے ہوئے ماحولیاتی نظام میں چیونٹیوں کو بھی منتقل کان تا کہ وہ اِس قدرتی ہم آہنگی کا سہارا بن سکیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ بنجر اور بے سایہ زمین ایک خود ساختہ کار آمد ماحول میں تبدیل ہوگئی جہاں اب جانوروں کا بسیرا بھی تھا۔ یہ جنگل جو اب “مولائی وڈز” کہلاتا ہے، لاتعداد جانوروں کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہے، مثلاً پرندے، ہرن، گینڈے، چیتے، اور ہاتھی وغیرہ۔

پئنگ کے اِس نامور اور کامیاب پراجیکٹ کو محکمہ جنگلات سے 2008 میں پہچان ملی اور اُنہوں نے پئنگ کے اِس قابلِ تعریف معرکے کو خوب سراہا۔ اسسٹنٹ کنزرویٹر برائے جنگلات کنین سیکیا کا کہنا تھا کہ “ہم پئنگ کے اِس معرکے پر بہت حیران ہیں، اُنہوں نے ۳۰ سال کی اَن تھک محنت کر کے یہ کر دکھایا۔ اگر اُن کا تعلق کسی اور ملک سے ہوتا تو یقیناً اُنہیں بہت بڑا ہیرو سمجھا جاتا۔”
پئنگ اور اُن کے جنگل کے بارے میں مزید جاننے کے لیے یہ دستاویزی فلم دیکھئیے:-

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں