خیبر پختونخوا کے ٹھیکوں سے عمران خان کا کچن اور ترین کا جہاز چل رہا ہے، بلاول بھٹو زر داری

loading...

مانسہرہ: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے ٹھیکوں سے عمران خان کا کچن اور ترین کا جہاز چل رہا ہے، دہشتگردی کم ہونے کا کریڈٹ لینے والے خان صاحب ماضی میں سرکاری خزانے سے طالبان کے مدر سے کو کروڑوں روپے دے چکے ہیں ٗ خان صاحب کی اتحادی جماعت پر خیبر بینک میں کرپشن کا الزام ہے ٗاس کی تحقیقات کب ہو گی؟ ٗانقلاب کا لفظ میاں نوازشریف کے منہ سے اچھا نہیں لگتا ۔ ہفتہ کو پیپلز پارٹی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زر داری نے سابق وزیر اعظم نوازشریف پر تنقید کر تے ہوئے کہا کہ میاں صاحب معصوم نہیں مجرم ہیں ٗانقلاب کا لفظ ان کے منہ سے اچھا نہیں لگتا ٗوہ سازشی ہوسکتے ہیں انقلابی نہیں۔بلاول بھٹو ار داری نے کہا کہ آج اس دھرتی پرکھڑے ہوکرخطاب کر رہا ہوں جہاں کے عوام نے قیام پاکستان کیلئے اہم کردار ادا کیا،ملکی ترقی میں ہزارہ وال کا بہت بڑا حصہ ہے ٗذوالفقارعلی بھٹو، بینظیر بھٹو اور آصف زرداری کے دور میں یہاں کے عوام کیلئے جو کچھ کر سکے وہ کیا، سوئی گیس اور روزگار کی فراہمی کیلئے کام کیا،پیپلزپارٹی وفاقی پارٹی ہے، ہر علاقے کی ترقی کا سوچتے ہیں ٗہم چاہتے ہیں کہ ہر علاقے کے عوام کو ترقی کے یکساں مواقع ملنے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ یہاں صرف ایک ضلع ہزارہ تھا ٗ ذوالفقار علی بھٹو نے اس علاقے کو ہزارہ ڈویژن کا درجہ دیا ٗبینظیر بھٹو نے ہری پور ضلع اور آصف زرداری نے ضلع تورغر کا تحفہ دیا ٗ ہزارہ ڈویژن سات اضلاع پر مشتمل ہے جو صرف پیپلزپارٹی کے دور میں ہوا، شوکت خانم کینسر ہسپتال کی بات کرنے والے نے بیگم نصرت کینسر ہسپتال کو بند کر دیا ہے ٗیہ ہسپتال غریبوں کیلئے تھا،خان صاحب آپ نے بیگم نصرت بھٹو کینسر ہسپتال پروگرام کو ختم کر دیا،بیگم نصرت بھٹو کے نام پر اعتراض ہے تو اس کا نام بھی شوکت خانم رکھ لیں۔بلاول بھٹوزرداری کا کہنا ہے کہ تبدیلی کیدعویدارجوتبدیلی لائے ہیں وہ ہم سب کو معلوم ہے ٗصحت کے نظام کو تباہ کردیا ہے ٗ چھوٹے شہروں، دور دراز علاقوں میں ڈاکٹروں کو بھیجنے کے بجائے صحت کے نظام کو پرائیوٹائز کر رہے ہیں ٗ پاکستان کے عوام سے جھوٹ بول رہے ہیں کہ تعلیم کے شعبے میں انقلاب لے آئے ہیں، ایک لاکھ بچے سرکاری اسکولوں میں آنا خان صاحب کا ایک نیا جھوٹ ہے، اس سال ایک بھی پوزیشن سرکاری اسکول کے طلبا نے حاصل نہیں کی ٗتعلیم پستی کی طرف جا رہی ہے مگرخان صاحب کے لوگوں کے نجی اسکول ترقی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خان صاحب جب بھی اسٹیج پر آتے ہیں تولوگوں سے ایک نیا جھوٹ بولتے ہیں،اس بے چارے وزیر نے جو وزیراعلیٰ پر کرپشن کے الزام لگائے ان کا کیا ہوا؟ خانآتے ہیں تولوگوں سے ایک نیا جھوٹ بولتے ہیں،اس بے چارے وزیر نے جو وزیراعلیٰ پر کرپشن کے الزام لگائے ان کا کیا ہوا؟ خان صاحب کی اتحادی جماعت پر خیبر بینک میں کرپشن کا الزام ہے ٗاس کی تحقیقات کب ہو گی؟مائنز کے ٹھیکوں میں اربوں کی کرپشن کی تحقیقات کب ہوں گی؟میں نے کبھی آپ پر الزام نہیں لگایا ٗ آپ کے اپنے وزراء اور اراکین اسمبلی آپ پر الزام لگا رہے ہیں۔چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ جب دیکھو کہتے رہتے ہیں نیا ٗنیا نیا ٗ تبدیلی ٗتبدیلی تبدیلی،خیبرپختونخوامیں کیانیالے آئے ہیں؟کیا تبدیلی لائے ہیں؟ خان صاحب آج کل دہشتگردی کم ہونے کا سہرا بھی اپنے سر لے رہے ہیں، یہ آپ ہی تھے جس نے تعلیم کے بجٹ سے طالبان کے ایک مدرسے کو کروڑوں روپے دئیے تھے ٗ خان صاحب یہ دہشت گردی سیکیورٹی فورسز، پولیس، سول سوسائٹی اور قوم کی یکجہتی سے کم ہوئی ہے، الزامات اور گالی کی سیاست اب نہیں چلے گی، خیبرپختونخوا کے عوام نے بھی آپ کو پہچان لیا ہے، آپ نے خیبرپختونخوا کے عوام کی بھلائی کیلئے کچھ نہیں کیا ٗفاٹا اصلاحات، عوام کے حقوق کیلئے کبھی آواز نہیں اٹھائی،خان صاحب آپ آئی ڈی کارڈ کے مسئلے پر بھی خاموش رہے ٗآپ خیبرپختونخواکے لوگوں کو اپنی سیاست کیلئے استعمال کرتے ہو،2018ء کا انتخاب میرا پہلا اور عمران خان کا آخری الیکشن ہو گا۔انہوں نے میاں نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پچھلی دنوں میاں صاحب کا چیخنا چلانا تو سنا ہوگا ٗمیاں صاحب سول بالادستی کی بات کررہے ہیں، اپنی تقریروں میں عوام سے وعدہ لے رہے ہیں کہ سڑکوں پرنکلنے کی اپیل کریں توعوام ساتھ دیں ٗآپ کتنا بھی چیخیں چلائیں اب عوام آپ کے دھوکے میں نہیں آئیں گے،آپ معصوم نہیں مجرم ہیں،آپ کو عدالت نے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے نااہل کردیا ہے ٗآپ نے اس ملک کی دولت کو لوٹا ہے،انقلاب کالفظ آپ کے منہ سیاچھانہیں لگتا،کبھی انقلاب دیکھا یا پڑھا بھی ہے؟آئی جے آئی میاں نواز شریف نے بنائی،آپ فسادی ہوسکتے ہیں، سازشی ہوسکتے ہیں، انقلابی نہیں۔بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ ملک کو قرضوں کے بوجھ تلے دبادیا اور کہہ رہے ہیں ترقی ہورہی ہے، پی ٹی آئی ہو یا (ن) لیگ، دونوں اقتدار کی لڑائی لڑرہے ہیں، دونوں کی نظر کرسی پر ہے، انہیں ملک کی فکرنہیں، لوگوں کے اصل مسائل پر یہ بات نہیں کرتے، ان کے پاس مسائل کا حل نہیں ہے، ان میں ملک کو آگے لیجانے کی اہلیت اور صلاحیت نہیں ٗ ان کے پاس نہ منشور ہے ٗ نہ پروگرام نہ کوئی نظریہ ٗ پیپلز پارٹی ایک وفاقی جمہوری اور نظریاتی پارٹی ہے ٗ ہم مکمل منشور کیساتھ آنے والے الیکشن میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارمنشور کسان دوست اور مزدور دوست ہے، میں عوام کی طاقت پر یقین رکھتاہوں ٗ اپنے لیے نہیں ٗ غریبوں کیلئے اقتدارچاہتاہوں ٗ کیا آپ میرا ساتھ دیں گے ٗ آپ میرا ساتھ دیں گے تو میں بھی آپ کو مایوس نہیں کروں گا۔

مزید پڑھیں۔  عمران خان نااہلی، ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت آج پھر ہوگی

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں