کیا ایڈز کا علاج ’گائے‘ میں محفوظ ہے؟

بھارت، گاؤ رکھشک
loading...

’مہلک بیماریوں میں سے سب سے خطرناک اور ناقابلِ علاج بیماری ’ایڈز کی ویکسین ‘ گائے کی مدد سے بنائی جا سکتی ہے !‘ امریکہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ۔ ۔

امریکی محققین کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی سے نمٹنے کے لیے ویکسین بنانے میں گائے کافی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
مدافعت کے طور پر گائے مسلسل ایسے خاص اینٹی باڈی بناتی ہے جن کے ذریعے ایچ آئی وی کو ختم کیا جا سکتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ گائیوں کے نظام ہضم میں بیکٹریا کی بڑی تعداد موجود ہونے کے باعث ان کی مدافعتی صلاحیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔
امریکہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ نے اس نئی معلومات کو بہترین قرار دیا ہے۔
ایچ آئی وی ایک مہلک بیماری ہے اور مریض کے مدافعتی نظام پر حملہ کرتا ہے۔
ایک ویکسین مریض کے مدافعتی نظام کو ایسا بنا سکتا ہے جس سے اینٹی باڈیز بن سکیں جن کے باعث لوگوں کو ایچ آئی وی نہ ہو۔
انٹرنیشنل ایڈز ویکسین انیشی ایٹو اور دی سكرپس ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے گائیوں پر تجربے شروع کیے۔
ایک محقق ڈاکٹر ڈیون سوک نے بی بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا ‘ان تجربات کے نتائج نے ہمیں حیران کر دیا۔

انھوں نے بتایا کہ گائیوں میں مدافعتی نظام کے لیے ضروری اینٹی باڈیز چند ہفتوں میں بن جاتی ہیں۔
ڈاکٹر سوک نے کہا ‘یہ انتہائی حیران کر دینے والا موقع تھا۔ انسانوں میں ایسے اینٹی باڈیز تیار ہونے میں تقریباً تین سے پانچ سال لگ جاتے ہیں۔‘انہوں نے کہا ’یہ انتہائی اہم ہے کیونکہ اس سے پہلے یہ اتنا آسان نہیں لگ رہا تھا۔ کسے معلوم تھا کہ ایچ آئی وی کے علاج میں گائے مددگار ہو گی

مزید پڑھیں۔  فٹ بال ورلڈ کپ ،مراکش اور اسپین کا میچ 2-2 سے برابر

نیچر نامی جرنل میں شائع نتائج میں بتایا گیا ہے کہ گائے کی اینٹی باڈیز سے ایچ آئی وی کے اثر کو 42 دنوں میں 20 فیصد تک ختم کیا جا سکتا ہے۔
لیبارٹری ٹیسٹ میں پتہ چلا کہ 381 دنوں میں یہ اینٹی باڈیز 96 فیصد تک ایچ آئی وی کو بے اثر کر سکتے ہیں۔
ایک اور محقق ڈاکٹر ڈینس برٹن نے کہا کہ اس مطالعے سے حاصل ہونے والی معلومات بہت فائدہ مند ہیں۔ ‘انسانوں کے مقابلے میں جانوروں کے اینٹی باڈیز زیادہ منفرد ہوتے ہیں اور ایچ آئی وی کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔’

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں