سیاسی جماعتیں بمقابلہ مزہبی جماعت۔

Loading...

نوید نسیم (نسیم نامہ)
لاہور کے حلقہ این اے 120 میں ہونیوالے ضمنی انتخابات میں فیصلہ وہی آیا۔ جس کا سب کو اندازہ تھا اور پاکستان مسلم لیگ نواز نے پاکستان تحریک انصاف کو قدرے کم فرق سے ہی مگر شکست دے دی۔

اس ضمنی الیکشنزکے نتائج دیکھ کر ایک حقیقت جو اور سامنے آئی۔ وہ لاہور کے اس حلقے میں بھی پایا جانیوالا وہ مزہبی ووٹ ہے۔ جس کی وجہ سے 2013 کے عام انتخابات میں اس حلقے سے تیسرے نمبر پر آنیوالی پاکستان پیپلز پارٹی پانچویں پوزیشن پر پہنچ گئی۔

ایسا نہیں کہ اس حلقے میں مزہبی ووٹ پہلے موجود نہیں تھا۔ دراصل اس ضمنی الیکشنز میں دو جماعتوں تحریک لبیک پاکستان اور ملی مسلم لیگ کا الیکشنز میں حصہ لینا اور مجموعی طور پر 10 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کرنا حیران کُن ہے۔

17 ستمبر کو ہونیوالے ضمنی الیکشنز میں 2013 کے 51.85 فیصد ٹرن آئوٹ کے مقابلے میں ٹرم آؤٹ 39.43 فیصد رہا اور اس کم ٹرن آئوٹ میں بھی دونوں جماعتوں کا 10 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کرنا یقینی طور پر اچنبے کی بات ہے۔

اس ضمنی الیکشنز میں نواز لیگ کی جیتنے والی امیدوار کلثوم نواز کو 49.34 فیصد ووٹ ملے۔ جوکہ 2013 کے عام انتخابات میں 59.8 فیصد کے مقابلے میں تقریباً 10 فیصد کم ہیں۔

ووٹر ٹرن آئوٹ کم ہونے کے باوجود ملی مسلم لیگ اور تحریک لبیک پاکستان کا 10.2 فیصد ووٹ بھی درحقیقت نواز لیگ کا ووٹ ہی ہے۔ جوکہ 2013 کے عام انتخابات میں نواز شریف کے ساتھ تھا۔ مگر 4 سالوں بعد ہونیوالے ضمنی انتخابات میں نواز لیگ سے الگ ہوگیا۔

تحریک لبیک پاکستان کو ووٹ ڈالنے والے 5.62 فیصد (7130 ووٹ) اصل میں وہ ووٹرز ہیں۔ جن کا تعلق بریلوی مسلک سے ہے اور یہ مسلک سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو قتل کرنے والے ممتاز قادری کو پھانسی دینے کی وجہ سے نواز حکومت سے سخت ناراض ہے۔ جس نفرت کا اظہار اس مسلک سے تعلق رکھنے والے ووٹرز نے اپنا ووٹ تحریک لبیک پاکستان کو دے کر کیا۔

4.58 فیصد (5822 ووٹ) حاصل کرنے والے امیدوار شیخ یعقوب جس کی سپورٹ جماعت الدعوہ کررہی تھی۔ اس جماعت کو اُن ناراض ووٹرز کے ووٹ ملے جوکہ حافظ سعید کی پنجاب حکومت کی طرف سے جبری نظر بندی کے سبب ناراض ہیں۔ اس کے علاوہ ہندوستان اور اقوام متحدہ کی طرف سے آنیوالے پریشر کی وجہ سے حکومت کی طرف سے جماعت الدعوہ کی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

ان ناراض ووٹرز کے علاوہ کشمیری برادری سے تعلق رکھنے والے ووٹرز کے ووٹ بھی جماعت الدعوہ کے حمائت یافتہ آزاد امیدوار کو ملے۔ جوکہ مقبوضہ کشمیر میں مسلحہ اور غیر مسلحہ جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ اس حلقے میں رہائش پزیر اہلیحدیث مسلک سے تعلق رکھنے ووٹرز نے نواز لیگ کی بجائے حافظ سعید کی تصویریں آویزاں کرنے والے امیدوار شیخ یعقوب کو اپنے ووٹوں کا اہل سمجھا۔

ملی مسلم لیگ اور تحریک لبیک پاکستان کو ملنے والے ووٹ اور نواز لیگ کے ووٹوں میں کمی یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ نواز لیگ کو اب مزہبی جماعتوں کی سپورٹ حاصل نہیں رہی اور جو 10 فیصد ووٹ مزہبی جماعتوں کو ملا۔ وہ ووٹ 2013 کے عام انتخابات میں نواز لیگ کے ووٹ بنک میں شامل تھا۔

Loading...

اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ 10 فیصد ووٹ جو ان دونوں جماعتوں کو ملا۔ اگر نواز لیگ کو ضمنی الیکشنز میں ملنے والے 49.34 فیصد ووٹوں میں شامل کرلیا جائے تو نواز لیگ کو 2013 میں پڑنے والے(59.8) فیصد ووٹوں کے تقریباً برابر ہوجائیگا۔

اس ضمنی الیکشنز میں مایوس ترین کارکردگی پاکستان پیپلز پارٹی کی ہے۔ جوکہ پنجاب میں مظبوط ہونے کے دعوے تو کرتی ہے۔ مگر ان ضمنی انتخابات میں 2013 کے عام انتخابات میں حاصل کردہ ووٹوں (2604) کے مقابلے میں صرف 1414 ووٹ ہے۔

پینامہ لیکس فیصلے کے بعد ہونیوالے ان ضمنی الیکشنز کو اگلے سال ہونیوالے عام انتخابات کا ٹریلر کہا جارہا ہے۔ جس سے ثابت یہ ہوا کہ،

سپریم کورٹ کی طرف سے سابق وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دینے کا فیصلہ ووٹرز کیلئے اہمیت نہیں رکھتا۔

اس ضمنی انتخابات میں یہ بھی ثابت ہوگیا کہ نواز لیگ کو مزہبی جماعتوں اور خاص کر اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ والی مزہبی جماعتوں کی سپورٹ حاصل نہیں رہی۔ جس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ناصرف مزہبی جماعتیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ نے بھی نواز لیگ سے ہاتھ اٹھا لیا ہے۔

لاہور کے اس حلقے میں ہونیوالے ضمنی الیکشنز سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ اگلے عام انتخابات میں مقابلہ صرف سیاسی جماعتوں کے درمیان نہیں بلکہ مزہبی جماعتوں کے درمیان بھی ہوگا۔ جس کی وجہ سے الیکشنز سے پہلے اور الیکشنز کے دن فرقہ وارانہ فسادات ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

اس ضمنی الیکشنز سے یہ بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اگلے الیکشنز میں زات برادری کے علاوہ حلقے میں رہنے والے مسالک بھی الیکشنز میں قلیدی کردار ادا کریں گے۔

تحریک انصاف کے لئے اس ضمنی الیکشنز اور لاہور کے حلقہ این اے 122 میں ہونیوالے ضمنی الیکشنز سے سیکھنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں الیکشن لڑانے کیلئے امیدوار کا مالی طور پر تگڑا ہونا لازمی ہے۔ جیسے علیم خان نے اپنے پیسے کی بنیاد پر سردار ایاز صادق کا کڑا مقابلہ کیا۔

لاہور کے حلقہ این اے 120 میں ہونیوالے ضمنی الیکشنز کا جو بھی فیصلہ آیا۔ لیکن ان الیکشنز کے نتائج نے صوبائی اور وفاقی انتظامیہ کے علاوہ الیکشن کمیشن کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اگلے انتخابات میں انتہا پسند مزہبی جماعتوں کو الیکشنز میں حصہ لینے سے کیسے روکا جائے۔

اگلے عام انتخابات سے پہلے الیکشن کمیشن کو ایسی اصلاحات کرنے پڑیگی۔ جن کی وجہ سے اگلے عام انتخابات سیاسی جماعتوں کے درمیان ہی ہوں اور کسی خاص مسلک کی بنیاد پر سیاسی پارٹیاں نابننے دی جائیں اور اگر مزہبی سیاسی جماعتوں نے اگلے عام انتخابات میں حصہ لینا ہی ہے تو اسے اپنے خاص مسلک کو استعمال کرنے کی ہرگز ہرگز اجازت نہیں ہونی چاہیئے۔

(Visited 22 times, 1 visits today)
loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں