خُدا کی محبت اور ہیرا منڈی… شہریار خاور

loading...

مجھے یہ کہنے میں کوئی آر نہیں کے لڑکپن کے دور میں مجھے گناہ سے بہت لگاؤ تھا۔ نیکی مجھے بوجھ سا لگتی تھی۔
ایک بزرگ کی وجہ سے مسجد جانا شروع کیا۔ کچھ عرصے پانچ وقت نماز باقاعدگی سے باجماعت پڑھی۔ شروع میں بہت مزا آیا۔ پھر سمجھ آیا کے مزہ خدا سے نزدیکی کا نہیں بلکہ مخلوق خدا پر برتری کا تھا۔ مسجد آتے جاتے اپنے کاموں میں مصروف لوگوں کو حقارت سے دیکھتا۔

بیوقوف لوگ۔ یہ کیا جانیں قرب خدا کی لذّت۔
اپنا قد بہت لمبا ہوتا محسوس کرنے لگا۔ پھر ایک دن میری نظر اپنے اسی قدر لمبے ہوتے سائے پر پڑی تو سمجھ آئی کے قد لمبا ہونے کے ساتھ ساتھ دل کی تاریکی بھی بہت بڑھ چکی تھی۔ اتنی سمجھ تو تھی نہیں کے اپنی ذات کا اندھیرا دور کر سکتا لہذا صرف نماز چھوڑ دی۔
تھوڑا اور جوان ہوا تو گناہ کو سمجھنے کا ارادہ کیا۔ سوچا جب تک اندھیرے سے واقفیت نہیں ہوگی نور سے شناسائی مشکل۔۔۔

اونچے فلسفے ایک طرف، گناہ میں کشش بھی بہت تھی۔ اس دور سے ابھی بہت دُور تھا جب انسان گناہ کا گھونگٹ اٹھا کر اس کی بدصورتی دیکھتا ہے۔ جوانی میں تو گناہ ایک خوبصورت دلہن دکھائی دیتا ہے۔ عمر بڑھتی ہے تو اندازہ ہوتا ہے کے گناہ دراصل ایک چڑیل ہے جو خوبصورت دلہن کا روپ دھارے پھرتا ہے۔ ذرا قدم بہکے نہیں اور چڑیل نے لمبے ناخنوں سے دبوچ لیا۔

اب یہ بھی ایک دلچسپ حقیقت ہے کے عمر کے درمیانی حصّے میں گو یہ معلوم ہے کے گناہ ایک چڑیل ہے مگر پھر بھی دلہن کی خوبصورتی دل لبھاتی ہے۔ یہ بھی معلوم ہے کے چڑیل کے ناخن پچھتاوا بن کر روح کو گھاؤ گھاؤ کر دیں گے مگر دل ہے کہ مانتا نہیں۔

خیر بات ہورہی تھی جوانی کی۔ تو گناہ کی کشش ایک دن کھینچ کر بازار حُسن لے گئی۔ ایک عجیب بازار تھا۔ پھولوں کی مہکتی دُکانیں، میٹھی میٹھی خوشبوؤں سے بھرے ہوا کے جھونکے اور اس خوشبو تلے سڑتے گوشت کی سی سرانڈ۔ اونچے مکان، تنگ دروازے اور تاریک سیڑھیاں اور دروازوں کے باہر کھڑے بوسکی کے کرتوں میں ملبوس باریک مونچھوں کو تاؤ دیتے دلال۔

مزید پڑھیں۔  ڈیم ناگزیر: انصاف پیاسا ہے؟ ۔۔۔ اداریہ

میں نے آس پاس دیکھا۔ ایک ہجوم تھا جو گناہوں کے میلے میں شرکت کے لیے ٹوٹا پڑا تھا۔ امیر غریب سب ایک ہی صف میں کھڑے تھے۔ فرق تھا تو صرف اتنا کہ امیر لمبی موٹر کاروں پر اور غریب پیدل، امیر ریشمی کرتوں میں تو غریب سادہ اور پیوند لگے کپڑوں میں۔ مجھے سمجھ آ گئی کہ اس دنیا میں امیر اور غریب صرف خواہشیں خریدنے اکٹھے ہوتے ہیں۔ مسجد میں بھی اور بازارِ حسن میں بھی۔
خواہش بھی شراب کی طرح ہوتی ہے۔ کسی کی خواہش مہنگی بلیک لیبل کی طرح، کسی کی سستی دیسی کی طرح مگر مقصد ایک ہی ہوتا ہے۔ شراب کا مقصد من جلانا اور خواہش کا مقصد من بہلانا۔
لوگوں کی دیکھا دیکھی میں نے بھی موتیے کا ایک ہار خریدا اور مٹھی میں دبائے سونگھنے لگا۔ مقصد تھا کے کسی کو یہ نا لگے کہ میں محض تماش بینی کی غرض سے کھڑا تھا بلکہ لوگ مجھے پرانا پاپی سمجھیں۔ لیکن کہاں صاحب، دائی سے پیٹ چھپانا ناممکن اور دلال سے ارادہ چھپانا لاحاصل۔ ایک دلال جو شکل و صورت سے ہی خبیث روحوں کا سردار دکھائی دیتا تھا۔ میری طرف بڑھا۔
کیا ارادہ ہے ماسٹر ؟ اس نے پان کی پیک ایک جانب تھوکتے ہوئے کہا۔
بس بازار دیکھ رہا ہوں۔
نا چاہتے ہوئے بھی میرے منہ سے سچ پھسل گیا۔
بازار ؟ اس نے ایک میسنہ سا قہقہہ لگایا۔
بازار میں کیا ہے دیکھنے کو ؟ دیکھنا ہے تو بازار والیوں کو دیکھو۔
بازار والیاں کہاں ہیں ؟ میں نے ہچکچاتے ہوئے دریافت کیا۔
میاں کمال آدمی ہو۔ زیورات کا بازار تھوڑی ہے کہ شوکیسوں میں مال سجا ہوگا۔ اپنے اپنے کوٹھوں پر ہیں۔
اس نے سر جھٹک کر جواب دیا۔ پھر کچھ سوچ کر بولا:
گانا وانا سننے آئے ہو یا پھر۔۔۔؟
اس نے سوال ادھورا چھوڑ کر کان میں انگلی گھما کر میل کا ایک چھوٹا سا گیند برآمد کیا اور ہاتھ اوپر کر کے روشنی میں غور سے اس کا معائنہ کرنے لگا۔
گانا سننے نہیں آیا۔
میں نے گِھن کھاتے ہوئے جواب دیا۔
پھر خیال آیا کے گانا سننے نہیں آیا مگر کچھ اور بھی تو کرنے نہیں آیا۔ لیکن میرے مزید وضاحت کرنے سے پہلے ہی اس کمبخت نے میرا ہاتھ دبوچا اور کھینچ کر ایک تاریک دروازے کی جانب بڑھ گیا۔
کتنے پیسے ہیں جیب میں ؟ اس نے نہایت بے تکلفی سے میری جیب پر ہاتھ مارا۔
کافی ہیں۔ میں نے سٹپٹاتے ہوئے کہا۔

مزید پڑھیں۔  پاکستانی موقف کی کیا اہمیت ہے؟

ہنہ ! کافی ؟
اس نے میری جیب سے برآمد ہوئے پانچ سو کے نوٹ پر حقارت سے نظر ڈالی۔ اپنے آپ کو لٹتے دیکھ کر اور اس کی آنکھوں میں خطرناک چمک دیکھ کر میں نے خاموش رہنا ہی مناسب سمجھا۔
تم بھی کیا یاد کرو گے کہ بخشو سے واسطہ پڑا تھا۔ پہلی دفعہ آئے ہو۔ میں لحاظ کر لیتا ہوں۔ اب اوپر جاؤ اور شہناز سے ملو۔ بتا دینا کے بخشو نے بھیجا ہے۔

اس نے میری کمر پر ہاتھ رکھا اور سیڑھیوں کی جانب ہلکا سا دھکا دیا۔ مرتا کیا نا کرتا سیڑھیاں چڑھتا گیا مگر ٹانگوں اور پاؤں سے جان نکل رہی تھی۔ نیچے بخشو اور اوپر شہناز۔ آگے کنواں پیچھے کھائی کا مطلب پہلی دفعہ سمجھ میں آیا تھا۔

اوپر پہنچا تو مستطیل کی شکل میں جھلکتی روشنی سے دروازے کا اندازہ ہوا۔ دباؤ ڈالا تو کھل گیا۔
میرا خیال تھا کہ دروازہ کھلے گا تو الف لیلوی سماں ہوگا۔ کھلے جھروکوں پر حریر و ریشم کے پردے لہرا رہے ہوں گے۔ فرش پر خوبصورت ٹائلیں ہوں گی۔ کہیں کہیں شفّاف چاندنیاں بچھی ہوں گی اور کہیں ایرانی قالین۔ چست پاجاموں اور مخمل کے غراروں میں ملبوس حسین طوائفیں بڑھ کر میرا استقبال کریں گی اور میرے ہاتھوں پر عطر چھڑکیں گی۔

(جاری ہے)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں