وقت بڑا بے رحم ہے— امجد طفیل بھٹی

یہ وقت ہی کا کمال ہے کہ جب اچھا چل رہا ہو تو کوئی بھی انسان عام آدمی سے بادشاہ بن جاتا ہے اور جب بُرا چل رہا ہوتا ہے تو بادشاہ کو بھی اسیری میں ڈال دیتا ہے۔ یہ وقت کی بے رحمی کا ہی ثبوت ہے کہ وہ کسی کا انتظار کیے بغیر گزر جاتا ہے۔ ہاں مگر جو لوگ کامیاب ہوتے ہیں وہ بھی اسی وقت کے درست استعمال سے ہی کامیابی سمیٹتے ہیں اور جو لوگ ناکامی کا سامنا کرتے ہیں وہ بھی اسی وقت کے غلط استعمال سے ناکام کہلاتے ہیں۔
ہمارے سامنے ان گنت ایسی مثالیں موجود ہیں جب کوئی عام آدمی کسی بھی ملک کا سربراہ بن گیا ہو اور کسی بھی ملک کا سربراہ قیدِ تنہائی میں ڈال دیا گیا ہو۔ بظاہر کسی ایک انسان کے ساتھ ایک بار تو ایسا ہونا آسان ہے مگر ایک سے زائد بار اگر ایسا ہو جائے تو پھر اس میں اس انسان کا بھی برابر کا حصہ ہے جس کے ساتھ اچھا یا برا ہو رہا ہوتا ہے۔
ہمیں کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں، پاکستان میں ہمارے سامنے سب سے بڑی مثال سابق وزیراعظم نواز شریف کی شکل میں موجود ہے کہ جن کو وقت نے تین بار ملک کی سربراہی کا موقع دیا مگر ہر بار وہ اپنے اصل مقصد سے ہٹ کر ذاتی مقاصد کی تکمیل کی کوششوں میں مصروف رہے اور نتیجہ آج دنیا کے سامنے ہے۔ جس انسان کی زندگی کا بیشتر حصہ وی وی آئی پی کی صورت میں گزرا ہو وہ بھلا کیسے قید برداشت کر سکتا ہے؟ جو شخص اپنے ارد گرد پروٹوکول کی صورت میں درجنوں لگژری گاڑیاں دیکھنے کا عادی ہو وہ کیسے بکتر بند گاڑی میں سکون پاسکتا ہے؟ جس شخص کے ارد گرد ہر وقت سینکڑوں لوگ خوشآمد ، چاپلوسی اور تعریفیں کرنے والے ہوں وہ کیسے اپنے شب و روز اپنی تعریفیں سُنے بغیر گزار سکتا ہے؟ جس شخص کے ذہن میں جو بھی منصوبہ، جو بھی خواہش اور جو بھی سوچ پوری کرنے کی عادت ہو چاہے اس پہ اربوں روپے کا بھی خرچ آ جائے وہ کیسے بے یار و مددگار جیل میں اپنا وقت گزار سکتا ہے؟ جو شخص سینکڑوں انواع و اقسام کے تازہ اور خالص کھانے اپنے دسترخوان پر دیکھنے کا عادی ہو وہ کیسے جیل کے کھانے کے مینو سے مطمئن ہو سکتا ہے؟
بعض اوقات انسان کو اس کے کیے کی سزا بہت جلدی مل جاتی ہے۔ بظاہر تو اقتدار کا چِھن جانا بھی بذات خود ایک بہت بڑی سزا ہے مگر اقتدار کے خاتمے کے ساتھ ساتھ جیل کی ہوا کھانا شاید اس سے کہیں بڑی سزا ہوگی۔ وقت انسان کے ہاتھ میں نہیں اسی لیے انسان وقت کے ہاتھوں مجبور ہے کہ وہ اس کا صحیح یا غلط استعمال ضرور کرے۔
پاکستان میں جب بھی وقت کسی پر مہربان ہوا تب ہی اسے حکومت کرنے کا موقع ملا مگر تقریباً ہر حکمران نے عوامی امنگوں پر پانی پھیرا۔ شاید یہی وجہ بنی کہ ہر حکمران کی حکومت کے خاتمے پر اسے مشکل وقت سے گزرنا پڑا۔ سب سے پہلے اگر ذکر کیا جائے ذوالفقار علی بھٹو کا تو انکے اقتدار کا سورج انکی قید اور بعد ازاں پھانسی کی سزا پر غروب ہوا۔ اسکے بعد جنرل ضیاءالحق کی بھی موت ہی انکے اقتدار کے خاتمے کا سبب بنی۔ پھر ملک میں دوبارہ جمہوری دور شروع ہوا اور محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کو دو دو بار ملک پر حکمرانی کے مواقع ملے مگر ہر بار دونوں ہی اپنی مقررہ مدت پوری نہ کرسکے۔ نتیجتاً دونوں کو جلاوطنی یا پھر قید کی سزائیں بھگتنا پڑیں مگر دونوں کو اقتدار کا لالچ پھر واپس وطن کھینچ لایا اور یوں محترمہ کو دہشت گردوں نے شہید کر دیا اور میاں صاحب کو پہلے اقتدار ملا پھر نااہلی اور آخر کار اڈیالہ جیل۔
درمیان میں پرویز مشرف نے اپنے عہدے کے زور پر تقریباً نو سال ملک پر حکمرانی کی مگر نتیجہ کچھ مختلف نہیں رہا۔ پہلے جلاوطنی پھر قید، ہسپتال اور آخر کار پھر سے جلاوطنی۔
آج کے حکمرانوں کے لیے یہ ساری سچی کہانیاں سبق آموز کہانیاں ہیں کہ اگر وقت کی قدر نہ کی تو پانچ سال گزرتے ہوئے دیر نہیں لگتی۔ عوام نے اعتماد کے ساتھ ان لوگوں کو اس عظیم منصب تک پہنچایا ہے اور اب انکے کندھوں پر بائیس کروڑ عوام کی ذمہ داری ہے۔ بائیس کروڑ عوام کے حقوق کی حفاظت کی جواب طلبی ان سے ہونی ہے۔
موجودہ وزیرِاعظم عمران خان اپنی بائیس سالہ سیاسی جدوجہد کو کیسے عملی جامہ پہناتے ہیں یہ بھی آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ عمران خان نے جو بلند وبانگ دعوے کر رکھے ہیں اب ان کو پوراکرنے میں بظاہر کوئی رکاوٹ نظر نہیں آرہی۔ تمام قومی ادارے ایک پیج پر نظر آرہے ہیں۔ کل کوئی بھی حکومتی عہدیدار یہ نہیں کہہ سکے گا کہ انہیں کام نہیں کرنے دیا گیا کیونکہ پچھلے ادوار میں ہر بار پرانی کہانیاں سننے کو ملتی رہی ہیں کہ سب کچھ کیا دھرا پچھلی حکومت ہے۔ تمام تر انتظامی بگاڑ کی اصل ذمہ دار پچھلی حکومت ہے۔ تمام سرکاری اداروں کی تباہی پچھلی حکومت کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔
موجودہ حکمرانوں کو اگر وقت کی بے رحمی سے بچنا ہے تو ہر قدم پھونک کر اٹھانا پڑے گا۔

مزید پڑھیں۔  نگران وزیراعظم کیلئے ابھی کوئی مشاورت نہیں ہوئی،سیدخورشید شاہ

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں