روہنگیا مسلمانوں پر مظالم بے نقاب کرنے والے 2 صحافیوں کو 7 سال قید کی سزا

روہنگیا

برما: میانمار کی عدالت نے روہنگیا مسلمانوں پر حکومت کے مظالم بے نقاب کرنے والے دو صحافیوں کو سات سال قید کی سزا سنا دی۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق دونوں صحافیوں کو جاسوسی اور سرکاری راز حاصل کرنے کی کوشش کے الزامات پر سزا سنائی گئی۔
سزاپانے والے صحافیوں نے روہنگیا مسلمانوں پر میانمارکی حکومت اور فوج کے مظالم کو اپنی رپورٹس کے ذریعے بے نقاب کیا تھا، گرفتاری کے وقت دونوں صحافی میانمار کی ریاست رخائن میں دس روہنگیا مسلمانوں کے قتل پر تحقیقاتی رپورٹ تیار کر رہے تھے۔

loading...

سزا پانے والے صحافی وا لون نے کہا کہ میں نے کچھ غلط نہیں کیا، مجھے کوئی ڈر نہیں،میں انصاف، جمہوریت اور آزادی پر یقین رکھتا ہوں۔میانمار حکومت کے ترجمان  زاؤ طے نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیس قانون کے مطابق چلایا گیا ہے، میانمار کی عدالتیں خودمختار ہیں۔

دوسری جانب غیرملکی خبر ایجنسی کے ایڈیٹر اِن چیف کا کہنا ہے دنیا بھر میں آزادی صحافت کے لیے آج افسوس ناک ترین دن ہے۔اقوام متحدہ نے فیصلے کو غیرمنصفانہ قرار دیتے ہوئے دونوں صحافیوں کو فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔

یاد رہے چند روز قبل اقوام متحدہ نے ‫میانمارکی فوج کو روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام اور اجتماعی زیادتی میں ملوث قرار دے کر میانمارکے آرمی چیف اورپانچ جنرلز سمیت اعلیٰ فوجی قیادت پر مقدمہ چلانے کی سفارش کی تھی۔

Comments

comments

مزید پڑھیں۔  گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا اپنے عہدے سےمستعفی

اپنا تبصرہ بھیجیں