شرجیل خان پر اسپاٹ فکسنگ الظام میں 5 سال کی پابندی عائد

loading...

لاہور: اینٹی کرپشن ٹریبونل نے اسپاٹ فکسنگ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے شرجیل خان پر پانچ سال کی پابندی عائد کردی۔ پاکستان سپر لیگ میں اسپاٹ فکسنگ کیس میں شرجیل خان اور خالد لطیف سمیت 5 کرکٹرز کو معطل کیا گیا۔ شرجیل خان پر 2 گیندیں لیفٹ کرنے اور بُکیوں سے رابطے چھپانے کے الزامات تھے۔ شرجیل خان کا کیس اینٹی کرپشن ٹریبونل میں زیر سماعت تھا اور کیس کی سماعت 24 مارچ کو شروع ہوئی تھی، شرجیل خان کو پی سی بی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر 18فروری کو چارج شیٹ کیا گیا جب کہ معطل کرکٹر نے 29 جولائی کو حتمی دلائل جمع کرائے تھے۔
پی سی بی کے اینٹی کرپشن ٹریبونل نے کیس کا مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کرکٹر شرجیل خان پر پانچ سال کی پابندی عائد کردی ہے۔ مختصر فیصلے کے مطابق شرجیل خان پر پی سی بی کے ضابطہ اخلاق کی پانچ شقوں کا الزام عائد کیا گیا تھا جو ثابت ہونے پر انہیں سزا سنائی گئی۔
شرجیل خان کی پانچ سال کی سزا میں وہ ڈھائی سال معطل یعنی کرکٹ سے مکمل دور رہیں گے جب کہ ڈھائی سال پی سی بی کے انڈر آبزرویشن رہیں گے تاہم ان پر کسی قسم کا جرمانہ عائد نہیں کیا گیا ہے۔
دوسری جانب شرجیل خان کے وکیل نے پریس کانفرنس میں فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ تفصیلی فیصلہ آنے کے 14 روز بعد اپیل کریں گے. شرجیل خان کے وکیل شیغان اعجازنے کہا کہ شرجیل پر پابندی کا اطلاق 10 فروری 2017 سے ہوگا تاہم فیصلے پر تحفظات اور اس سے اختلاف ہے جس کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔
شیغان اعجاز نے کہا کہ جس فیصلے کی توقع کررہے تھے وہ نہیں آیا، یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ کن گراؤنڈز پر سزا دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلے پر زیادہ سے زیادہ بات تفصیلی فیصلہ سامنے آنے کے بعد ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ شرجیل خان پر یہ ذمہ داری نہیں تھی کہ وہ اپنی بے گناہی ثابت کریں بلکہ پی سی بی نے اپنی شہادتوں سے الزام ثابت کرنا تھا۔
علاوہ ازیں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین تفضل رضوی نے بھی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ شرجیل خان پر تمام الزامات درست ثابت ہوئے ہیں، انہیں ہر جرم میں کم سے کم سزا دی گئی اور جرمانہ بھی نہیں کیا گیا ہے۔
تفضل رضوی کا کہنا تھا کہ اتنے عرصے سے کہا جارہا تھا کہ پی سی بی کے پاس کوئی شواہد نہیں لیکن آج یہ بات ثابت ہوگئی کہ تمام شواہد اور ثبوت ٹھوس تھے جب کہ پہلے ہی کہا تھا کہ فیصلہ آئے گا تو تمام باتیں روزِ روشن کی طرح عیاں ہوجائیں گی۔انہوں نے کہا کہ شرجیل خان کی معطل کی سزا ڈھائی سال ہے، معطلی کا یہ مطلب نہیں کہ ڈھائی سال بعد خود بخود واپس آجائیں گے، اس حوالے سے پورا ایک عمل ہے تاہم یہ تمام باتیں مکمل فیصلہ دیکھنے کے بعد ہی ہوسکیں گی۔تفضل رضوی نے مزید کہا کہ فیصلے پر اپیل کا حق محفوظ رکھتے ہیں، پانچ سال کم سے کم سزا ہے اس پر اپیل کرسکتے ہیں کہ سزا زیادہ ملنی چاہیے کیونکہ کوئی بھی غلط کام کرے گا تو اسے جزا و سزا اس کے مطابق ملے گی۔
پی سی بی کے وکیل کا کہنا تھا کہ ہم نے جرمانے کی درخواست کی تھی لیکن جرمانہ نہیں ہوا تاہم یہ پی سی بی کی مکمل کامیابی ہے کہ تمام الزامات درست ثابت ہوئے۔ ایک سوال کے جواب میں تفضل رضوی نے کہا کہ باقی کھلاڑیوں کے معاملات ابھی ٹریبونل کے سامنے ہیں اس پر کوئی بات نہیں کرسکتا۔
اس موقع پر صحافیوں نے شرجیل خان سے بات کرنے کا کہا تاہم ان کے وکیل نے شرجیل کو بات کرنے سے روک دیا۔

مزید پڑھیں۔  محمد حفیظ کو نوٹس، پاکستان کرکٹ بورڈ

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں