کیا اسلامی جہموریہ پاکستان میں بھی ’ہم جنسی’ کو قانونی سرپرستی ملنے لگ گئی ہے؟

بورے والا (آج کل نیوز )مر د کا مر د سے نکاح چار سال قبل ہونے والے اس نکاح کے خلاف شہری نے مقدمہ کے اندراج کے لئے درخوا ست دے دی۔

تفصیل کے مطابق محمد طارق سکنہ 445ای بی نے اعلیٰ حکام کو درخواست میں مو قف اختیار کیا ہے کہ ساہوکا کے نکاح خواں حافظ نذیر احمد نے تھانہ سٹی کی حدود میں 10مئی 2013کو 445ای بی اور ٹائون یونین 62 نمبر میں ڈاکٹر محمد دین سکنہ ایف بلاک کا بطور دولہا 445ای بی کے ذو الفقار علی سے نکاح بطور دلہن گواہان محمد اکرم ،علی اصغر ، غلام حسین ،محمد عابد اور شو کت علی کی موجود گی میں کر دیا۔ نکاح نامہ پر دونوں مردوں نے بطور دولہا اور دلہن انگو ٹھے بھی ثبت کئے۔ حق مہر 25سو روپے بھی مقرر کیا گیا جسے بعد ازاں نکاح رجسٹرار لیاقت علی سکنہ 445ای بی نے رجسٹرڈ بھی کر دیا۔

loading...

طارق محمود نے تحصیل میونسپل آفیسر کو فریق بنا تے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ نکاح دفتریونین کو نسل میں درج بھی کر دیا۔ طارق محمو د نے دی گئی درخواست میں مزید کہا کہ مرد کا مرد سے نکاح کر وا کر اسے رجسٹرڈ کر نا قرآن و سنت کے خلاف فعل ہے۔چار سال گزر جانے کے باوجود نکاح کو منسوخ بھی نہیں کیا گیا۔ جب مر دکے مر د کے ساتھ رجسٹرڈ نکاح کے بارے میں مقامی پولیس اور متعلقہ حکام سے را بطہ کیا گیا تو کوئی کاروائی نہ کی گئی۔ طارق محمود نے وکیل کے توسط سے دائر کر دہ درخواست میں موقف اختیار کیا کہ تمام ذمہ داران کے خلاف مقدمہ کا اندراج کیا جائے۔ عدالت نے طارق محمود کی درخواست پر جوابدہی کے لئے فریق ایس ڈی پی او کو اگلی پیشی پر عدالت میں طلب کر لیا۔

مزید پڑھیں۔  خیبرپختونخوا کے نومنتخب وزیراعلیٰ محمود خان نے عہدے کا حلف اٹھالیا

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں