کفایت شعاری کے دعوے اور وہی پُرانا طرزِ حکومت۔۔۔ محمد اکرم خالد

سادگی کفایت شعاری مسلمان کے ایمان کا حصہ ہیں ایک عام انسان توا پنی زندگی اپنی آمدنی کے اعتبار سے بھی سادگی اور کفایت شعاری سے ہی بسر کر رہا ہے مگر یہ غریب طبقہ بھی اپنی مختصر آمدنی میں کفایت شعاری اور سادگی کو اپنانے کی سوچ سے بہت دور ہے۔ اپنے بچے کی سالگرہ سے لے کر بیٹی کی شادی میں بھی کم وسائل کے باوجود یہ اپنے اندر کی خواہشات کو قرض لے کر سادگی کفایت شعاری کا جنازہ نکالنے میں کوئی قصر باقی نہیں رکھتا اور پھر ساری زندگی خدا کو اپنے حالات کا قصور وار بنا کر اپنی زندگی گزار دیتا ہے جو کسی طور مناسب نہیں۔ تو پھر ہم اپنے اُن حکمرانوں سے گلہ کیسے کر سکتے ہیں جن کی تربیت اونچی سوسائٹیوں میں ہوئی۔ جن کی تعلیم بیرون ممالک میں جن کے اثاثے بیرون ممالک میں جن کے خاندان بیرون ممالک میں ہیں۔

پاکستان کی کسی ایک جماعت کا ایک ایم پی اے یا ایم این اے یا عہدے دار ایسا نہیں جو موٹرسائیکل پر سفر کرتا ہو چھوٹے عہدے دار کے پاس بھی ایک چھوٹی کار لازمی ہے تو پھر ان جماعتوں کے لیڈروں کے پاس تو اپنے اپنے پرائیوٹ جہاز تک موجود ہیں۔ ان اشرافیہ سے ہم کیسے سادگی کفایت شعاری کی اُمید وابستہ کر سکتے ہیں پاکستان کے موجودہ حالات میں ہمارے حکمران بادشاہوں کی زندگیاں بسر کر رہے ہیں سادگی کفایت شعاری شروع دن سے ہی ان کی زندگیوں میں بے معنی رہی ہے اگر ہمارے ارباب اختیار شروع دن سے پاکستان کو اسلامی قوانین کے مطابق چلاتے تو شاید آج ہمیں سادگی کفایت شعاری کے سبق یوں نہ دُہرانا پڑتے۔

عام انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے لیے سادگی کفایت شعاری اپنانا ایک بڑا چیلنج ہے کیوں کہ اس جماعت کی لیڈر شپ سے لے کر سینئر قیادت تک اورصوبائی قیادت سے لے کر ان کا ایک بڑا ووٹ بینک اشرافیہ سے تعلق رکھتا ہے۔ تبدیلی کا نعرہ ان کے لیے صرف ایک نعرہ ہوسکتا ہے سادگی کفایت شعاری ان کے لیے ایک سبق ہوسکتا ہے مگر ان تمام چیزوں پر یہ طبقہ اپنی زندگی بسر کرے یہ نا ممکن ہے۔

مزید پڑھیں۔  دیوانوں، نادانوں اور فرزانوں کے بے لباس ناچ کا افسانہ--- مبشر علی زیدی

ستر برس میں ہم نے امیر غریب میں دوریاں دیکھی ہیں یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ غریب امیر ایک گاڑی میں سفر کریں محترم وزیراعظم عمران خان صاحب نے قوم سے سادگی اور کفایت شعاری کے ساتھ حکومت چلانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے اس قوم کو یقین دلایا ہے کہ وہ سادگی سے حکومت کر کے پاکستان کے مسائل میں کمی لائیں گے۔ غیر ضروری اخراجات کا خاتمہ کیا جائے گا۔ وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات اور سرکاری دوروں میں ہر صورت کمی لائی جائے گی۔

صدر، وزیراعظم، وزراء، چیف جسٹس اور ارکان پارلیمنٹ کے صوابدیدی فنڈز ختم کر دیے جائیں گے۔ وی آئی پی کلچر اور پروٹوکول کا خاتمہ کیا جائے گا۔ وزیراعظم کی آمدورفت پر کوئی روٹ نہیں لگایا جائے گا۔ وزیراعظم بھی ٹریفک سگنل کی پابندی کرے گا۔ موجود حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان کے دور میں بااثر اشرافیہ بھی جوابدہ ہوں گے۔

loading...

کہنے سننے میں یہ تمام تر دعوے بڑے ہی اُمید افزاء لگتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم قائداعظم اور علامہ اقبال کے حقیقی پاکستان میں داخل ہوگئے ہیں۔ مگر بد قسمتی سے یہ دعوے آہستہ آہستہ دم توڑنے لگے ہیں۔ نئے وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار فرماتے ہیں کہ ان کے گھر میں بجلی نہیں ہے وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں مگر محترم لاہور سے اسلام آباد کا سفر گاڑی سے نہیں کر سکتے۔ لاہور سے اسلام آباد پرائیوٹ جہاز کے ذریعے اپنی فیملی کے ساتھ سفر کر کے وہ کون سی سادگی کی مثال قائم کرنا چاہتے ہیں۔ 20 سرکاری گاڑیوں کے پروٹوکول کے ساتھ ہسپتال کا دورہ کر کے وہ خان صاحب کے سادگی کے دعوے کی دھجیاں اُڑا رہے ہیں۔ نئے گورنر سندھ عمران اسماعیل مزارِ قائد پر مکمل پروٹوکول کے ساتھ تشریف فرما ہوتے ہیں۔

تحریک انصاف کے نئے وزراء سرکاری گاڑیوں کا بھر پور استعمال کر رہے ہیں۔ موٹر سائیکل پر الیکشن مہم چلانے والے وزیر ریلوے شیخ رشید سرکاری گاڑی سے اُتر کر غریب کی سواری موٹر سائیکل کو غائب کرنے کی دھمکی دیتے نظر آرہے ہیں۔ خود محترم وزیراعظم عمران خان وزیراعظم ہاؤس سے بنی گالہ کا چالیس منٹ کا سفر سرکاری ہیلی کاپٹر کے ذریعے دو لاکھ میں طے کرتے ہیں۔ یہ سفر دن میں دو بار کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں۔  شوہرکوعزت دو

وزیرِ اطلاعات فرماتے ہیں کہ کیا وزیر اعظم اپنے ذاتی گھر بنی گالہ گاڑی سے جائے تاکہ عوام کو پریشانی کا سامنا ہو کیا اس سے پہلے بھی عمران خان صاحب ہوا میں ہی سفر کرتے تھے۔ د وسرے ممالک کے وزیراعظم تو بغیر پروٹوکول کے اپنی سائیکل پر اپنے گھر جاتے اس قوم نے دیکھے ہیں جن کی مثالیں محترم وزیر اعظم عمران خان اقتدار میں آنے سے پہلے خود دیا کرتے تھے ۔

18 اگست کو وزیراعظم نے حلف اُٹھایا مگر دو ہفتے گزر جانے کے باوجود اس قوم کے لیے کوئی ریلیف کا تحفہ نہیں دے سکے۔ ٹیکس جمع کرنے اور کرپشن کے خاتمے پر یہ حکومت فوکس کر رہی ہے جو ایک بہتر اقدام ہے مگر یہ غریب قوم تو ستر برس سے ٹیکس ادا کر رہی ہے پانی بجلی گیس اشیاء سرف ایک ماچس کی ڈبی پر بھی یہ غریب قوم ٹیکس ادا کر رہی ہے۔ ہر آنے والی حکومت ٹیکس کرپشن کی باتیں کر کے اپنے اقتدار کی مدت پوری کر جاتی ہے مگر اس قوم کے مسائل کو حل کی جانب گامزن نہیں کر پاتی۔

عمران خان صاحب کی حکومت بھی وہ ہی غلطیاں کر رہی ہیں جو پچھلی حکومتیں کرتی رہی ہیں یعنی اقتدار کی کرسی پر براجمان ہوتے ہی ٹیکس لگانا کرپشن کے خاتمے میں انتقامی سیاست کرنا۔ تصادم کا راستہ اپنانا۔ آج تک کوئی حکومت نیچے سے کام شروع نہیں کر سکی یعنی آتے ہی پانی بجلی بے روزگاری کے مسائل، غریب کو ریلیف دے کر ان کے مسائل میں کمی لانے کے بجائے مخالفین پر اقتدار کا دباؤ بڑھانے میں مصروف ہوجا نا۔ سا دگی کفایت شعاری کا نعرہ لگا کر سرکاری مراعات کا بھر پور استعمال کرنا۔

اگر تبدیلی اس کا نام ہے تو پھر یقیناً ایک تبدیلی پھر آنے کو ہے۔ یہ قوم نئے وزیراعظم عمران خان سے اپنے مسائل کا فوری حل چاہتی ہے۔ یہ قوم انتقام تصادم کی سیاست نہیں بلکہ اپنے مسائل کے حل کی سیاست چاہتی ہے۔ یہ قوم پہلے ہی مفلسی کی زندگی بسر کر رہی ہے کفایت شعاری اور سادگی کا بوجھ اس پر نہ ڈالا جائے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں