صدر کون اور کیسے بنے گا ؟

columnist_naveed_nasim-aajkal_google
loading...

(نوید نسیم)

عام انتخابات کے بعد 6 ستمبر کو صدارتی انتخابات ہونے جارہے ہیں۔ جسمیں 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں قومی و صوبائی اسمبلی کے منتخب ہونے والے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی ووٹ دیں گے۔ اس کے علاوہ سینیٹ کے 104 اراکین بھی صدر کو منتخب کرنے کیلئے انتخابی عمل کا حصّہ ہونگے۔

حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے کراچی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عارف علوی کو صدارتی امیدوار نامزد کیا گیا ہے۔ جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے بیرسٹر اعتزاز احسن کو صدارتی امیدوار نامزد کیا گیا ہےاور پاکستان مسلم لیگ نواز کی طرف سے سربراہ جمیعت علما اسلام فضل الرحمان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو صدارتی امیدوار نامزد کیا گیا ہے۔

اپوزیشن کی طرف سے مشترکہ امیدوار نامزد نا کرنے کا فائدہ یقینی طور پر پاکستان تحریک انصاف کو ہوگا۔ جس کے امیدوار ڈاکٹر عارف علوی کو 342 کے قریب ووٹ ملنے کی امید ہے۔

صدارتی انتخابات کی سائنس اور موجودہ صورتحال۔

صدارتی انتخاب کے لیے دستور میں ایک الیکٹورل کالج تشکیل دیا گیا ہے۔ اس میں قومی اسمبلی کے ہر رکن، سینٹ کے ہر رکن اور بلوچستان اسمبلی کے ہر رکن کو ایک ایک ووٹ حاصل ہے۔

دیگر تین صوبائی اسمبلیوں پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کو سب سے چھوٹی اسمبلی بلوچستان اسمبلی کے ارکان کی تعدد کے برابر یعنی 65، 65 ووٹ ملتے ہیں۔ یوں ان اسمبلیوں کے ٹوٹل ارکان کی تعداد کو 65 پر تقسیم کرنے سے جو نمبر نکلتا ہے، ان تین صوبائی اسمبلیوں کے اتنے اتنے اراکین مل کر صدارتی انتخاب کیلئے ایک ووٹ کے برابر شمار کیا جاتا ہے۔ لہزا پنجاب اسمبلی کے 5.9 اراکین، سندھ کے 2.71 اراکین، کے پی کے 1.86 اراکین کے ووٹ صدارتی امیدوار کو ملنے والے ایک ووٹ کے برابر ہونگے۔

مزید پڑھیں۔  امریکی ڈرون طیاروں کے ذریعے ایران کے خفیہ بیلسٹک میزائلوں کا انکشاف

اس طرح قومی اسمبلی کے 342، سینیٹ کے 104 اور چار صوبائی اسمبلیوں کے 65×4 ارکان کا مجموعہ 706 نکلتا ہے جو کہ الیکٹورل کالج کا مجموعی نمبر ہے۔جسمیں سے جیتنے والے امیدوار کو 337 ووٹ درکار ہوتے ہیں۔

موجودہ صورتحال۔

سینیٹ

سینٹ میں 68 اراکین کا تعلق اپوزیشن الائنس سے، 34 اراکین کا تعلق پی ٹی آئی الائنس سے اور2 آزاد اراکین آزاد ہیں۔

قومی اسمبلی

قومی اسمبلی میں اس وقت 342 میں سے 330 ارکان موجود ہیں اور 12 سیٹیں خالی ہیں۔ 330 میں 175 ارکان پی ٹی آئی الائنس، 151 اپوزیشن الائنس اور 4 آزاد ارکان ہیں۔

صوبائی اسمبلیوں کی انتخابی صورتحال۔

پنجاب اسمبلی 354 ÷ 65 : 5.9

حکومتی الائنس : 186 ÷ 5.9 (32 ووٹ)

اپوزیشن الائنس : 159 ÷ 5.9 (27 ووٹ)

آزاد : 2 ÷ 5.9 (0.33 ووٹ)

سندھ اسمبلی 163 ÷ 65 : 2.71

پی ٹی آئی الائنس : 62 ÷ 2.71 (23 ووٹ)

اپوزیشن الائنس : 97 ÷ 2.71 (36 ووٹ)

تحریک لبیک : 3 ÷ 2.71 (1 ووٹ)

کے پی اسمبلی 112 ÷ 65 : 1.86

حکومتی الائنس : 76÷1.86 (41 ووٹ)

اپوزیشن الائنس : 27÷1.86 (14 ووٹ)

پاکستان پیپلز پارٹی: 5÷1.86 (3 ووٹ)

آزاد : 4÷1.90 (2 ووٹ)

بلوچستان اسمبلی 65 :

حکومتی اتحاد : 42

اپوزیشن: 18

حکومتی امیدوار ڈاکٹر عارف علوی

اس طرح پاکستان تحریک انصاف کی قیادت میں بنے والے الائنس کی مشترکہ صدارتی امیدوار ڈاکٹر عارف علوی سینیٹ سے 34, قومی اسمبلی سے 175, پنجاب اسمبلی سے 32, سندھ اسمبلی سے 23, خیبر پختونخوا سے 41 اور بلوچستان سے 42 ووٹ لینے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔

اپوزیشن امیدوار مولانا فضل الرحمان

پاکستان مسلم لیگ نواز اور اس کی اتحادی جماعتوں کی طرف سے نامزد صدارتی امیدوار مولانا فضل الرحمان 203 ووٹ لینے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں۔  عابد شیر علی کی درخواست سماعت کیلئے منظور ، الیکشن کمیشن کو فرخ حبیب کا نوٹیفکیشن جاری کرنے سے روک دیاگیا

اپوزیشن امیدوار اعتزاز احسن۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے نامزد صدارتی امیدوار بیرسٹر اعتزاز احسن ممکنہ طور پر صدارتی انتخابات میں 115 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہونگے۔

اگر دو امیدواروں کے درمیان صدارتی انتخاب کا مقابلہ ہو تو سادہ اکثریت یعنی 337 ووٹ لینے والا امیدوار کامیاب قرار پاتا ہے۔ لیکن چونکہ اس بار صدارتی انتخاب کیلئے تین امیدوار میدان میں ہیں۔ چنانچہ تینوں امیدواروں میں سے سب سے زیادہ ووٹ لینے والا امیدوار فاتح قرار پائیگا۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں