آئندہ نام نہاد عوامی خادم کون ہوگا؟۔

Next Prime minister-aajkal

 تحریر: عبدالرزاق میو:عوامی ٹیکسز سے تنخواہ لینے والے عوام کو ہی مٹانا چاہتے ہیں۔ جی ہاں میں آپ کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔ یہ سب حکمران اپنی تنخواہیں قومی خزانہ سے وصول کرتے ہیں۔ قومی خزانے میں پیسے کہاں سے آتے ہیں؟۔

قومی خزانے میں پیسے عوام پر لگائے ہوئے ٹیکسز سے جمع ہوتے ہیں۔ جواس ملک کابچہ بچہ ادا کرتاہے۔ چاہے وہ ایک گولی، ٹافی ہی کیونا خریدے۔ یہا ں تک بندہ ہر نوالے کا ٹیکس ادا کرکے اپنے حلق میں اتراتا ہے۔ تو قومی خزانے کا مالک کون ہوا؟۔قومی خزانے کی مالک عوام ہے۔ یہ حکمران عوا م کے پیسوں سے تنخواہ لے کے عوام پر ہی حکومت کرتے ہیں۔ لیکن بات یہاں پرہی ختم نہیں ہوتی۔ بلکہ یہ حکمران عوامی خزانے سے تنخوا ہ ہی نہیں بلکہ خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کردیتے ہیں اور اپنی پانچ سالہ دور کے دوران خزانے خالی کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے۔ میں آپ سے ایک سوال پوچھتا ہوں۔ اگر ایک عام بندہ کسی کے ہاں ملازمت اختیارکرتاہے تو اس کے ساتھ معاہدہ کیا جاتاہے کہ آپ فلاں فلاں کام کرو گے۔ تو ہم آپ کو اتنی پیسے ماہوار دیں گے۔تمام معاملات طے کرکے اس کوملازمت دیتے ہیں۔ اس کے بعد اگر بندہ اپنے کام میں تھوڑی سی بھی غلطی کرتا ہے۔ تو مالک اس کو نکال دیتا ہے۔ہمارے ہاں تو مالکان چھوٹے موٹے ملازم کو بھکاری کی طرح سمجھتے ہیں۔

جیسے ملازم نہیں کوئی مانگنے والا ہے۔ جبکہ ہمارے پیارے نبی ? نے ہر انسان کو برابر قرار دیا۔ کوئی بادشاہ ہو یا فقیر، گورا ہو یا کالا، کسی کو کسی پر فوقیت حاصل نہیں۔ جب اسلام میں کوئی بڑا چھوٹا نہیں۔ تو یہ حکمران جو خود کوعوام کا خادم کہتے ہیں۔ کیوں غریب کو انسان نہیں سمجھتے؟۔ جبکہ یہ حکمران عوامی نوکر ہیں۔ جو بندہ عوامی خزانے سے اپنی تنخواہ لیتا ہے اور اس کے ساتھ سونے پر سہاگہ عوامی خزانے سے ہی بڑی بڑی گاڑیاں اور اس کے ساتھ ایک بہت بڑا سیکیورٹی پروٹوکول رکھتے ہیں۔ جب یہ پاکستانی قوم کے نوکر ان سرکاری گاڑیوں میں پروٹوکول کے ساتھ سفر کرتے ہیں تو ان کے گزرنے سے گھنٹوں پہلے سڑکوں کو بلاک کردیا جاتاہے۔ ٹریفک پولیس کے اہلکار کسی کو بھی روڈ پر چلنے کی اجازت نہیں دیتے۔ اگر غلطی سے کوئی بندہ اس سڑک پر آجاتا ہے۔ تو قانون نافذ کرنے والے ادارے اس شخص کو پکڑ لیتے ہیں اور اس پر تشدد کرتے ہوئے جیل میں ڈال دیتے ہیں۔ جیسے یہ شخص کوئی دہشت گرد ہو۔ یہاں تک ہی نہیں بلکہ اگر کوئی معصوم بچہ ان نام نہاد حکمرانوں کے قافلے کے آگے آ جائے تو یہ گاڑی نہیں روکتے۔ بلکہ اس معصوم کو روندتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔ اس کے بعد بچے کی لاش تو کیا اس کی ہڈیاں بھی نہیں ملتی۔ وہ بھی اکھٹی کرنی پڑتی ہیں۔چند دنوں بعد یہ حکمران اپنے کسی مشیر کو اس بچے کے گھر بھیج دیتے ہیں۔ اس معصوم کی ماں کے آنسو خریدنے، باپ کے ہاتھ میں 10لاکھ کا چیک تھما دیتے ہیں۔ وہ بھی قومی خزانے سے۔

مزید پڑھیں۔  پنجاب میں حکومت سازی، پی ٹی آئی کے آزاد امیدواروں سے ہنگامی رابطے جاری
loading...

کیا یہی ہے انسان کی قیمت؟۔عوام کے نوکر (حکمران) اپنا علاج لندن کے اعلیٰ ترین ہسپتالوں میں کرواتے ہیں او ر ان کے بچے اعلیٰ ہسپتالوں میں جنم لیتے ہیں۔جبکہ غریب عوام بیچاری سرکاری ہسپتالوں میں اپنا اور اپنے بچوں کا علاج کرواتے ہیں اور ان کے بچے باہر سٹرکوں ، رکشوں اور فٹ پاتھوں پر جنم لیتے ہیں۔ غریب کو انصاف تک میسر نہیں۔ 40,40 سال عدالتوں میں دھکے کھاتے رہتے ہیں۔ جب فیصلہ آتا ہے تو سائل فوت ہوچکا ہوتاہے۔ کیوں بے حس ہو چکے ہیں یہ لوگ؟۔ کیوں نہیں سمجھتے کہ غریب بھی انسان ہے۔ یہ بھی ٹیکس ادا کرتاہے۔اس کا بھی ملک پر اتنا حق ہے۔ جتنا ان نام نہاد، خادموں کاہے۔

آئندہ عوام کس کو اپنا حقیقی خادم بنانا چاہیں گے؟۔

عمران خان

Imran-Khan-aajkal
فوٹو بشکریہ ڈیلی ٹائم

 شہباز شریف

Shahbaz-Sharif1-aakal
فوٹو بشکریہ پاک ٹائم

بلاول بھٹو

فو ٹو بشکریہ
globalvoices.org

عوام اپنے پر حکمرانی کرنے والوں کا انتخاب سوچ سمجھ کر یں۔ جو عوام اور ملک قوم کے لیے بہتر ثابت ہو ں نہ کے کسی کرپٹ کو۔ جوآ پ اور آپ کے بچوں سے جینے کا حق بھی چھین لے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں