24 نومبر پروین شاکر کا یوم پیدائش۔

loading...

24 نومبر پروین شاکر کا یوم پیدائش۔

اس شرط پہ کھیلوں گی پیا پیار کی بازی
جیتوں تو تجھے پاؤں ، ہاروں تو پیا تیری

ہر لحظہ خیال تیرا رکھوں گی صرف اتنا
بیٹھ جاؤں تو بھی تیری اٹھ جاؤں تو بھی تیری

کچھ کر لوں گی حال اپنا ایسا میں ہمسفر
آنکھ لگے تو بھی تیری آنکھ کھلے تو بھی تیری

تیری ہر آہٹ پہ پالوں گی تعبیر ایسی
ہنس جاؤں تو بھی تیری روٹھ جاؤں تو بھی تیری

میں ساتھ تیرا کچھ ایسے دوں گی جانء جہاں
زنرہ ہوں تو بھی تیری مر جاؤں تو بھی تیری.

رپورٹ- اے۔ بی علیم

پروین شاکر 24 نومبر 1952 کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ 25 سال کی عمر میں ہی شاعری میں اپنا ایک نام پیدا کیا۔  ان کا پہلا شاعری مجموعہ “خوشبو” کے نام سے 1977 میں شائع ہوا۔ پروین شاکر کے کل چار شاعری مجوعے خوشبو، صد برگ، ماہ تمام اور انکار شائع ہوئے۔  پروین شاکر کی شاعری مردانہ معاشرے میں پستی عورت کے حق میں ایک آواز کی صورت تھی۔ سی ایس ایس کرنے سے پہلے پروین شاکر 9 سال تک کراچی کے ایک کالج میں انگلش لٹریچر پڑھاتی رہیں اور پھر سکالرشپ پہ باہر چلی گئیں۔ ان کی طلاق نے ان کی شاعری پر گہرا اثر ڈالا۔ جس نے معاشرے میں موجود جنسی امتیاز کے متعلق ان کی حساسیت میں اضافہ کیا۔ پروین شاکر جوان عمری میں ہی ایک کار حادثے کے دوران دسمبر 1994 میں جاں بحق ہوں گیں۔  پروین شاکر کو حکومت پاکستان کے جانب سے پرائڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا گیا۔

پروین شاکر کی یاد میں ان کی ایک نظم

خواب

پانیوں میں گھری لڑکیاں

نرم لہروں کے چھینٹے اڑاتی ہوئی

بات بے بات ہنستی ہوئی

اپنے خوابوں کے شہزادوں کا تذکرہ کر رہی تھیں

جو خاموش تھیں

ان کی آنکھوں میں بھی مسکراہٹ کی تحریر تھی

ان کے ہونٹوں کو بھی ان کہے خواب کا ذائقہ چومتا تھا!

آنے والے نئے موسموں کے سبھی پیرہن نیلمیں ہو چکے تھے!

دور ساحل پہ بیٹھی ہوئی ایک ننھی سی بچی

ہماری ہنسی اور موجوں کے آہنگ سے بے خبر

ریت سے ایک ننھا گھروندا بنانے میں مصروف تھی

اور میں سوچتی تھی

خدایا! یہ ہم لڑکیاں

کچی عمروں سے ہی خواب کیوں دیکھنا چاہتی ہیں

خواب کی حکمرانی میں کتنا تسلسل رہا ہے!

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں