اگلےعام انتخابات اوراپوزیشن کے ہتھکنڈے۔

next_election_2018_aajkal_google
Loading...

columnist_naveed_nasim-aajkal_google
نوید نسیم

2008 کےعام انتخابات کے بعد اکثریت حاصل کرنیوالی پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف اور پھر 2013 کے عام انتخابات کے بعد پاکستان مسلم لیگ نواز حکومت کے بارے میں چہ مگوئیاں شروع ہوگئی تھیں کہ یہ حکومت چل نہیں سکے گی۔

پھر جب پیپلز پارٹی کا دور مکمل ہونے کو تھا اور اب جبکہ نواز لیگ کا دور مکمل ہونے کوہے۔ پھر سے مارشل لا اور ٹیکنو کریٹ سیٹ اپ آنے کی افواہیں سنائی دےرہی ہیں۔

اس ضمن میں اسٹیبلشمنٹ کا حوصلہ، قابل ستائش ہے۔ جوکہ (ناچاہتے ہوئے ہی سہی) جمہوری تقاضوں کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے مارشل لا اور ٹیکنو کریٹ سیٹ اپ لانے کی تردید پر تردید کررہی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف سابق وزیراعظم نواز شریف کے نااہل ہونے کے بعد سے قبل از وقت انتخابات چاہتی ہے۔ جبکہ پیپلزپارٹی مردم شماری کو بنیاد بناتے ہوئے انتخابات کے بروقت انعقاد کی راہ میں روڑے اٹکا رہی ہے۔

پیپلزپارٹی باخوبی آگاہ ہے کہ قبل از وقت یا بروقت انتخابات ہونے کی صورت میں نواز لیگ اور تحریک انصاف دو بڑی سیاسی جماعتیں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ پیپلز پارٹی کو سندھ میں حکومت بنانے کے بھی لالے پڑجائیں۔

پیپلز پارٹی کا مردم شماری کے نتائج کو مشترکہ مفادات کونسل میں اٹھانے کا مقصد ہی یہ ہے کہ مقررہ وقت میں یہ مسئلہ حل ناہوپائے۔ پھر صدر مملکت کی درخواست پر سپریم کورٹ مداخلت کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو اگلے انتخابات سے متعلق لائحہ عمل اپنانے کا حکم دے۔

پیپلز پارٹی کے ان ہتھکنڈوں کے علاوہ تحریک انصاف حکومت کو گھر بھیجنے کی متعدد کوشیشیوں کے بعد سینیٹ انتخابات سے پہلے گھات لگائے بیٹھی ہے۔ تاکہ اگلے سال مارچ میں ہونیوالے سینیٹ انتخابات میں نواز لیگ اکثریت حاصل ناکرپائے۔

Loading...

آئین کے مطابق اگر عام انتخابات میں 4 ماہ کا وقت رہ جائے تو ضمنی انتخابات نہیں کروائے جاسکتے۔

اس لئے تحریک انصاف اس چکر میں ہے کہ 5 فروری کے بعد (جب عام انتخابات میں 4 ماہ کا وقت رہ جائیگا) خیبر پختونخوا اسمبلی کو توڑ دیاجائے۔ جس کے بعد آئینی قد غن ہونے کی وجہ سے ضمنی انتخابات نہیں کروائے جاسکے گیں اور خیبر پختونخوا اسمبلی ناہونے کی وجہ سے سینیٹ انتخابات بھی موئخر ہوجائیں گے۔

اس کے علاوہ حکمران جماعت نواز لیگ کے تقریباً 35 اراکین، قومی اسمبلی سےمستعفی ہونے کیلئے تیار بیٹھے ہیں۔ اگر وہ بھی 5 فروری کے بعد مستعفی ہوتے ہیں تو ایک طرف نواز لیگ قومی اسمبلی میں اکثریت کھو دیگی اور آئینی قدغن کی وجہ سے ان اراکین کے حلقوں میں ضمنی انتخابات کا انعقاد بھی ممکن نہیں ہوگا۔

کراچی میں چلنے والے سیاسی ڈرامے میں اسٹیبلشمنٹ کا اگلے عام انتخابات میں عمل دخل ابھی سے عیاں ہوتاجارہا ہے۔ جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی اور چند دیگر اپوزیشن جماعتیں ابھی یا حتٰی کہ مقررہ وقت پر بھی عام انتخابات کا انعقاد نہیں چاہتیں۔ کیونکہ ایسی صورتحال میں ہونیوالے انتخابات کے نتائج کا اندازہ ہرکوئی لگا سکتا ہے۔

درحقیقت اسٹیبلشمنٹ کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کا متبادل چاہتی ہے اور وہ باخوبی جانتی ہے کہ اُن کے مطلوبہ نتائج پی ایس پی اور ایم کیو ایم کو متحد کرکے ہی حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ وگرنہ قائد تحریک الطاف حسین کے چاہنے والے آج بھی اتنی بڑی تعداد میں ہیں کہ قائد تحریک کھمبے کوبھی کھڑا کردیں تو وہ انتخابات جیت جائیگا۔

جوں جوں عام انتخابات قریب آتے جارہے ہیں۔ ویسے ویسے سیاسی جماعتوں کے دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد اور رہنماؤں کا آنا جانا شروع ہوگیا۔ جوکہ جمہوریت کی خوبصورتی ہے۔ اس کے علاوہ کراچی میں ہونیوالی حالیہ پیشرفت کے بعد یہ بھی ممکن ہے کہ 2002 کی طرح تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو اکٹھا کرکے نئی ق لیگ بنائی جائے۔

موجودہ حالات اور حالیہ سیاسی پیشرفتوں کے بعد جمہوریت کی بہتری اسی میں ہے کہ پیپلز پارٹی وقت کی نزاکت کوسمجھیں اور مردم شماری کے نتائج کو مشترکہ مفادات کونسل میں لے جانے کی بجائے اگلے عام انتخابات مقررہ وقت پر ہونے دے۔ جسمیں تمام سیاسی جماعتوں کافائدہ ہے۔ وگرنہ کسی بھی سیاسی جماعت کے اوچھے ہتھکنڈوں کا فائدہ غیر جمہوری طاقتیں اٹھاتے ہوئے نئی حکمران جماعت بناسکتی ہیں۔

(Visited 25 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں