گمشدہ تاریخ کے اوراق اور جدید ترکی

loading...

شبنم گل
استنبول کی کشادہ سڑک پر گاڑی رواں دواں ہے۔ سبزے کا خمار فضاوں میں تیر رہا ہے۔ رنگ برنگی پھولوں کی مہک احساس کو معطر کررہی ہے۔ بدلتا ہوا ہر منظر دلکش اور سحر انگیز دکھائی دے رہا ہے۔کسی بھی ملک کی ترقی کا اندازہ اس ملک کے انفراکسٹرکچر سے لگایا جاسکتا ہے۔ ترکی کی کشادہ سڑکیں اور بہترین ٹرانسپورٹ وہاں کے باشندوں کے لئے بہترین سہولت نظر آئی۔ ہمارے ہاں پلازہ، بولیوارڈ اور ریسٹورنٹ دھڑادھڑ بن گئے۔ زمین کی خریداری کا کاروبار عروج پر رہا مگر سڑکیں ٹوٹی اور ٹرانسپورٹ بدحال رہی۔ نہ پارکنگ کی سہولت نہ ہی معیاری بسیں عوام کو دستیاب ہیں۔ ٹریفک کا شور، دھواں اور فراوانی ذہنی دباو میں مبتلا کردیتی ہے۔
استنبول کے ہوا کے ٹھنڈے جھونکے جن میں مٹی کی مہک کے ساتھ گمشدہ تاریخ کا لمس بھی شامل تھا، یہ لمحے پراسرار سے لگے۔ کسی بھی ملک میں جاتے ہی کئی خاکے آپ کے ذہن میں بنتے اور بگڑتے رہتے ہیں۔ اسی اتاترک ایئرپورٹ پر دہشتگردی کا حملہ ہوا تھا۔ اور اکثر یہ شہر گولیوں کی آوازوں سے گونجنے لگتا ہے۔ نسلی، مذہبی و اندرونی تضادات میں گھری ہوئی دنیا جہنم بنتی جارہی ہے۔
حالانکہ یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ ترکی کی مضبوط پارلیمانی قیادت، بیرونی انتشار پسند قوتوں کے سامنے کافی مضبوط ہے، مگر دنیا کا نظام تیزی سے بدل رہا ہے۔ کچھ اقوام مکڑی کے جالے جیسا ہوشیار ذہن رکھتی ہیں، انھوں نے دنیا کو گھیر رکھا ہے۔ ترک فوج کے لیے یہ تاثر قائم رہا ہے کہ ترک فوجی بغاوتوں میں ہمیشہ مخالفین پر حاوی ہو جاتے ہیں مگر 15 جولائی کو فوج کی بغاوت کی ناکامی، صدر اردگان کی حکومت کی خوش قسمتی ہے۔ایرانی میڈیا سے ملنے والی خبروں کے مطابق، شام میں واقع ایئربیس کیمائم پر موجود روسی فوج کے انٹیلی جنس اداروں نے ترک فوج کے سازشی پیغامات وصول کر لیے تھے۔ جن سے اندازہ ہوا کہ ترکی میں بغاوت کا بیج بونے والے فوجی کمانڈر، صدر اردگان کے قتل کی تیاری مکمل کر چکے ہیں۔ جس کے بعد ترکی صدر قبل ازوقت اس ہوٹل سے باہر نکل گئے، جس پر حملہ کیا جانے والا تھا۔ لیکن پھر بھی باغی فوجیوں کو انقرہ اور استنبول کے راستوں پر آنے کا موقع مل گیا۔ انھوں نے شہریوں اور پارلیمنٹ پر حملے کرنے شروع کر دیے۔ترکی کی تمام تر بغاوتوں اور فسادات میں وہ فوج ملوث تھی۔ جسے جدید ترکی کے بانی کمال اتاترک نے قومی سلامتی، استحکام اور سیکولرازم کے محافظ کے طور پر تیار کیا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ترکی میں 1960 سے 1997 تک چار فوجی بغاوتوں کے پس پردہ سپرپاور امریکا کا ہاتھ تھا۔ فوجی بغاوت کی ناکامی کے بعد اردگان امریکا اور مغرب کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے مگر روس کے لیے ترک صدر کا رویہ مثبت دکھائی دیا۔
ان واقعات نے ترکی کی سیاحت کی صنعت کو کافی متاثرکیا۔ اب بھی لوگ ترکی جانے سے پہلے سوچ میں پڑ جاتے ہیں، مگر ترکی کی شاندار ثقافت، تاریخ اور جغرافیائی حسن انھیں بے اختیار اپنی جانب کھینچنے لگتا ہے۔ مہیب بادلوں کے آسمان تلے ترکی پرسکون تھا۔ جیسے یہاں غیر انسانی واقعات کبھی وقوع پذیر نہیں ہوئے تھے۔
استنبول ساتویں صدی میں دریافت ہوا۔ سولہویں صدی میں یہ شہر بازنطینی حکمرانوں اور عثمانیہ سلطنت کا دارالخلافہ تھا۔ ان دو خوبصورت تہذیبوں کے نشانات قدیم آثاروں میں ملتے ہیں۔ عثمانیہ سلطنت نے اپنا اقتدار روس، آسٹریا، سربیا، یونان اور بلغاریہ سے جنگوں میں کھو دیا۔ اس کے بعد پہلی جنگ عظیم میں گیلیپولی کی جنگ میں عثمانیہ سلطنت زوال پذیر ہوئی اور استنبول پر وکٹورین، فرنچ، برطانیہ اور یونانی حملہ آوروں نے قبضہ کر لیا۔جدید ترکی کے بانی مصطفے کمال پاشا نے اس ملک کا نقشہ بدل دیا۔ یونان سے لڑائی کے بعد جدید ترکی کی حد بندی مقرر کر دی گئی۔ استنبول میں سو سے زیادہ ایسے مقامات تھے جنھیں دیکھا جا سکتا ہے۔ جن میں مساجد، چرچ، محل، میوزیم، بازار، حمام اور باغات وغیرہ شامل ہیں۔ لہذا ہوٹل میں سامان وغیرہ رکھ کے نکل کھڑے ہوئے۔ استنبول کے راستوں کے نشیب و فراز دیکھ کر کبھی ریشم گلی یاد آتی تو کبھی تلک چاڑھی حیدرآباد کا منظر نگاہوں کے سامنے گھوم جاتا۔ مگر ترکی کے حکمرانوں نے بڑی محبت اور محنت سے راستوں کے نشیب و فراز کو سنوارا ہے۔مادی ترقی ایک الگ معاملہ ہے دیکھنا یہ ہے کہ وہ قوم اخلاقی طور پر کتنی مضبوط ہے۔ جہاں عورتوں کی بات آتی ہے وہاں معاملات اس سو کالڈ ترفی کے متضاد نظر آتے ہیں۔ عورتوں کی برائی میں یونانی پھی کسی سے پیچھے نہ تھے۔ ارسطو خود عورتوں کا مخالف تھا۔ مگر ملکی حالات نے اسے کہنے پر مجبور کردیا کہ ایتھینز کی تباہی کی وجہ، عورتوں سے بدسلوکی تھی۔ اسے کہنا پڑا کہ کہ وہ معاشرے ترقی نہیں کرسکتے جہاں عورتیں امتیازی سلوک کا سامنا کرتی ہوں۔ یورپ کے جدید مفکر تک عورتوں کو مورد الزام ٹہراتے رہے۔ ترکی کی جدت بھی محض بناوٹی لبرل ازم پیدا کر پائی۔ اس کی کڑیاں کہیں نہ کہیں ماضی سے جاملتی ہیں۔ سلطنت عثمانیہ کا سلطان ابراہیم غیر انسانی رویوں کا حامل سمجھا جاتا تھا۔ مورخ بیان کرتے ہیں کہ اسے ایک کنییز پر بیوفائی کا شبہ تھا۔ مگر وہ اس کی نشاندہی کرنے سے قاصر تھا لہذا اس نے دو سو اسی کنیزوں کو بوریوں میں بند کروا کے باسفورس سمندر کے حوالے کردیا!
آج جدید ترکی کی عورتیں زیادتی، جسمانی تشدد اور آنر کلنگ کا نشانہ بنتی ہیں۔ یہ ایک قدیم مائنڈ سیٹ ہے جو نسل در نسل موروثیت کے جال میں قید دکھائی دیتا ہے۔ حالانکہ یہ عورتیں ہمیشہ اپنے حقوق کی دفاع کے لئے آواز بلند کرتی رہی ہیں۔سڑکوں پر چھوٹی اینٹیں ماضی کی یاد دلاتی ہیں۔ سامنے خوبصورت توپ کاپی محل ایستادہ تھا ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ سوئیٹر اور چھتری کا سہارا، مہربان دوست کا سا تھا۔ اس قدر حسین اور قدیم درختوں میں گھرا ہوا یہ محل دنیا کے مختلف ملکوں سے آئے ہوئے سیاحوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ پرندوں کی چہچہاہٹ کانوں میں رس گھولتی تھی۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے قدیم درختوں کو چھو کے آتے تو خمار آلود مہک ہر طرف چھڑکنے لگتے۔ یہ محل سلطنت عثمانیہ کی شاندار ثقافت کا منہ بولتا اظہار ہے۔ جو نہ فقط حکمرانوں کی رہائش گاہ تھی بلکہ انتظامی امور اور تعلیمی مرکز بھی تھا۔
یہ محل 1466 اور 1778 کے درمیان میں بن کر پایہ تکمیل تک پہنچا، جسے سلطان محمد دوم نے بنوایا تھا، قسطنطنیہ کے اس فاتح نے اس محل کو سالوں تک سنوارا اور نکھارا۔ انیسویں صدی تک یہ محل سلطنت عثمانیہ کی رہائش گاہ اور عدالتی منصب بنا رہا۔ 1924 کو یہ محل مصطفی کمال اتاترک کے حکم کے مطابق، میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا۔ محل کے مختلف حصوں میں نادر اشیا جنگوں کے دوران نوادرات حاصل کرنے کے علاوہ مختلف ملکوں کے تحائف اور ملکی طور پر خریدا ہوا اثاثہ ہے۔
چینی اور مٹی کے حسین برتن چائنا، جاپان و دیگر یوروپی ملکوں کی شاندار تہذیب کا منفرد اثاثہ ہیں۔ جن کے نقش ونگار اور نمونے جدید دور کے برتنوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ جدت بھی درحقیقت قدامت کا ایک نیا روپ ہے نیا پن بھی کہیں نہ کہیں اپنی بنیاد سے جڑا ہوا ہے۔ پیتل اور تانبے سے بنے ہوئے برتن اپنے دورکا نادر نمونہ ہیں۔سلطان سلیمان سوم کے زمانے میں شیشہ کے برتن وگلاس کے کام پر توجہ دی گئی اور نمایندے اٹلی بھیجے گئے چاندی کے برتن و نوادرات سولہویں سے انیسویں صدی کے شاندار فن پارے ہیں۔ جن کی تعداد دو ہزار کے قریب ہے جس میں محل میں استعمال ہونے والی اشیا، مغربی ملکوں کے تحائف، خریدا ہوا اثاثہ اور عطیے کے طور پرجمع کرایا ہوا سامان شامل تھا۔ ان کے نمونے، خطاطی، نقش نگاری دیکھنے والوں کی نگاہوں کو خیرہ کر دیتی ہے۔ عثمانیہ سلطنت کے دوران یا اس سے پہلے استعمال ہونے والے ہتھیار 1، 300 سالوں تک محیط ہیں۔
52000 یہ ہتھیار عرب، امیہ، عباسی، ایران، کریمائی تاتار، ترکی، ہندوستان، مغربی و جاپانی ملکوں کی تہذیبوں کے فن اورندرت کی انوکھی مثال ہیں۔ ہتھیاروں کی خوبصورتی حیران کن تھی اور وہاں موجود تمام تر لوگ آپس میں حیرت اور توصیفی کلمات سے اسلامی تہذیب کے فن و فکر کو خراج تحسین پیش کر رہے تھے۔ وہاں سے نکل کر باورچی خانے کی طرف چلے، جہاں بڑی دیگیں رکھی ہوئی تھیں جن میں حلوہ پکایا جاتا تھا۔وسطی ایشیا میں حکمرانی کے دوران ترک میٹھا بالکل نہیں کھاتے تھے۔ انھوں نے میٹھا اسلام قبول کرنے کے بعد کھانا شروع کیا۔ جب وہ وسطی ایشیا میں رہائش پذیر ہوئے جس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہد اور حلوے کے رسیا تھے۔ شہد، گڑ، فروٹ جیلی، ملک پڈنگ اور بکلاوا سے بنا ہوا حلوہ سلجوک اور سلطنت عثمانیہ کے دسترخوان کی زینت بنا کرتے، مگر حلوہ مرغوب ترین میٹھا پکوان تھا۔ آج بھی ترکی میں جابجا مٹھائی کی دکانیں موجود ہیں۔ آج بھی دوکانیں طرح طرح کے حلوہ جات سے سجی نظر آئیں۔

مزید پڑھیں۔  فضول خرچی: بڑھتے ہوئے مسائل کی اہم وجہ.

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں