بڑھتے وزن کی بڑی وجہ سامنے ٓگئی!’موٹاپے کی وجہ کھانا پینا نہیں محولیاتی آلودگی ہے!!!

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ صوتی آلودگی انسانی صحت کے لئے انتہائی مضر ہے اور ماحولیاتی آلودگی کی طرح یہ بھی جسم پر منفی طریقے سے اثرانداز ہوتی ہے۔اس کی وجہ سے جہاں انسان بے خوابی کا شکار رہتا ہے وہیں اسے فالج اور دل کے امراض لاحق ہوتے ہیں۔برطانیہ کی کوئین میری یونیورسٹی کے ماہرپروفیسر سٹیفن سٹینسفیلڈ نے گذشتہ 30سال انسان کی صحت پر صوتی آلودگی کے اثرات پر کام کیا۔اس کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ کمپنیاں گھروں میں استعمال کی وجانے والی اشیاءکو بناتے ہوئے اب یہ کوشش کرنے لگی ہیں کہ ان کا شور کم سے کم ہو۔اس کا کہنا ہے کہ شور کی وجہ سے ہماری صحت بری طرح متاثر ہوتی ہے،آئیے آپ کو بھی بتاتے ہیں
ذہنی تناﺅ میں اضافہ
ہمارا جسم شور کی صورت میں جواب دینے کا عادی ہوتا ہے اور جب بھی شور ہوتا ہے تو ایک کیمیکل ’ڈوپامائین‘نکلتا ہے اور اس کے بعد دو اور کیمیکل نکلتے ہیں جو کہ ہمیں اس سے لڑنے کی طاقت دیتے ہیں۔ماہر نفسیات ڈاکٹر نرینا کا کہنا ہے کہ جب شور زیادہ دیر تک رہتا ہے تو جسم سے ’کورٹیسول‘نکلتا ہے جس کا صحت پر منفی اثر پڑتا ہے۔
وزن میں زیادتی
عام طور پر 45ڈیسیبل آواز کی حد تک انسانی جسم برداشت کرلیتا ہے لیکن اس سے اوپر شور جانے کی صورت میں وزن بڑھنے لگتا ہے۔سویڈش تحقیق کے مطابق ہر5ڈیسیبل بڑھنے پرہماری کمردو ملی میٹر بڑھتی ہے۔تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ جو لوگ ہوائی جہازوں کے راستوں پر رہتے ہیں ان میں شور کی وجہ سے وزن بڑھنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
یاداشت کی کمزوری
ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جو بچے شور والی جگہ پر بڑے ہوتے ہیں ان میں سیکھنے کا عمل اپنے ہم عمر بچوں سے کم ہونے کے ساتھ ان کی یاداشت بھی کمزور ہوتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ شور کی وجہ سے ہارمونز کے اخراج سے یاداشت کا عمل متاثر ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں۔  کیا ایڈز کا علاج ’گائے‘ میں محفوظ ہے؟

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں