کیا مزدور ، مزدور ہی رہے گا؟ یسرٰی انصاری

Loading...

اسلام چند مذہبی عبادات اور رسومات کی نہیں بلکہ ایک مکمل اور اکمل نظام زندگی کی بات کرتا ہے۔ جس میں انفرادی اور اجتماعی ہر سطح پر ہر فرد اور گرو کے حقوق اور ذمہ داریوں کا قابل مثال متوازن نظام ہے۔

 نبی رحمت نے برس بابرس معاشرے کے قابل رحم اور پسے ہوئے مظلوم طبقات کو ظلم و استبدار کے پنجوں سے چھڑاکرااپنے دامن رحمت میں پناہ دی مزدور جو غلامی کے طوق گلے میں ڈالے نسل درنسل بکتے چلے جارہے تھے اسلام نے آکر بتدریج تصور غلامی کو ختم کرتے ہوئے ایسا انقلا ب برپا کیا کہ دنیا سے غلامی کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا۔

 آجر اور اجیر کے درمیان ایسا رشتہ قائم فرمایا کہ مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی اجرت دے دی جائے محنت سے کمائی کرنا اور رزق حلال حاصل کرنے کے لیے کوشش کرنے کو انسان کی بہترین کمائی قرار دیتے ہوئے لاچاری کمزوری دست سوال دراز کرنے کی نفسیات کی حوصلہ شکنی فرمائی ، ایک مزدور کے لیے اس سے زیادہ مسرت اور خوشی کی کیا بات ہو سکتی ہے۔

 اللہ کے نبی ؑ نے فرمایا : الکاسب حبیب اللہ محنت کرنے والا اللہ کا محبوب ہے

آپ نے خود ایک موقع پر مزدور کے ہاتھ کو بوسہ دیتے ہوئے غریب کو عزت سے سرفراز فرمایا غریب ہونے کی وجہ سے کسی طور پر کسی سے کمتر نہیں کیوں کہ عزت وشرف کا معیار ، روپیہ پیسہ حسب ونسب یارنگ روپ نہیں بلکہ تقویٰ یعنی احلاق وکردارہے۔

افسوس آج ظلمانانہ نظام نے جہاں ہر طبقے کو ظلم وجور سے دوچار کر رکھاہے ۔ وہا ں مزدور بھی اس نظام کے تحت غریب سے غریب تر ہوتے جارہے ہیں۔

 اس سے اسلام نے ظلم کی اس سفاکانہ سوچ کی مذمت کی ، ارشاد مبارک ہے۔ ظلم سے بچو کیوں کہ ظلم قیامت کے اندھیروں میں اضافے کا باعث ہوگا (صیح مسلم )

کیونکہ جب کوئی معاشرہ ظلم وستم سے آلودہ ہو جاتا ہے تو اس لمحے عدل انصاف وہاں سے رخصت ہوجاتا ہے پھر اس جگہ ظلم بہ جواب ظلم اور قتل وغارت گری ، چوری لوٹ کھسوٹ ، رشوت ، بے حیائی ، اور کرپشن کی چھوٹی بڑی تمام اقسام جنم لینے لگتی ہیں آج دیکھا جائے تو یہ ظلم انفرادی اور اجتماعی ہر سطح پر جاری ہے۔

 ہر زیردست اپنے زیردست پر ظلم روار رکھے ہوئے ہے بڑے بڑے کارخانوں اور فیکٹریوں میں ٹھیکیداری نظام کے تحت جس طرح مزدورں کا استحصال ہورہا ہے ، وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے، لوگوں کی مجبوریوں سے ناجائز فائدہ اٹھانے والے بھی اسی معاشرے کے افراد ہیں۔

 افسوس تو اس بات کا ہے کہ لیبر منسٹری ، لیبر قوانین ، لیبر کورٹس ، لیبر تنظیمیں اور لیبر یونینز ہونے کے باوجود آج تاکسی مزدور کو اس سے جائز حق نہیں مل رہا۔ و ہ افراد جو کسی فیکٹر ی یا کارخانے کے ملازم نہیں اور واقعی مزدور ہیں جورو ز کنواں کھود کر پانی پینے کے مترادف ہر صبح بڑی شاہراہوں کی چورنگیواں پر بیٹھ کر اپنا کام تلاش کرتے ہیں۔

مزدور

Loading...

 ان کے حقوق کا نہ تعین کیا گیا ہے اورنہ ہی انہیں وہ عزت حاصل ہے جوان کا نام ماسی رکھ کردی جانی چاہیے تھی۔میں تو سمجھتی ہوں ہمارے نجی اسکولز بھی تعلیمی درس گاہ ہیں کم اور کارخانے زیادہ نظر آتے ہیں۔ اسکولز مالکان جس قدر بھاری فیس طلباٗ سے وصول کرتے ہیں ۔

 اس کے تناسب سے ٹیچر ز کو تنخواہ نہیں دیتے بلکہ ان کا استحصال کیا جاتا ہے وہ مجبور ہیں کہ نہ انہیں تقررنامہ ملتا ہے اور نہ ہی ملازمت پکی ہے ۔ جب چاہا کھڑے کھڑے نکال باہر کیا۔ دوسری طرف سکول مالکان ایک سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے کمیپیں کھولنے میں مصروف ہیں ۔

 ہر طرف ظلم کا ایک سماں جاری ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیشہ اسی دنیا میں رہیں گے اپنے مردوں کو اپنے ہاتھوں سے منوں مٹی تلے سپرد خاک کرتے ہوئے بھی ہمیں دنیا کی بے شانی آخرت میں اپنی پیشی کا احساس نہیں ہوتا۔

 اسلام کی تعلیم تویہ ہے کہ اپنے غلام پر اسی کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالو کاموں میں اس کے ساتھ تعاون کرو۔

اگر وہ تمھارے لئے کھانا پکائے تواسے پہلے کھلاؤ اگر کھانا کم ہوتو بھی ایک دولقمے ہی اسکے منہ میں ڈال دو۔ انداز ہ لگائیے ایسا معاشرہ اسی طرح قائم ہوسکتاہے۔ ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود ایاز نہ بندہ رہا نہ بندہ نوز ، سید نا فاروق اعظمؓ کے فتح شام وفلسطین کا وہ مشہور واقعہ اسلامی تاریخ کا روشن باب ہے کہ جب آپ اور آپ کا غلام آپ کی سخت ہدایت کے باعث ایک ہی اونٹنی پر سوار باری باری سواری کرتے ہوئے بیت المقدس پہنچے تھے۔

 کیا آج ہمارے حکمران ،مذہبی پیشوا ، سیاستدان وسماجی رہنما وصنعت کا سرمای دار ایسی مثال کی ایک جھلک بھی اپنے کردار سے پیش کر سکتے ہیں ، نبی کریم ؑ نے غلاموں کو اس قدر اونچا مقام عطا فرمایا تھا کہ مالک وآقا کے لئے غلاموں کی خاطر داری ضروری ہوگئی تھی۔

مزدور

 ایک صحابیؓ نے دریافت کیا : اگر میرا غلام غلطی کرے تو میں دن میں کتنی مرتبہ اسے معاف کروں؟اللہ کے رسول نبی رحمت نے ارشاد فرمایا ، ایک دن میں 100مرتبہ معاف کر نا اندازہ لگائیے غلام کے لیے عفودرگزر معانی ، رحمت کسی قدر ضروری ہوگی ۔کیوں کہ مزدور غلام نہیں بلکہ عارضی طور پر اپنا حق محنت وصول کرتا ہے۔

 ہر سال ہم ایک رسم کی طرح یوم مئی پر تعطیل کے باعث روزانہ اجرت کرنے والوں کے ہاں نہ جانے چولہا کیوں سرد پڑارہتا ہے؟ کپڑے کا سوٹ کیوں نہیں پہن سکتا؟

 جس کا رخانے میں کام کرتے کرتے بڑھاپے ک دہلیز پر آکر کام سے محروم کیا جاتا ہے وہاں سے پنشن کا حق دارکیوں نہیں بن سکتا ؟ یہ اور اسے جیسے لاتعداد سوالات قارئین کے لیے چھوڑتی ہوں ۔

خداراسب مل کران سوالات کے جواب تلاش کریں۔

(Visited 40 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں