غیرملکی ٹیموں کا دورہ پاکستان خوش آئند ہے، راشد لطیف

ورلڈ الیون میں جو بھی کرکٹر ٹیم کا حصہ بنے گا اس پر تنقید کے بجائے حوصلہ افزائی کرنا چاہے ، سابق کپتان کی خصوصی بات چیت
کراچی(این این آئی)پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز وکٹ کیپر راشد لطیف نے ورلڈ الیون سمیت سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کی ٹیم کے دورے پاکستان کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تین ماہ قبل غیر ملکی ٹیموں کی پیش گوئی کرچکا تھا۔خصوصی گفتگو میں راشد لطیف نے کہا کہ میں تین ماہ قبل غیر ملکی ٹیموں کی آمد کے حوالے سے پیش گوئی کرچکا تھا، دو ٹیمیں پاکستان آنے کے لیے تیار ہیں تاہم ایک اور بڑی ٹیم کا اعلان ابھی باقی ہے۔ورلڈ الیون کی پاکستان آمد سے متعلق راشد لطیف نے کہا کہ انٹرنیشنل کھلاڑوں پر مشتمل ٹیم عالمی سطح پر کرکٹ کونسل کی نمائندگی کرتی ہے، ورلڈ الیون میں جو بھی کرکٹر ٹیم کا حصہ بنے گا اس پر تنقید کے بجائے حوصلہ افزائی کرنا چاہے کیونکہ ماضی پی ایس ایل کے فائنل کے موقع پر غیر ملکی کھلاڑیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔سابق کپتان نے کہا کہ ٹیسٹ پلینگ نیشنز پر مشتمل ورلڈ الیون میں بدقسمتی سے کوئی بھی بھارتی کھلاڑی شامل نہیں ہوگا کیونکہ ممکن ہے مصروفیات کے باعث بھارتی کھلاڑی پاکستان آنے سے معذرت یا پھر عدم شرکت پر کوئی اور عذر پیش کردیں تاہم اگر بھارتی کھلاڑی پاکستان آئے تو بین الاقوامی سطح پر کرکٹ کے دلدادہ اس بات کا ضرور نوٹس لیں گے۔سری لنکن ٹیم پر حملے کے حوالے سے راشد لطیف نے کہاکہ 2009 کے بعد یہ سنہرا موقع ہے کہ تمام حالات اور واقعات کو بھلا کر سری لنکا کی ٹیم دوبارہ پاکستان آنے کو تیار ہے، اس ساری کاوش کے پیچھے پی سی بی کے موجودہ اور سابقہ چیئرمین کی محنت ہے۔سابق وکٹ کپیر نے کہا کہ اگر غیرملکی ٹیموں کا پاکستان میں قدم رکھنا پالیسی ہے تو یہ اقدام ملک و قوم کے لیے اچھا ثابت ہوگا، ٹی وی پر بیٹھ کر باتیں کرنے والوں سے صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ ماضی میں پی سی بی کی سربراہی کے لیے ایک کرکٹر کو منتخب کیا گیا مگر وہ اچھے چیئرمین ثابت نہیں ہوسکے۔راشد لطیف نے اپیل کی کہ کرکٹ کی واپسی کے معاملے میں ذاتی اختلافات کو بھول کر پی ایس ایل سمیت تمام ایونٹس کا کھل کر استقبال کیا جائے اور ہرقدم پر غیر ملکی کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے۔

مزید پڑھیں۔  کہا جارہا تھاحکومت جائیگی تو جانے والوں کی لائنیں لگ جائیں گی،صرف فصلی بٹیرے گئے،نواز شریف

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں