گستاخانہ خاکے: قانون سازی کے بغیر حل ممکن نہیں — اداریہ

loading...

وزیراعظم عمران خان سے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے ملاقات کی اور ایرانی حکومت اور عوام کی طرف سے انہیں کامیابی پر مبارکباد دی۔ جواد ظریف نے کہا کہ ایران پاکستان کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کا خواہاں ہے۔ انہوں نے ایرانی صدر حسن روحانی کا پیغام وزیراعظم کو پہنچایا اور عمران خان کو ایشین کوآپریشن ڈائیلاگ کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔
وزیراعظم عمران خان نے ایران کے روحانی رہنماء آیت اللہ خامنہ ای کی طرف سے کشمیریوں کی جدوجہد کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ رکوانے میں پاکستان کا اہم کردار ہے۔ دفترخارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایرانی ہم منصب جواد ظریف کے ساتھ دفترخارجہ میں ملاقات کی۔
ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا کہ پاکستان کے سخت احتجاج کے باعث ہالینڈ میں ہونے والا گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ مؤخر ہوا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مسلم ممالک کو متحد ہو کر بین الاقوامی سطح پر اسلام مخالف ذہنیت سے نمٹنا ہوگا۔
عالم اسلام بالخصوص پاکستان میں ان گستاخانہ خاکوں کی نمائش کی منسوخی پر قدرے اطمینان کا سانس لیا ہی گیا تھا کہ ہالینڈ کے ملعون سیاستدان اور اسلام مخالف فریڈم پارٹی کے بانی رکن پارلیمنٹ گیرٹ ویلڈرز نے وزیر خارجہ شاہ محمود کی جانب سے ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے مقابلے منسوخ کئے جانے کو مسلم امہ کی کامیابی قرار دینے کے ٹوئٹ کا جواب دیتے ہو ئے ہرزہ سرائی کر ڈالی کہ اتنی جلدی کامیابی کا دعویٰ کرنے کی ضرورت نہیں ابھی میں آپ لوگوں کیساتھ نمٹا نہیں۔ جلد ہی آپ کی بربریت کو بے نقاب کروں گا، میرے پاس اور بھی بہت سے طریقے ہیں۔
یاد رہے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے حوالے سے گزشتہ روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں کہا تھا سفارتی کوششوں سے دنیا بھر کے مسلمانوں کو بڑی کامیابی ملی۔ دنیا بھر میں کسی بھی قسم کی نفرت انگیزی روکنے کے لیے ہم سب کو کام کرنا ہوگا۔ اللہ کی رحمت سے گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ روک دیا گیا۔ یہ سب وفاقی حکومت کی مؤثر سفارتی کوششوں سے ممکن ہوا۔ دنیا بھر میں کسی بھی قسم کی نفرت انگیزی روکنے کے لیے ہم سب کو کام کرنا ہوگا۔
واضح رہے کہ نیدرلینڈز کی اسلام مخالف جماعت فریڈم پارٹی آف ڈچ کے رہنماء گیرٹ ولڈرز نے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے لیے پیغمبرِ اسلام کے گستاخانہ خاکے بنانے کے متنازع مقابلے کا اعلان کیا تھا۔ اسلام مخالف جماعت کے رہنماء نے اس منافرت انگیز مہم کے لیے تین سال قبل اسی طرز کا مقابلہ جیتنے والے امریکی کارٹونسٹ کو جج مقرر کیا تھا تاہم پاکستان سمیت دنیا بھر سے مسلمانوں کا شدید ردعمل سامنے آنے کے بعد ان مقابلوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا گیا تھا۔
اسلام مخالف قانون دان ملعون گیرٹ ولڈرز نے گزشتہ روز جاری ایک تحریری بیان میں کہا تھا کہ دیگر افراد کی زندگیوں کو لاحق خطروں اور قتل کی دھمکیوں کے بعد وہ گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ جس پر رد عمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے ایک بیان میں کہا کہ عشق رسول سلامت رہے، پاکستان زندہ باد، ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کی منسوخی پاکستانی حکومت اور عوام کی بڑی کامیابی ہے۔
دریں اثناء وزیراعظم عمران خان نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کا مسئلہ ہر مسلمان کا مسئلہ ہے، نبی کریمۖ مسلمانوں کے دل میں رہتے ہیں۔ جب کوئی نبی کریم ۖ کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو ہر مسلمان کو تکلیف ہوتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ مغرب کے لوگوں کو اس چیز کی سمجھ نہیں۔ جس طرح مغرب کے لوگ اپنے مذہب کو دیکھتے ہیں وہ بالکل مختلف ہے۔ مغرب کو اس چیز کی اس لیے سمجھ نہیں کہ ہم مسلمانوں نے ان کو سمجھایا نہیں۔ مغربی لوگوں کو ہمارے جذبات کا احساس نہیں۔ او آئی سی کے ذریعے اقوام متحدہ میں بات کرینگے۔ شاہ محمود قریشی کو او آئی سی سے رابطے کی ہدایت کر دی۔ وزیر خارجہ نے کئی مسلم ممالک سے رابطے شروع کر دیئے ہیں، وزیر خارجہ اقوام متحدہ میں اس حوالے سے ملاقاتیں کرینگے۔ ہم دنیا کو اس مسئلے کے بارے میں سمجھائیں گے اور احتجاج کے ذریعے مغرب کو اپنا نقطہ نظر بتائیں گے۔
ہالینڈ کے ملعون سیاست دان کی طرف سے نبی پاکۖ کی توہین کی ناپاک جسارت سامنے آئی تو محبانِ رسول تڑپ اٹھے۔ پوری دنیا میں جہاں کہیں اہلِ اسلام آباد ہیں سراپا احتجاج نظر آئے۔ جلسے جلوسوں اور احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ پاکستان میں سب سے زیادہ احتجاج ریکارڈ ہوا۔ کسی مسلمان کے لیے اپنے ماں باپ اولاد اور خود اپنی جان سے زیادہ ہستی کی شان میں گستاخی ناقابل برداشت ہے۔ اس جسارت پر اہل ایمان کو آنسو بہاتے بھی دیکھا گیا۔
عالمی سطح پر دہشت گردی کی آگ سلگ رہی ہے جس سے مغرب بھی محفوظ نہیں۔ ان حالات میں بین المذاہب ہم آہنگی کی زیادہ ضرورت ہے مگر مغرب میں کچھ بدباطن لوگ مذاہب کے مابین نفرتیں پیدا کررہے ہیں۔ انکے اس خبث سے نفرتوں کی خلیج وسیع تر ہورہی ہے۔ خاکوں کے مقابلوں کی خبر عام ہونے پر پاکستان سمیت اسلامی دنیا میں احتجاج کی ایک لہر اٹھ کھڑی ہوئی۔
مجوزہ مقابلے رکوانے کے شدت کے ساتھ مطالبات سامنے آئے۔ نبی کریمۖ کی شان میں گستاخی ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہوتی رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق نائن الیون کے بعد جہاں مسلم ممالک بالخصوص امریکی غیض و غضب کا نشانہ بنے، وہیں مذہب اسلام بھی عالمی طور پر اعتراضات کی زد میں آگیا۔ مختلف فورمز پر مذہب اسلام، اسلامی شعائر اور پیغمبر اسلامۖ پر کھلے عام تنقید ہونے لگی۔ چند ایسے واقعات ہوئے جو اہل اسلام کے لیے دل آزاری کا باعث بنے۔ ان کو سانحات کا نام دیا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا۔ ماضی میں مغرب میں نبی کریمۖ کی شان میں گستاخیوں پر مسلمانوں کے شدید ردعمل پر معذرت کی گئی مگر یہ حتمی ثابت نہ ہوسکی۔
کچھ عرصہ بعد پھر سے وہی شیطانی ذہنیت سامنے آنے لگی۔ گیرٹ اور ان جیسے دیگر ایسی ہی ذہنیت کے حامل افراد کی شیطانی جبلت ایسے اقدامات کی مرتکب ہوسکتی ہے جس کے مستقل سدباب کی ضرورت ہے۔چیہ آزادی اظہار کا معاملہ نہیں، گستاخانہ خاکے اور کارٹون بنانے اور دنیا کی عظیم ترین ہستی کو نعوذباللہ دہشت کی علامت قرار دینے والے جانتے بوجھتے ہوئے مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے کے لیے ایسا کرتے ہیں جو اہل اسلام کے لیے ناقابل برداشت ہے۔

مزید پڑھیں۔  صدر پاکستان: غیر جانبداری پہلا آئینی تقاضا... اداریہ

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں