شاہ رخ خان کی بیٹی سوہانہ کو اپنے پہلے شوٹ پر ہی تنقید کا سامنا

سوہانہ

فیشن میگزین ووگ کے انڈین ایڈیشن کے سرورق پر بالی وڈ کے سپر سٹار شاہ رخ خان کی 18 سالہ بیٹی کی تصویر شائع کی گئی ہے اور اس فیصلے پر انڈیا میں بہت تنقید ہو رہی ہے۔

سوشل میڈیا پر کئی افراد نے سوہانہ خان کی تصویر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کی اہل نہیں ہیں کیونکہ یہاں پہنچنے کے لیے انھوں نے کچھ حاصل نہیں کیا ہے۔

فیشن کی دنیا کے مقبول میگزین ووگ کے سرورق پر عام طور پر مشہور ماڈلز، ادکارہ اور اُن گلوکاروں کی تصاویر ہوتی جو اپنے کریئر میں عروج پر ہوتی ہیں۔

سوہانہ خان نے اپنا تعارف ‘طالبِ علم، تھیٹر کو پسند کرنے والی اور مستقبل کی سٹار’ کے طور پر کروایا ہے۔اُن کے والد کو بالی وڈ کا کنگ کہا جاتا ہے اور کئی افراد کے خیال میں اقربا پروری کی وجہ سے ہی وہ کور پیج پر ہیں۔

سوہانہ علی خان کا فیشن شوٹ بھی ووگ کی فیشن ڈائریکٹر انیتا شیروف نے کیا جو کہ شاہ رخ کی بہت پرانی دوست ہیں۔یہ سوہانہ کا پہلا فوٹو شوٹ اور انٹرویو تھا۔

میگزین کی انسٹا گرام پوسٹ میں اُن کا تعارف نئی لڑکی کے طور پر کروایا گیا اور اُس پوسٹ کو 36 ہزار سے زیادہ افراد نے لائیک کیا۔اس شوٹ کے خلاف ان اداکاراؤں نے ٹویٹ کی ہیں جو اس پیشے میں نام بنانے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔

سوہانہ نے اپنے انٹرویو میں بھی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ‘میں اپنے آپ کو بار بار سمجھاتی ہوں کہ نفرت کرنے والے نفرت کریں گے لیکن میں یہ نہیں کہہ سکتی کہ میں مجھے یہ برا نہیں لگتا۔’

مزید پڑھیں۔  ڈونلڈ ٹرمپ کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کے والدین کو چین مائیگریشن کے تحت امریکی شہریت مل گئی

انھوں نے کہا کہ ‘بہت برا لگتا ہے لیکن میں اپنے آپ کو سمجھاتی ہوں کہ دوسروں لوگوں کو مزید بڑے مسائل کا سامنا ہے۔سوہانہ کے والد نے ووگ بیوٹی ایوارڈز میں اس کور کی نمائش کی۔

loading...

تقریب سے خطاب میں شاہ رخ نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ’اسے استحقاق کے طور پر نہ دیکھا جائے۔’

انھوں نے کہا کہ ’میرے لیے حالات بہتر رہے لیکن بچے بچے ہوتے ہیں اور اس بدلتے دور میں آپ کو بچوں کے لیے تھوڑا آرام، بھروسہ اور اپنے پر یقین دلوانے کے لیے اچھے دوستوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

میگزین میں شائع مضمون میں شاہ رخ نے کہا کہ وہ اپنے بچوں کو اپنے طریقے سے زندگی میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔

سوہانہ نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ وہ اداکارہ بننے سے پہلے یونیورسٹی جائیں گی اور تعلیم مکمل کریں گی۔ انھوں نے بتایا کہ کافی غور و فکر کے بعد انھوں نے سرورق پر آنے کی پیشکش قبول کی۔

سوہانہ

انھوں نے کہا کہ ‘مجھے اس بارے میں معلوم ہوا تو میں بہت پرجوش تھی اور میں فوراً حامی بھرنا چاہتی تھی لیکن میرے والدین چاہتے تھے کہ میں سوچ کر جواب دوں۔ یہ عوام میں آئے گا اور وہ چاہتے تھے کہ اس سے میرے اعتماد میں اضافہ ہو۔’

جہاں سوشل میڈیا پر کئی افراد نے ووگ میگزین اور سوہانہ پر تنقید کی وہیں کچھ افراد نے اُن کے حق میں بھی بات کی۔کئی افراد نے کہا کہ سوہانہ کے لیے براہِ راست نفرت کا اظہار کرنا غلط ہے۔شوٹ کے فوٹوگرافر کا کہنا ہے کہ اُن کے خیال میں سوہانہ کا مستقبل روشن ہے۔

مزید پڑھیں۔  کویت میں بھارتی سبزیوں پر پابندی سے پاکستانی درآمدات دوگنی

بی بی سی نے ووگ انڈین شائع کرنے والی کمپنی کونڈی نسٹ کا موقف لینے کی درخواست بھی کی ہے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں