کی محمد ﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

ارشد نعیم چوہدری

مسلمان ایک ایسی قوم ہے جو اسلام کے نام پر کٹ مر تو سکتی ہے مگر اسلام کے بنیادی اصولوں کے مطابق زندگی نہیں گزار سکتی ۔فیس بُک پر آج کل جو اغیار نے مہم چلا رکھی ہے اس کی بنیادی وجہ ہماری دین سے دوری ہے،حضرت علامہ اقبال نے پہلے شکوہ پھر جو اب شکوہ لکھ کر اپنی بخشش کا سامان کر لیا۔ مگر میں سوچتا ہوں مجھ سمیت ٢٢کروڑ کی آبادی نے اپنے نبی محمدۖ کے کس ارشاد اور حکم پر اپنی زندگی کی بنیاد رکھی؟ کتنا احترام کیا؟۔ جب میں گورنمنٹ کا لج لاہور میں زیر تعلیم تھا تو ہمارے ایک پروفیسر( جن کا ظاہری طور پردین سے اتنا لگائو نہیں تھا ) نے ایک جملہ ادا کیا تھا جو آج تک میرے کانوں میں گونجتا ہے۔ ”مسلمان ایک ایسی قوم ہے جو اسلام کے نام پر کٹ مر تو سکتی ہے مگر اسلام کے بنیادی اصولوں کے مطابق زندگی نہیں گزار سکتی”۔

پوری دنیا میں مسلمانوں کی تعداد تقریبا َڈیڑھ ارب سے بھی زیادہ ہے اوردنیاوی وسائل، دولت کے ا عتبار سے بھی امیر ترین ہیں۔دنیا کے ٧٥ اسلامی ممالک کے سربراہ مملکت کا شمار دنیا کے امیر ترین لوگوں کی فہرست میں ہوتا ہے اور اگر یہ مسلمان ہو جائیں تو کسی دوسرے ممالک کے لوگوں کی جرات نہ اس گستاخانہ حرکت کی ۔( مگر اوقات دھیلے کی نہیں) شاید جارج برنارڈ شا نے کہا تھا”اسلام دنیا کا بہترین نظام حیات ہے اور مسلمان بدترین ماننے والے”۔

آج2018کے حالات دیکھتا ہوں تو دل خون کے آنس روتا ہے۔مسلمانوں کی غیرت و حمیت کو کیا ہو گیا ہے ؟کہاں گم ہو گی ہے؟ اور میں کس طبقہ فکر کی نما یندگی کر رہا ہوں۔اس طبقہ کی جس نے حضور  اقدس محمد ۖ کی زند گی کو جانے بغیر ان کی شان میںگستا خانہ خاکے بناے اور چھاپے یا اس طبقہ کی جس نے احکام رسول ۖ  کو سمجھتے ہوے بھی پیروی نہ کر سکے اور اپنے رسول محمد ۖ کی تضحیک کا با عث بنے۔ اب میںماتم کس کا کروں؟۔ بس میں شرمندہ ہوں ایک مسلمان غیرت و حمیت سے کیا مراد لیتا ہے؟ کیا غیرت و حمیت اس کو کہتے ہیں کہ توڑ پھوڑ کی جاے،اپنی جائدادوں کو نقصان پہنچایاجاے،اپنے لوگوں کی زندگی کوتباہ و برباد کر دیا جاے۔گالی گلوچ اوربدتمیزی کا طوفان بلند کیا جاے،عزتوں کو تارتار کیا جاے،بد لے کی آگ میں اپنے گھر کو آگ لگادی جاے، غصے کا مظاہرہ کیا جاے،اپنے ہی رشتوں کو پامال کیا جاے اور جب غصہ ختم ہو تو پچھتاے پھرنا کہ کیا کر دیا؟

مزید پڑھیں۔  انوشکا شرما کے مزاحیہ میمز تیزی سے وائرل، ہدایتکار بھی کسی سے پیچھے نہ رہے

میرے نزدیک غیرت و حمیت پچھتانے کا نام نہیں فخر کا مقام ہے۔غیرت و حمیت بدلے کا تقاضا نہیں کرتی بلکہ خود کو بدلنے کا مطالبہ کرتی ہے۔غیرت و حمیت انتقام کا نام نہیں بلکہ اپنی غلطیوں کو درست کرنے کا معیار ہے۔غیرت و حمیت ایسی ڈھال ہے جس کے سامنے دشمن ہتھیار ڈال دے نہ کہ ہتھیار اٹھا لے۔اغیار نے میرے رسول  ۖ کی شان میں گستا خی کی ہے اس کو جرات نا ہوتی ایسا کرنے کی اگر میری زندگی میرے نبی  ۖکی بتائی ہوئی باتوں کے مطابق ہوتی ۔ میری تجارت میرے نبیۖکی تجارت کے اصولوں کے تحت ہوتی۔میری معاشرت میرے نبی  ۖکی معاشرتی زندگی کے طابع ہوتی۔میری اخلاقیات میرے نبی  ۖکے اخلاقی معیار پر پورا اترتی، زندگی عدل و انصاف کے قانون کے طابع ہوتی، تو اغیار میرے رسول ۖ کی شان میں گستاخی کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔

loading...

اگر ہم مسلمان سمجھتے ہیںکہ محمد  ۖ صرف مسلمانوں کیلئے رسول ۖ  بن کر آے ہیں تو ہم نے ان کا مقام گھٹا کر ان کی شان میں گستاخی کی ہے اور اگر سمجھتے ہیں کہ آپ  پوری انسانیت کے راھبر و راہنما بن کر آے اور ہم نے مسلمان ہوتے ہوے اپنے قول و فعل کے تضاد کو برقرقار رکھا ہواہے تو ہم نے اپنے رسول  ۖ کی تعلیمات سے انحراف کر کے ان کی شان میں گستاخی کی جس نے دوسروں کو موقع فراہم کیا۔ ہمارے رسول  ۖجو امن ، اخوت، بھائی چارہ کا پیغام لے کر دنیا میں تشریف لائے اس پیغام کو آگے آنے والی نسلوں تک اور دنیا کے کونے کونے تک پہنچانا میرا فرض ہے بلکہ قرض ہے۔اس قرض کو ادا کیے بغیر حقوق العباد پو رے نہیں ہو سکتے،جو اللہ تعالی کی رضا کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ ہو گا ۔ ہمارے نبی  کے پاس ایک یہودی بچہ کام کیا کرتا تھا۔چند دن غیر حا ضر رہا تو آپ  کو فکر ہوئی ،تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ بیمار ہے تو آپ اس کی خیریت دریافت کرنے اس کے گھر تشریف لے گیے یہودی کا بچہ قربل مرگ ہے۔آپ  نے اس کو کہا کہ کلمہ پڑھ لو بچے نے اپنے باپ کی طرف د یکھا تو باپ نے کہا بیٹا ابو قاسم کی بات مان لو۔بچے نے کلمہ پڑھ لیا اس کے بعد مر گیا۔باہر آ کر آپۖ بہت خوش ہوے اور فرمایا میرا اُمتی جہنم کی آگ سے بچ گیا۔یہ ہے وہ فکر اور رویہ جس کو امت محمد ی کو اختیار کرنا چاہے۔یاد رہے یہود ونصار ی کی دوستی سے مسلمان نے کبھی فیض نہیں پایا۔اوریہود و نصاری کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی خدمت کیلئے پیدا اور وقف کیا ہے ان کی ایجادات سے استفادہ حکمت و دانش سے ممکن بنایا جاسکتا ہے ان سے اندھی دوستی یا ان کی تقلید سے ہر گز نہیں۔ اللہ تعالی قرآن فرماتا ہے کہ یہودہ ونصاری مسلمانوں کے ہرگز دوست نہیں ہو سکتے۔

مزید پڑھیں۔  سپریم کورٹ میں سہیون ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی زمین پر قبضہ سے متعلق کیس کی سماعت

آئیے آج ایک وعدہ کرتے ہیں کہ آج سے ہم ان تمام امور کی فرمابرداری کریں گے جن کو کرنے کا حکم ہمارے نبی ۖنے دیا ہے،ماضی میں جو غلطیاں ہو گئی ہیں ان پر شرمندہ ہیں اور اللہ تعالیٰ سے معافی کے طلب گار ہیںاور وعدہ کرتے ہیں آیندہ ایسا کوئی عمل نہیں دہرایں گے جو ہمارے رسول ۖکی شان میں گستاخی کرنے والوں کی حوصلہ افزای کا باعث بنے۔ اس کے ساتھ میں سمجھتا ہوں کہ اگر مجھے اغیار سے اپنے رسول  کی عزت اور تکریم کرانا ہے توسب سے پہلے مجھے اپنے آپ کو خود احتسابی کے عمل سے گزارنا ہو گا،خود ان کی عزت کرنا ہو گی،خود ان کے بتاے ہوے راستے پر چلناہو گا،خود کو مثالی شخصیت کے روپ مین ڈھالنا ہو گا،مجھے دیکھ کر اغیار کہنے پر مجبور ہو ں کہ یہ ہے اُمتی، محمد  ۖکا پیروکار ہے،مجھے پڑھ،سن کر اغیار کہیں کہ یہ ہے محمد ۖ  کا غلام اور عقل و شعور کا پیکر ہے۔مجھ پر یہ بھی قرض ہے کہ جارج برناڑد شا کو غلط ثابت کروں جس نے چند صدیاںپہلے مسلمان پر الزام لگایا تھا کہ مسلمان بدترین ماننے والے ہیں،مجھے اس پروفیسر کی بات کو بھی غلط ثابت کرناہے کہ مسلمان اسلام کے اصولوںکے مطابق زندگی نہیں گزارسکتے۔

حدیث میں آتا ہے کہ کوئی بھی شخص اس وقت تک مومن نہں ہو سکتا جب تک اُس کے دل میںحضور  ۖکی محبت اُس کی اپنی جان سے ، اس کے ماں باپ ، اسکے کاروبار، اسکے بچوں اور دنیا کی محبت سے زیادہ نہ ہو۔ اس حدیث کی تصدیق اللہ تعالیٰ نے قرآن سے یوں کی سورہ النساء آئت٠٨ ترجمہ:جس نے رسول  ۖ کی اطاعت کی دراصل اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ اور سو رة الما ییدہ کی آیت نمبر٧٦ جس میں اللہ تعالی نے حضور ۖ  کو مخاطب کر کے فرمایا۔” اے رسُولۖ جو کچھ بھی آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے پہنچا دیجئے۔ اورآپ کو اللہ تعالیٰ لوگوں سے بچا لے گا”۔جس کی حفاظت کی ذمہ دارای اللہ خود اٹھا رہا ہو اس کو کون ذلیل کرسکتا ہے۔ چاند پر تھونکے والے اس کے انجام سے بچ نہیں سکتے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں