پاکستان میں غریب کامقام

غریب
loading...

تحریر : امجد طفیل بھٹی

پاکستان کے کسی بھی غریب شخص سے یہ سوال پوچھیں کہ اْسے آج تک پاکستان نے کیا دیا ہے تو زیادہ تر کا جواب یہ ہوتا ہے کہ ‘‘ کچھ بھی نہیں دیا ‘‘ اور کچھ لوگوں کا جواب ہوتا ہے کہ اْنہیں تو ایک شناختی کارڈ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ملا پاکستان سے ، ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو غریب ٹھیک ہی تو کہتا ہے کیونکہ ہر روز صبح اْٹھتے ساتھ ایک ہی پریشانی کا سامنا ہوتا ہے کہ آج بچوں کا پیٹ کیسے پالوں گا ، آج بیوی کا علاج کہاں سے کراؤں گا اور آج اپنی باقی ضروریات کہاں سے پوری کروں گا۔ مگر دوسری جانب ہمارے ملک کے چند ارب پتی خاندان پاکستان کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھ بیٹھے ہیں یعنی کہ اْنکے خیال میں وزیر اعظم ، صدر ، وزیراعلیٰ وزیر اور مْشیر بننا صرف ان کا ہی حق ہے۔

اگر ملک میں جمہوریت ہے تو وہ ہی اس جمہوریت اور اسکے نتیجے میں بننے والے نظام کے وارث ہیں ، تمام تر سرکاری مشینری اور سرکاری ادارے انکے ہی ماتحت ہیں ، وہ چاہیں تو کسی ادارے کے ساتھ کچھ بھی کر سکتے ہیں ، یہ طاقتور طبقہ سمجھتا ہے کہ تمام تر سرکاری عہدوں اور نوکریوں پر صرف اْنکے مخصوص حامیوں کا ہی حق ہے۔ میرٹ کا مطلب انکی مرضی ہے۔ یعنی کہ جب تک کوئی بھی سرکاری نوکری کی نشست چاہے وہ چپڑاسی کی ہو یا پھر اٹھارہویں گریڈ کی ہو اْنکی رضامندی سے نہ بھری جائے اس وقت تک انکی سیاست کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ نتیجتاً تمام تر سفارش زدہ لوگ اوپر آجاتے ہیں اور مسلسل سترسال سے جاری کھیل کی وجہ سے غریب غریب تر ہی ہوتا چلا جارہا ہے۔ہم آسان لفظوں میں ساری بات کو اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ اس ملک کے غریب کا سرکاری نوکریوں ، سرکاری وسائل اور سرکاری سہولتوں پر قطعاً کوئی حق نہیں ہے اسی لیے غریب اپنے آپ کو خود تک ہی محدود رکھتا ہے اور نوکریوں کے جھنجھٹ میں ہی نہیں پڑتا اور یوں سارا مفاد ایک مخصوص طبقہ اٹھا جاتا ہے جو کہ ہمارے نام نہاد سیاستدانوں اور بڑے لوگوں کی خوشامد کرتا ہے یعنی انکی ہاں میں ہاں ملاتا ہے۔

یہاں ذہن میں چند سوالات جنم لیتے ہیں کہ کیا پاکستان بنانے میں ہمارے ملک کے سرمایہ داروں ، جاگیرداروں ، وڈیروں ، نوابوں ، چوہدریوں اور مَلکوں کا کوئی کردار تھا ؟ کیا ان تمام میں سے کسی نے اپنے ملک کے غریبوں میں اپنی جائیداد اور مال و دولت تقسیم کی تھی ؟ کیا ان میں سے کوئی ہندوستان سے ہجرت کر کے آیا تھا ؟ جب ان تمام سوالوں کا جواب نہیں میں ہے تو پھر یہ لوگ کیوں خود کو پاکستان کا مالک اور غریب کو اپنا نوکر سمجھتے ہیں ؟ آج ملک پر بیرونی قرضوں کا بوجھ اتنا زیادہ ہے کہ ملک کی کروڑوں کی آبادی کا ایک ایک فرد لاکھوں روپے کا مقروض ہے جبکہ چند خاندان کھرب پتی ہیں جنکی دولت اور کاروبار پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اس ملک کا غریب بیرون ملک روزگار کی تلاش میں جانے کی خاطر اپنا گھر بھی بیچ دیتا ہے جبکہ اوپر بیان کردہ مخصوص طبقہ اپنے سر درد کا علاج بھی لندن اور امریکہ کے مہنگے ترین ہسپتالوں میں جا کر کراتا ہے۔ بیرون ممالک کے لوگ وہاں اکثر پاکستانیوں سے سوال کرتے ہیں کہ ہم نے تو سْن رکھا ہے کہ پاکستان ایک غریب ملک ہے جبکہ دوسری جانب اس کے حکمران اپنا علاج اْن ہسپتالوں میں کرا رہے ہیں جہاں کے حکمران بھی اس ہسپتال کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے۔

مزید پڑھیں۔  "یہ کانٹا ہے”۔۔۔ یہاں گاڑی کھڑی کرنا منع ہے۔

یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ واقعی اس ملک میں غریب کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے ، نہ رہنے کو گھر ہے ، نہ کھانے کو کھانا ہے ، نہ پینے کو صاف پانی ہے ، نہ بچوں کی تعلیم ہے ، نہ اپنا علاج کرانے کے لیے کوئی ہسپتال ہے اور نہ ہی سفر کرنے کے لیے مفت ٹرانسپورٹ کی سہولیات ہیں ، جبکہ دوسری جانب دوسرے مخصوص طبقے کے لیے نت نئے ماڈل کی گاڑیاں، لوڈ شیڈنگ سے مبرا ہاؤسنگ سوسائٹیاں ، بچوں کی تعلیم کے لیے بیکن ہاؤس اور گرائمر سکول ، علاج کے لیے انشورنس پالیسیاں ، بیرون ملک سفر کے لیے خصوصی رعایات ، گھروں میں کام کے لیے نوکر ، اپنی حفاظت کے لیے بلٹ پروف گاڑیاں اور سکیورٹی گارڈ ، شاپنگ کے لیے ایک ہی چھت کے نیچے سارے برانڈز دستیاب ہیں۔

تفریح کے لیے جمخانہ کلب کی ممبر شپ ، شادیوں کے لیے عالی شان ہوٹلوں کی بْکنگ ، اور نہ جانے کیا کیا ایسی سہولتیں ہیں جو کہ ہمارے بڑوں کو میسر ہیں جبکہ اوپر گِنوائی گئی ساری چیزوں کے بارے میں کسی غریب شخص کا سوچنا بھی گناہ ہے حالانکہ یہ ساری سہولتیں پاکستان میں موجود ہیں ، جب کسی ملک میں طبقاتی تقیسم اور دولت کی غیر منصفانہ تقیسم کی یہ صورتحال ہو تو پھر وہ ملک کبھی بھی ترقی یافتہ نہیں بن سکتا کیونکہ جب حکمران طبقہ اپنے عوام کے رہن سہن اور بنیادی ضرورتوں سے واقف ہی نہ ہو یا پھر واقف ہونے کے باوجود چشم پوشی سے کام لے تو پھر قومیں زوال کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اسکی وجہ صرف اور صرف ایک ہی ہے کہ حکمران طبقہ یا اشرافیہ کبھی بھی بنیادی مسائل کا شکار ہی نہیں رہا۔اگر حکومت کرنے والوں نے عام عوام اور غریب طبقے کے دکھ اور پریشانیاں قریب سے دیکھے ہوتے تواْسے احساس ہوتا کہ ان مسائل کو اگر مکمل نہیں تو جزوی طور یا ہر ممکن طور پر کیسے ختم کیا جائے۔

مزید پڑھیں۔  عمران خان، اُتاوّلی قوم اور نوبیاہتا جوڑا۔ نوید نسیم

طاقتور اور بااثر افراد کے بچے بھی پیدائشی حکمران پیدا ہوتے ہیں جبکہ اس ملک کا غریب سدا سے غریب تھا اور غریب ہی رہے گا۔ ہماری چند بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہوں اور انکے بچوں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جو کہ پچھلی تین ، چار دہائیوں سے ملکی سیاست اور ملکی اداروں کے کرتا دھرتا ہیں۔ شریف خاندان کے دونوں بھائیوں یعنی میاں نواز شریف اور شہباز شریف کے بعد انکی اولادیں مریم اور حمزہ پاکستان پر حکمرانی کے لیے پر تول رہے ہیں ، ذوالفقار علی بھٹو کے بعد انکی بیٹی ، داماد اور اب نواسا اور نواسیاں پاکستان کی باگ ڈور سنبھالنے کی پریکٹس میں مصروف ہیں۔ ان دو بڑے خاندانوں کے علاوہ بھی کئی چھوٹے خاندان ایسے ہیں کہ جن کے باپ دادا بھی حکومتوں میں رہے ہیں ، بیٹے بیٹیاں بھی رہی ہیں اور اب پوتے دوتے بھی سیاست میں قدم رکھنے کو تیار ہیں ، جبکہ دوسری جانب کوئی پڑھا لکھا مڈل کلاس بندہ اپنے سیاسی نظام میں اس وقت تک جگہ نہیں بنا سکتا جب تک کہ اس کے سر پر کسی بڑے خاندان یا شخصیت کا دستِ شفقت نہ ہو۔ آج ہمیں اگر اپنے سیاسی نظام میں گنے چْنے متوسط گھرانوں کے سیاستدان نظر آتے ہیں تو وہ بھی ان بڑی جماعتوں کی جی حضوری کر کے یہاں تک پہنچے ہیں ناں کہ اپنے بل بوتے پر۔ غرض یہ کہ پاکستان میں غریب کے لیے رہنے کے لیے صرف مسائل ہیں جبکہ سہولیات صرف ‘‘ بڑوں ‘‘ کے لیے ہیں۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں