آزاد میڈیا پر شکنجہ کسنے کی تیاریاں— اداریہ

آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی نے حکومت کے زیرانتظام میڈیا باڈیز کے موجودہ ڈھانچے میں مجوزہ اصلاحات کو سراہا ہے تاہم مختلف میڈیا ریگولیٹری اتھارٹیز کے پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی میں مجوزہ انضمام سے مشکلات پیدا ہوں گی اور توقع کے برعکس نتیجہ نکلے گا۔ پریس کونسل کا قیام بطور رضاکارانہ تنظیم ہوا تھا جبکہ پیمرا ایک ریگولیٹری ادارہ ہے جسے حکومت نے مختلف رول کے ساتھ قائم کیا۔ اے پی این ایس کے عہدیداروں نے یاد دلایا کہ سابق حکومت نے نئے قانون کی تجویز دی تھی جس کی میڈیا تنظیموں نے مخالفت کی تھی۔ مجوزہ قانون سے آزادی صحافت متاثر ہوتی تھی جسے میڈیا نے طویل جدوجہد کے بعد حاصل کیا۔ سابق حکومت کے آخری برس میں وزارت اطلاعات نے فوجی آمر جنرل ایوب خان کے دور میں نافذ کیا گیا بدنام زمانہ قانون ردی کی ٹوکری سے نکالا اور نئے عنوان کے ساتھ مذکورہ حکومت کو پیش کیا تاہم میڈیا تنظیموں کے سخت احتجاج پر مجوزہ قانون واپس لے لیا گیا۔ اے پی این ایس کا خیال ہے اگر مجوزہ قانون 18ویں ترمیم کی شقوں اور آرٹیکل 19 اور 19  اے کے تحت آزادی صحافت کے خلاف ہوا تو میڈیا کو قابل قبول نہیں ہو گا۔ اے پی این ایس نے اشارہ کیا ہے 18 ویں ترمیم کے بعد اخبارات، کتب اور پرنٹنگ پریسوں کے حوالے سے قانون سازی خاص طور پر صوبائی معاملہ ہے۔ اے پی این ایس نے امید ظاہر کی کہ حکومت کے زیرانتظام میڈیا باڈیز کے ڈھانچے میں کسی بھی تبدیلی کے لئے غور کرنے سے قبل میڈیا میں سٹیک ہولڈرز سے بامعنی مشاورت کو نئی حکومت یقینی بنائے گی۔

وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے پیمرا اور پریس کونسل آف پاکستان کو ختم کرکے ایک نئی میڈیا کنٹرول اتھارٹی بنانے کا اعلان کیا ہے۔ نئے ادارے کا نام پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی ہوگا، اس طرح ملک میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی نگرانی کرنے کے کام میں ہم آہنگی پیدا ہو سکے گی اور ہر قسم کے میڈیا کے لئے یکساں قوانین اور سنسر کا طریقہ مروج ہو سکے گا۔ ملک میں جمہوریت کا جھنڈا بلند کرکے نیا پاکستان تعمیر کرنے کا نعرہ لگاتے ہوئے برسراقتدار آنے والی حکومت کے وزیر اطلاعات کے منہ سے میڈیا کے حوالے سے سنسرشپ کا لفظ استعمال کرنا افسوسناک اور ہر قسم کی جمہوری روایت کے خلاف ہے۔ آزادی اظہار کا حق کسی بھی جمہوری نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور کسی بھی حکومت یا ادارے کو اخبارات کے مواد، خبروں کی اشاعت یا ٹیلی ویژن اور ریڈیو پروگراموں کی پیشکش اور موضوعات کے بارے میں کسی قسم کی مداخلت کا حق نہیں ہو نا چاہئیے۔ کجا محض چند روز قبل برسر اقتدار آنے والی حکومت نئے انتظام کے تحت سنسرشپ کی بات کرتے ہوئے میڈیا اور صحافیوں کو وارننگ دینے کی کوشش کرے۔

مزید پڑھیں۔  اردو نصابات: غریب کی جورو سب کی بھابھی (آخری حصہ)۔۔۔ ناصر عباس نیئر

گزشتہ چند ماہ کے دوران پاکستان میں ہر قسم کے میڈیا نے سنگین ترین سنسرشپ کا سامنا کیا ہے۔ ٹیلی ویژن کے علاوہ اخبارات کے مدیروں کو خبروں کی ترجیحات اور انہیں نظر انداز کرنے کے بارے میں ہدایا ت دی جاتی ہیں۔ ایسے ٹیلی ویژن پروگرام بند کرنے کا حکم صادر ہوتا ہے جن میں کسی ایسی شخصیت کا انٹرویو کیا جائے یا ایسے موضوع پر بات کی جائے جو ملک کے حکمرانوں کی طبع نازک پر گراں گزرتے ہیں۔ ملک بھر کے اخبارات میں روزانہ مستقل بنیادوں پر لکھنے والوں کے کالم شائع کرنے سے انکار کیا جاتا ہے۔ نیوز ایڈیٹرز خبروں کی اشاعت کے بارے میں حد درجہ محتاط ہیں اور کوئی ایسی خبر شائع کرنے سے گریز کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ادارہ یا اس کے مالکان کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔ میڈیا سے متعلق لوگ برملا اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ حالیہ ہونے والے انتخابات سے چند ماہ پہلے سے ملک کے اخبارات اور ٹیلی ویژن نشریات کو جس قسم کی پابندیوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اس کی مثال ضیاء آمریت اور پرویز مشرف کے دور حکومت میں بھی تلاش نہیں کی جاسکتی۔
ملک کے تمام میڈیا ہاؤسز کو ان شرائط کا سامنا کرنا پڑتا ہے جنہیں بظاہر قومی سلامتی کی حفاظت کے لئے ضروری قرار دیا جاتا ہے اور اداروں کے تحفظ کے نام پر نافذ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پاکستان میں اس جدید سنسرشپ کے طریقہ کار کو سیلف سنسر کا نام دیا گیا ہے۔ بیشتر میڈیا ہاؤسز چونکہ کمرشل مفادات کے اسیر مالکان کے زیرِ نگرانی چلائے جاتے ہیں اس لئے وہ سرکاری اشتہارات اور سہولیات کے لئے اس دباؤ کو بخوشی قبول کرتے ہیں۔ سنسرشپ کی یہ نئی قسم ملک میں آزادی صحافت اور آزادی اظہار کے لئے سم قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس طریقہ کار سے غیر جانبدارانہ مباحث اور رائے کا اظہار متاثر ہورہا ہے۔ نئی منتخب حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد یہ امید کی جارہی تھی کہ وزیراعظم قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے یا قوم کے نام پہلے خطاب میں اس اہم معاملے پر اپنی حکومت کی حکمت عملی واضح کریں گے۔ میڈیا پر پابندیوں کے بارے میں سوشل میڈیا پر عام ہونے والی معلومات اور مباحث کے باوجود عمران خان یا ان کے وزیر اطلاعات نے اس موضوع پر بات کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

مزید پڑھیں۔  اردو میڈیم والدین کے انگلش میڈیم بچے

وزیر اطلاعات نے یہ بھی کہا ہے کہ وزارت اطلاعات نے میڈیا کنٹرول اتھارٹی کے معاملے پر غور کرنے کے بعد پیمرا اور پریس کونسل آف پاکستان کو ختم کرکے ایک نیا ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گویا یہ فیصلہ میڈیا سے وابستہ لوگوں اور صحافیوں کی رائے جانے بغیر کیا گیا ہے ۔ اس کے باوجود وزیر اطلاعات اس بات پر مصر ہیں کہ میڈیا کو اس معاملے میں شامل کیا جائے گا۔ حکومت تمام معاملات طے کرنے کے بعد میڈیا مالکان کو اس عمل میں شامل کرکے صرف اپنے فیصلہ کی تصدیق کروانے کی کوشش کرے گی۔ اس طرح ایک ایسا فیصلہ جو انتظامی لحاظ سے کسی حد تک مناسب اور عملی طور سے مؤثر ہو سکتا تھا، اسے جمہوری چہرہ دینے کی بجائے حاکمیت کا لبادہ پہنا کر سامنے لایا جارہا ہے۔

میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی بنانے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے سرکاری اشتہارات کا بھی ذکر کیا ہے۔ تاہم وہ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے سابقہ حکومت کو مطعون کرنے کے سوا کوئی نئی بات کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ اگر حکومت سرکاری اشتہارات کو ضروری سمجھتی ہے تو اس کا انتظام وزارت اطلاعات کی بجائے کسی خود مختار ادارے کے ہاتھ میں ہونا چاہیئے جس میں میڈیا سے وابستہ افراد فیصلے کرنے کے مجاز ہوں۔ اسی طرح حکومت اشتہارات کے سوال پر اپنی خود مختاری اور شفافیت کا ثبوت فراہم کرسکتی ہے۔ ملک میں میڈیا شدید بحران کا شکار ہے۔ رائے کے اظہار پر پابندی اور رکاوٹ سنگین معاملہ ہے۔ منتخب حکومت اگر اس سوال پر جلد ہی کوئی سنجیدہ مؤقف اختیار نہیں کرتی اور میڈیا ہاؤسز کی شکایات کا ازالہ کرنے کے اقدامات نہیں کئے جاتے تو جمہوری حکومت کو جمہوری روایت اور ضرورت سے نابلد سمجھا جائے گا۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں