ایک سبز پوش بزرگ اور کوتوال کی کہانی

سبز پوش
loading...

عدنان خان
یہ عجب سبز پوش بزرگ تھا …
راویان شیریں بیان قصہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ آدھی رات کا گجر بجنے کے نصف پہر بعد ایک چوکی پر کھڑے کوتوال نے دیکھا کہ ایک رتھ دھول اڑاتی دوڑی چلی آ رہی ہے۔ نہ اسے راہ کا پتھر روک سکتا ہے اور نہ کوئی گڑھا اس کی سبک رفتاری میں خلل ڈال سکتا ہے۔ دھول کے بادل ہیں جو اس کے پیچھے اڑتے آ رہے ہیں لیکن اسے پکڑنے میں ناکام ہیں۔
کوتوال کو شبہ ہوا کہ کہیں اس رتھ میں کوئی سیاہ پوش بزرگ نہ سوار ہوں جو کسی سنسان سڑک پر مسافروں سے نذرانے وصول کرنے کے بعد ان کے حرام مال سے رتھ بھر کر فرار ہو رہے ہوں۔ کوتوال نے ترنت آگے بڑھ کر رتھ روکنے کا اشارہ کیا۔رتھ نہ رکی۔ یہ دیکھ کر کوتوال نے اپنے سواروں کو اشارہ کیا کہ رتھ کو جا لیں۔ سواروں نے اپنے گھوڑوں کو چابک لگائی اور وہ سب رتھ کا تعاقب کرنے لگے۔ بمشکل رتھ کو پکڑنے کے بعد انہوں نے رتھ بان پر نظر کی تو معلوم ہوا کہ وہ ایک سبز پوش بزرگ ہیں۔کوتوال کے سپاہی خفا ہوئے کہ اے بزرگ، کیا تمہیں نہیں معلوم کہ ہم تیر برسا دیتے تو تمہاری جان یہیں چلی جاتی۔ کس برتے پر تم یوں ہوا ہوئے جا رہے تھے کہ ہمیں دیکھ کر بھی نہ رکے۔تس پہ ان سبز پوش بزرگ نے اپنا منہ کھولا اور اس سے نکلتے شعلوں کی تاثیر سے جھلس کر کوتوال کے سپاہی پیچھے ہٹے۔ بزرگ نے فرمایا نابکارو، کیا تمہیں علم نہیں ہے کہ رات کے اس پہر اگر ایک سبز پوش بزرگ اس رفتار سے کہیں جا رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ کسی مظلوم نے اسے پکارا ہے جس کی مدد کو وہ اڑا جا رہا ہے۔ تم نے مجھے روکا کیوں؟
اس پر ایک حوالدار نے مونچھوں پر تاو دیتے ہوئے کہا بزرگو ہمیں کیا پتہ کہ اس تیزی کی وجہ کسی کی مدد کا جذبہ ہے یا پھر سبز رنگ کا سفوف اندازے سے زیادہ تیز نکلا ہے اور تمہیں اڑائے لے جا رہا ہو۔ ہم تو رتھ کو دیکھیں گے کہ اندر کیا چھپا رکھا ہے؟ اس پر بزرگ نہایت خفا ہوئے۔ انہوں نے اپنے مرشد کی دی ہوئی سند خلافت کا ذکر کیا کہ تم جانتے نہیں کہ تم کس سبز پوش بزرگ سے مخاطب ہو کہ روحانیت اس سے ٹپکی پڑتی ہے۔ بزرگ نے مزید خفا ہو کر اپنے جبے سے موبائل نکالا اور کھڑے گھاٹ اس پر ایک تعویذ لکھ کر مارگلہ پہاڑ پر موجود اپنے مرشد کو بھیج دیا۔ ٹوں کی آواز آئی کہ تعویذ ڈیلیور ہو گیا ہے اور پھر ہر طرف تاریکی چھا گئی۔تاریکی چھٹی تو کوتوال نے دیکھا کہ وہ صوبیدار صاحب کے دفتر میں کھڑا ہے اور صوبیدار صاحب اسے نہایت غصے سے گھور رہے ہیں۔ صوبیدار صاحب نے غضب ناک ہو کر فرمایا نابکار کوتوال، کیا تجھے علم نہیں تھا کہ اس علاقے میں موجود سبز پوش بزرگوں کو روکے گا تو کیسی کیسی عظیم روحانی ہستیاں ان کی مدد کو آئیں گی جو ایک اشارے سے تیرا سارا کر و فر خاک میں ملا ڈالیں گی۔ اب خیریت چاہتا ہے تو ان بزرگ کی درگاہ پر جا کر ان کے پاوں پڑ اور گڑگڑا گڑگڑا کر معافی مانگ۔ ممکن ہے کہ ان کا دل نرم پڑے اور تیری جاں بخشی ہو۔کوتوال نہایت ہی بدعقیدہ شخص تھا۔ وہ تعویذوں اور طلسماتی کاغذوں کو نہیں مانتا تھا۔ اس نے صاف انکار کر دیا کہ میں تو صرف شاہی احکامات کو مانتا ہوں، یہ تعویذ مجھ پر نہیں چلتے۔ شاہی حکم کی خلاف ورزی کی ہو تو بتائیں ورنہ کس بات کی معافی مانگوں؟ تس پہ صوبیدار صاحب آگ بگولہ ہوئے انہوں نے اپنے حاجب سے ایک کاغذ منگوا کر اس پر اپنے دست مبارک سے کوتوال کی معزولی کا پروانہ کھڑے گھاٹ لکھ ڈالا۔
کوتوال کو دیس نکالا ملا۔ اب رات کے ایک بجے سنسان شاہراوں پر خدمت خلق کی نیت سے مصروف کسی سبز پوش یا سیاہ پوش بزرگ کو کوتوالی والے نہیں روکیں گے۔ جو بزرگ چاہے سنسان سڑک پر جاتے مسافر سے کرامت وغیرہ دکھا کر نذرانہ طلب کر لے، اسے بس اللہ ہی پوچھے تو پوچھے، نیا کوتوال نہیں پوچھے گا۔ تو عزیزو، یوں شاہی احکامات کو روحانیت پر فوقیت دینے والے ایک کوتوال سے سبز پوش بزرگ نے قوم کو نجات دلوائی۔

مزید پڑھیں۔  بدبخت جمہوریت اور بدقسمت عوام
Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں