سپین ‘نامعلوم شخص نے وین راہگیروں پر چڑھادی، 13 افراد ہلاک‘50سے زائد زخمی

loading...

بارسلونا :

اسپین کے شہر بارسلونا میں نامعلوم شخص نے وین سڑک کنارے کھڑے لوگوں پر چڑھادی جس کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک اور50 سے زائد زخمی ہوگئے جن میں متعدد پاکستانی بھی شامل ہیں۔ ہسپانوی وزیراعظم ماریانو راجوئے نے حملے کی شدید الفاظ میں اس کی مذمت کی اور اسپین میں تین روزہ سوگ کا اعلان بھی کیا۔دنیا بھر میں اس دہشت گردی کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔ وین حملے کے بعدپولیس نے جنوبی علاقے میںآپریشن کر کے 5 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے 5افراد نے خود کش جیکٹ پہنی ہوئی تھی۔پولیس کا کہنا ہے کہ کارروائی میں ایک دہشت گرد زخمی بھی ہواہے۔ مراکشی دریس اوکابر اور ہسپانوی ساتھی کوگرفتارکرلیا گیا جبکہ ڈرائیورتاحال مفرور ہے۔اسپین کے بارسلونا میں وین سے لوگوں کوکچلنے کی ذمہ داری داعش نے قبول کرلی ہے۔

ہسپانوی وزیراعظم کہتے ہیں انسداددہشت گردی سے متعلق قانون سازی کیلئے سیاسی جماعتوں سے رابطہ کیاجائے گا۔واقعہ کے سوگ میں ایفل ٹاورکی روشنیاں بجھادی گئیں۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق راہ گیروں پر جان بوجھ کر وین چڑھانے کے حملے کے بعد، جو یورپ میں حالیہ کچھ عرصے کے دوران اسی طرح کے پیش آنے والے دیگر واقعات کی ایک کڑی ہے، اسپین کے سب سے بڑے شہر کے ضلع لاس رَمبلاس کی سڑکوں پر بھگدڑ مچ گئی، جبکہ عالمی رہنماؤں کی جانب سے اس کی شدید مذمت کی گئی۔اسپین کے ریجنل وزیر داخلہ جاکوئم فورن نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ہم دہشت گردی کے اس حملے میں 13 افراد کے ہلاک اور 50 سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہیں۔کیٹالان پولیس نے ملزمان کے جائے وقوع کے قریب ایک بار میں گھسنے کی پہلے سامنے آنے والی رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کرلیا ہے۔پولیس کی طرف سے واقعے کو دہشت گردی کا حملہ قرار دیا گیا۔عینی شاہدین نے بتایا کہ وین کے لوگوں پر چڑھ دوڑنے کے بعد کئی لاشیں بکھر گئیں اور لوگ اپنی جانیں بچانے کے لیے ادھر اْدھر بھاگنے لگے۔ بارسلونا میں دہشت گردی کی بھیانک واردات کے بعد رات گئے کیمبرلز کے ساحلی قصبے میں مقامی پولیس نے ایک اور دہشت گرد حملے کی کوشش ناکام بنادی ہے جبکہ اس کارروائی میں کم از کم پانچ مبینہ دہشت گرد ہلاک کردیئے گئے ہیں۔اسپین پولیس کے مطابق دہشت گرد دوسرا حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کرچکے تھے اور انہوں نے دھماکہ خیز مواد والی بیلٹیں پہنی ہوئی تھیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بارسلونا میں دہشت گردی کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ حملے کے متاثرین کی ہر ممکن مدد کرے گا۔فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون، برطانیہ کی وزیر اعظم تھریسا مے اور جرمنی کی چانسلر اینجلا میرکل نے بھی واقعے کی مذمت کی۔واضح رہے کہ لاس رمبلاس کا علاقہ اسپین میں سیاحت کے حوالے سے معروف ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔

مزید پڑھیں۔  جے آئی ٹی نے اس بات کی تحقیقات نہیں کیں نیلسن اور نیسکول سے پہلے لندن فلیٹس کا مالک کون تھا، جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء
TARRAGONA, SPAIN – MARCH 20: Fire fighters are seen at the scene of an accident after a bus carrying university exchange students back from a popular festival crashed near Tarragona in north-east Spain, on March 20, 2016. At least 13 people are dead and dozens were injured
(Photo by Tjerk van der Meulen/Anadolu Agency/Getty Images)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں