سب سے بڑا صوبہ:سب سے بڑا چیلنج

 وزیراعظم پاکستان عمران خان نے پنجاب کابینہ کے ارکان سے ملاقات کی اور اس موقع پر کہا کہ پنجاب میں بدعنوانی کا خاتمہ سب سے بڑا چیلنج ہے۔ پنجاب حکومت کی کارکردگی دوسرے صوبوں کے لیے قابل تقلید ہونی چاہیے، پنجاب کابینہ کے ارکان بدعنوانیوں کی نشاندہی کو اپنی پہلی ترجیح بنائیں۔وزیراعظم  نے کہا کہ پنجاب کابینہ کے ارکان بدعنوان عناصر کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ملاقات کے دوران وزیراعظم نے پنجاب میں زمینوں پر قبضے اور تجاوزات پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ زمینوں پر قبضے اور تجاوزات میں مافیاز اور بڑے گروپس ملوث ہیں،ان مافیاز اور بڑے گروپوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو ہدایت کی کہ پنجاب میں تجاوزات کے خلاف فوری مہم شروع کی جائے، پنجاب میں زمینوں پرقبضے کرنیوالوں کے خلاف بھی فوری کارروائی کی جائے۔عمران خان نے کہا کہ کفایت شعاری اور سادگی کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے، پنجاب کابینہ کے ارکان ٹیکس دہندگان کا پیسہ بچاتے ہوئے مثال قائم کریں۔وزیراعظم عمران خان نے پنجاب کابینہ کے ارکان کو ہدایت کی کہ 100 روزہ ایجنڈے پر عمل درآمد کے لیے انتھک کام کریں، پنجاب کا وقتاً فوقتاً دورہ کروں گا اور سو دن کے ایجنڈے کا جائزہ لوں گا۔

وفاقی کابینہ میں جب دوسری جماعتوں خاص طور پر مشرف دور کے وزراء سے کابینہ بھری گئی اور اس عمل پر اعتراض اٹھایا گیا کہ کیا پی ٹی آئی میں نئے چہرے اور نئے لوگ نہیں ہیں تو جواباً یہ دلیل دی گئی کہ حکومتی معاملات چلانے کے لئے تجربے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن دوسری طرف سب سے بڑے صوبے پنجاب کی اہم ترین ذمہ داری ایک انتہائی ناتجربہ کار شخص کو سونپ کر اپنی ہی دلیل کی نفی کی گئی۔ وزیراعظم صاحب نے کچھ عرصہ قبل فرمایا بھی تھا کہ شکر ہے ہمیں مرکز میں حکومت نہیں ملی کیونکہ ہمیں حکومت کا تجربہ ہی نہیں تھا، گویا وہ تجربہ جو کے پی حکومت میں رہ کر حاصل کیا ، اب اس کی روشنی میں ملک و ملت کی بہتری کے لیے فرائض سرانجام دیں گے۔سوال یہ ہے کہ ایسا ناتجربہ کارشخص جو ایک چھوٹے سے خطے کو جدید دنیا سے ہم آہنگ نہ کر سکا وہ اتنے بڑے صوبے کے طول وعرض میں پھیلی بدحالیوں کا کیا علاج کرے گا۔ اس کے سر پر دوتجربہ کار جغادری بٹھا دیے گئے ہیں اور لگتا ہے یہ ان ہی کا تجربہ کام میں لائے گا، لیکن جن کا تجربہ کام میں لایا جائے گا وہ اور بھی بہت کام دکھائیں گے۔ ان کی موجودگی میں یہ نونہال پودا کیسا پھلے پھولے گا، یہ توآنے والا وقت ہی بتائے گا۔ لیکن بزدار کو جس صورت حال کا سامنا ہو گا، وہ یقیناًاتنی خوشگوار نہیں ہوگی۔

loading...

کیا پنجاب جیسے بڑے صوبے کے بظاہر کمزور وزیراعلیٰ طاقتور ترین لینڈ مافیاز اور قبضہ گروپوں پر ہاتھ ڈال کر ان کا  احتساب کر پائیں گے۔ ایک خواہش ہوتی ہے اور ایک زمینی حقیقت۔خواہش تو یہی ہے کہ عثمان بزدار  یہ کام کر گزریں لیکن زمینی حقیقت چیخ چیخ کر بتا رہی ہے کہ یہ ان کے بس کی بات نہیں۔یہ وہ کوہ کنی ہے جس کے تصور ہی سے فرہاد کا زہرہ آب ہو جائے۔ یہ چنداں غلط نہیں کہ ابھیعمران خان کی حکومت قائم ہوئے محض چند روز ہوئے ہیں اور چند دنوں کی کارکردگی کی بنیاد پر رائے قائم کی جائے تو اس کی صحت کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔لیکن سوال یہ ہے کہ اگر رائے قائم کرنے والا اپنی رائے چند روز کی وزارت عظمیٰ کی بجائے ان پانچ سالوں کی کارکردگی کو سامنے رکھ کر قائم کر رہا ہو جب کے پی کے میں اقتدار تحریک انصاف کے پاس تھا تو کیا اس رائے کو بھی خوش گمانیوں کی دلدل میں پھینک دیا جائے۔تحریک انصاف کو کے پی کے میں حکومت ملی تو اس وقت ملک میں احتساب کا ایک ادارہ  نیب  کام کر رہا تھا۔ تحریک انصاف نے کہا ہم اس سے مطمئن نہیں ، ہم با معنی اور ٹھوس احتساب کرنا چاہتے ہیں اس لیے ہم نیا ادارہ بنائیں گے۔ چنانچہ 2014 میں کے پی اسمبلی میں قانون سازی کی گئی اور اس کے ذریعے کے پی کا اپنا احتساب کمیشن قائم کیا گیا۔اگست 2017 تک اس کمیشن کی کارکردگی کا عالم یہ تھا کہ اس پر غریب قوم کے ٹیکس کے پیسوں میں سے 600 ملین خرچ کیے جا چکے تھے  مگران چار سالوں میں کسی ایک مجرم کو بھی سزا نہیں دی جا سکی۔سزا تو رہی ایک طرف کسی ایک مجرم سے بھی ایک روپیہ تک نہیں نکلوایا جا سکا۔اور 2018 کی صورت حال معاصر اخبارکی ایک خبر میں موجود ہے کہ 2014 سے لے کر اب تک احتساب کمیشن کے دائر کردہ صرف تین ریفرنسز پر فیصلہ سنایا جا سکا۔اور پھر ان تین میں سے بھی ایک ریفرنس کا فیصلہ واپس لے لیا گیا کیونکہ پانچ کروڑ سے کم کی واردات احتساب کمیشن کے دائرہ کار میں نہیں آتی۔ احتساب کی علمبردار حکومت سے آزاد احتساب کمیشن برداشت نہیں ہو ا،چنانچہ احتساب ایکٹ میں ترمیم کا فیصلہ کر لیا گیا۔پہلی ترمیم یہ کی گئی کہ ڈی جی کسی کو گرفتار کرنا چاہے تو احتساب کمیشن کے چار ممبران کی اجازت لینا ضروری ہے۔اگر یہ اجازت نہیں ملتی تو کسی کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔ دوسرترمیم یہ تھی کہ کسی سینیٹر کو گرفتار کرنا ہے تو پہلے چیئر مین سینیٹ کو بتایا جائے، کسی ایم این اے کو پکڑنا ہے تو پہلے قومی اسمبلی کے سپیکر کو بتایا جائے اور کسی ایم پی اے پر ہاتھ ڈالنا ہے تو پہلے اسمبلی کے سپیکر سے بات کی جائے۔بیوروکریسی کے نخرے بھی اٹھانا تھے چنانچہ کہا گیا آئندہ چیف سیکرٹری سے بات کیے بغیر احتساب کمیشن کسی افسر کو گرفتار نہیں کر سکے گا۔  یہی نہیں وزیر اعلیٰ کے پی خم ٹھونک کر میدان میں آ گئے ، فرمایا احتساب کمیشن کی وجہ سے حکومت کے ادارے مفلوج ہو گئے ہیں۔کے پی میں تو مضبوط حکومت تھی اگر وہاں مجبوریوں نے اس طرح عمران کا ہاتھ پکڑ لیا کہ ان کے اپنے بنائے احتساب کمیشن کا ستیا ناس ہو گیا اور وہ یہ سب ہوتا دیکھتے رہے کچھ نہ کر پائے تو مرکز اور پنجاب  میں جہاں نسبتاً نہیں واقعتاًکمزور حکومت ہے۔ حلیف بھی دودھ کے دھلے نہیں اور اپنی صف میں بھی اب زیادہ باکمال قسم کے لوگ موجود ہیں۔ یہاں احتساب کیسے ہو سکے گا۔موجودہ حکومت کے ناقدین یہ بھی کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی میں شامل کئی چہرے (ن)لیگ اوردیگر سیاسی جماعتوں کا حصہ رہے ہیں، وہ ان جماعتوں کے پیدا کردہ سیاسی کلچر کا حصہ رہے ہیںاور جب وہ پرانی عادتوں کے تحت اپنا کام دکھائیں گے تو حکومت کے لئے کئی مشکلات پیدا ہوں گی۔

Comments

comments

مزید پڑھیں۔  حنیف عباسی کیخلاف فیصلہ پر بہت افسوس ہوا ، سید خورشید شاہ

اپنا تبصرہ بھیجیں