بینظیر کا قتل اسامہ بن لادن کے حکم پر کیا گیا

loading...

بینظیر کو کس نے قتل کیا۔ (پارٹ ٹو)

بینظیر کو کس نے اور کیوں قتل کیا اس سوال کا جواب ابھی تک مبہم ہے لیکن 2009 میں گرفتار ہوئے میجر ہارون(جس کا ذکر اس رپورٹ کے پہلے حصے میں کیا گیا ہے) نے جو اعترافات کیے، ان سے بینظیر کے قتل کے ماسٹر مائینڈ کا پتا چلتا ہے۔ راقم خود ان ثبوتوں تک رسائی میں کامیاب رہا ہے۔

ہارون نے تفشیش کاروں کے سامنے انکشاف کیا کہ بینظیر کے قتل کا حکم القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن نے دیا تھا۔ اور اس قتل کو سر انجام دینے کا ٹاسک بیت اللہ محسود کو دیا گیا تھا۔  ہارون نے دعوایٰ کیا کہ “بیت اللہ محسود” اور “اسامہ بن لادن” کے درمیان رابط کار “ابو عبیدہ المسری” تھا۔ المرسی القاعدہ کے پاکستان آپریشن کا انچارج تھا۔  ہارون نے کہا کہ اسے یہ سب معلومات الیاس کشمیری نے دی تھی۔ جو کہ خود بھی آرمی کا سابق ایس ایس جی کمانڈو تھا۔ الیاس کشمیری اسامہ کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتا تھا۔ اور ابیٹ آباد آپریشن میں اسامہ کی حلاکت بعد کشمیری کے بار ے میں امریکی انسداد دہشت گردی کے ماہرین کے خیال تھا کہ وہ القاعدہ کا نیا سربراہ بنے گا۔

یاد رہے کہ میجر ہاورن اور الیاس کشمیری ممبی حملوں کے منصوبہ ساز تھے اور دونوں اس کے عللاوہ بھی متعدد آپریشنز میں اکٹھے حصہ لے چکے تھے۔  اور راقم نے ہارون کے ان اعترافی بیانات تک رسائی حاصل کی جو ظاہر کرتے ہیں کہ 18 اکتوبر کو بینظیر پر ہونے والے ناکام حملے کا حکم بھی اسامہ نے دیا تھا اور یہ حملہ بھی بیت اللہ محسود کے لوگوں نے کیا تھا۔ یہی نیٹ ورک دو ماہ بعد بینظیر کو قتل کرنے میں کامیاب رہا تھا۔  میجر ہاورن نے اپنے اعترافی بیان میں مزید انکشافک کیا کہ وہ جانتا تھا کہ بینظیر ایک بہادر خاتون ہے اور وہ سکیورٹی کے خطرے کی پرواہ نہیں کرے گی اور دہشت گردوں کو حملے کا موقع ضرور دے گی اور یہی ہوا۔  میجر ہارون ان دنوں اڈیالہ جیل میں قید ہے۔

یہ انکشافات تحقیاقات کرنے والی ایجنسیوں کے لیے حیران کن نہیں تھے۔ لیکن ان حاصل ہونے والے شواہد میں مسنگ لنکس زیادہ تھے۔  بینظیر قتل کیس کی تفشیش کے ساتھ منسلک رہنے والے ایف آئی اے کے ایک اعلیٰ آفسر نے بتایا کہ یہ سب ثبوت ہم تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ ہوچکے تھے۔ جس کی وجہ سے وہ ان ثبوتوں کو ایک لڑی میں پرو کر سرکاری سطح پر کچھ نہیں کر سکتے تھے لیکن انہیں اس بات کا یقین ہے کہ بینظیر کا قتل بیت اللہ محسود نے عربوں (اسامہ) کے کہنے پر کیا۔

القاعدہ جنگ کو پاکستان کے گلی محلوں تک لانا چاہتی تھی تاکہ پاکستان کی افواج اور ایجنسیوں کو اپنے ہی ملک میں ایک ایسی جنگ میں پھنسا دیا جائے تاکہ وہ القاعدہ سے جنگ نا کر پائیں۔  اور بینظیر کا قتل بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی تھا۔  بینظیر کا قتل اسامہ کے حکم پر کیا گیا۔ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ایبٹ آباد آپریشن کے بعد اسامہ کے گھر سے ملنے والی دستاویزات سے ملتا ہے۔ انہیں دستاویزات میں سے ایک خط ملا ہے جسے راقم خود دیکھ چکا ہے۔ یہ خط “المسری” کی جانب سے بینظیر کے قتل کے دو دن بعد اسامہ بن لادن کو ارسال کیا گیا تھا۔ اس خط میں راولپنڈٰی آپریشن کی کامیابی کے بارے میں اسامہ کا آگاہ کیا گیا تھا۔  اس خط کے میں مزید کہا گیا تھا کہ  ” لال مسجد اور حفصہ میں مارے جانے والے ہمارے بھائیوں اور بہنوں کے بدلے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے”  اس کے علاوہ اور بہت سارے ایسے شواہد ہیں جو اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ بینظیر کا قتل اسامہ بن  لادن کے حکم پر کیا گیا۔

تاہم  31 اگست کو روالپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے بینظیر قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے  تحریک طالبان پاکستان  کے ساتھ  منسلک پانچ ملزمان کو رہا کردیا جبکہ  دو پولیس افسران کو مجرمانہ غفلت برتنے پر 17 سال قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے اس کیس میں اس وقت کے صدر مشرف کو مفرور قرار دیا ۔

مدیر

یہ  انویسٹی گیٹو   نیوز  انگلش اخبار  ڈان کے لیے محترم ضیا د ظفر نے لکھی تھی ۔ جو  دو حصوں میں ترجمہ کر کے روزنامہ آج کل پر شائع کی گئی ہے۔

مترجم  اے بی  علیم

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں