لیبیا کے درالحکومت طرابلس میں لوٹ مار جاری، 400 قیدی فرار

اطلاعات کے مطابق لیبیا کی سرکاری فوج اور عسکریت پسندوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے بعد ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب طرابلس شہرمیں بدنظمی اور بڑے پیمانے پر لوٹ مار جاری ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق دارالحکومت کے جنوب میں واقع ایک جیل سے 400 کے قیدی فرار ہوگئے۔
عرب ٹی وی کے مطابق پولیس نے کہا کہ بدنظمی کے بعد جیل کے دروازے کھلتے ہی عین زارہ جیل سے سینکڑوں قیدی فرار ہوگئے۔ پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ دارالحکومت میں بغاوت اور خوف کی کیفیت ہے۔ عین زارہ جیل کے قریب لڑائی کے باعث جیل انتظامیہ قیدیوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی۔ جیل کے سکیورٹی عملے نے جانی نقصان سے بچنے کے لیے جیل سے فرار میں قیدیوں کو سہولت فراہم کی۔
ادھر طرابلس کے ڈائریکٹر سکیورٹی کا کہنا تھا کہ دارالحکومت میں لوٹ مار جاری ہے۔ پولیس کو شہر میں لوٹ مار کے 134 واقعات کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ جرائم پیشہ عناصر موجودہ انارکی سے فائدہ اٹھا کر شہریوں کے گھروں میں لوٹ مار کر رہے ہیں۔ ایک سیکیورٹی اہلکار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مسلح گروپ دکانوں اور گھروں پر بھی دھاوے بول رہے ہیں۔
شہریوں کی املاک اور سرکاری املاک سب کی برابر لوٹ مار جاری ہے۔ لوٹ مار کے سب سے زیادہ واقعات الکریمیہ، ائیرپورٹ روڈ اور بن غشیر محل کے اطراف میں پیش آئے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ پولیس اور دیگر سکیورٹی ادارے جھڑپوں اور لوٹ مار کی روک تھام میں ناکام ہیں۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز لیبیا کی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ خون ریز جھڑپوں کے بعد دارالحکومت طرابلس کے بیشتر علاقوں سے مسلح گروپوں کو پسپا کر دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں۔  نیا آئی فون 12 ستمبر کو متعارف ہونے کا امکان !

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں