ایون فیلڈ ریفرنس: مریم، کیپٹن (ر) صفدر کے وکیل کے حتمی دلائل تیسرے روز بھی جاری

ایون فیلڈ

اسلا آباد: شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت میں ہورہی ہے، جہاں سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کے وکیل ایڈووکیٹ امجد پرویز کے حتمی دلائل کا سلسلہ تیسرے روز بھی جاری ہے۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت کر رہے ہیں۔سابق وزیراعظم نواز شریف اور مریم نواز لندن میں ہونے کی وجہ سے آج پیش نہیں ہوئے۔

مذکورہ کیس کی 29 جون کو ہونے والی گزشتہ سماعت پر احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ایڈووکیٹ امجد پرویز کو ایون فیلڈ ریفرنس میں پیر (2 جولائی) کو ہر حالت میں حتمی دلائل ختم کرنے کی ہدایت کی تھی۔

آج سماعت کے آغاز پر مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے وکیل امجد پرویز نے تیسرے روز حتمی دلائل کا آغاز کیا۔

امجد پرویز کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق متعلقہ شعبے میں مہارت والا ہی رائے دے سکتا ہے اور جس بنیاد پر ماہر رائے دے رہا ہے، وہ بنیاد بھی متعلقہ ہونی چاہیے۔

ایڈووکیٹ امجد پرویز نے اعتراض اٹھایا کہ گواہ رابرٹ ریڈلے نے کہا کہ وہ 1976 سے اس شعبے میں کام کر رہے ہیں، لیکن انہوں نے اپنی تعلیم نہیں بتائی۔

نیب ریفرنسز کا پس منظر

سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کر رکھے ہیں، جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق ہیں۔

مزید پڑھیں۔  نوازشریف کے بچوں اور داماد کے وارنٹ گرفتاری لندن کے پتے پر ارسال

نیب کی جانب سے ایون فیلڈ پراپرٹیز (لندن فلیٹس) ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کے بیٹوں حسن اور حسین نواز، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا گیا ہے۔

العزیزیہ اسٹیل ملز جدہ اور 15 آف شور کمپنیوں سے متعلق فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نواز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں