بھارت کا واٹس ایپ روکنے کا مطالبہ

واٹس ایپ

واٹس ایپ پر بچوں کے اغوا سے متعلق جھوٹے پیغامات پھیلنے کے نتیجے میں پچھلے سال کے دوران 10 مختلف بھارتی ریاستوں میں کم ازکم 31 افراد کو اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھونے پڑے

واٹس ایپ صورت حال کے تدارک کے لیے وہ فوری اقدامات کرے،بھارتی وزارت ٹیکنالوجی کا بیان

نئی دہلی : بھارت کی الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کا کہنا ہے کہ جب پیغام رسانی کے پلیٹ فارم جھوٹی اور غلط اطلاعات پھیلانے کے لیے استعمال کیے جائیں گے تو وہ ذمہ داری اور جوابدہی سے بری الزمہ نہیں ہو سکتے۔

بھارتی ٹی وی کی  معلومات کے مطابق الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ جب پیغام رسانی کے پلیٹ فارم جھوٹی اور غلط اطلاعات پھیلانے کے لیے استعمال کیے جائیں گے تو وہ ذمہ داری اور جوابدہی سے بری الزمہ نہیں ہو سکتے۔ اس نے واٹس ایپ کو واضح طور پر یہ پیغام پہنچا دیا گیا ہے کہ اس صورت حال کے تدارک کے لیے وہ فوری اقدامات کرے اور یہ یقینی بنائے کہ اس کا پلیٹ فارم بدنیتی پر مبنی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔

وزارت نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے حکام ہلاکتوں کے ذمہ داروں کو پکڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔بھارت میں 20 کروڑ سے زیادہ افراد واٹس اپب استعمال کرتے ہیں اور یہ دنیا بھر میں پیغام رسانی کی سب سے بڑی سروس ہے۔فیس بک اور واٹس ایپ نے فوری طور پر حکومتی بیان پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا، لیکن واٹس ایپ نے اس سے قبل برطانوی نیوز ایجنسی سے کہا تھا کہ وہ اپنے صارفین کو جھوٹی خبروں کی شناخت کے متعلق تربیت دے رہا ہے اور اپنی پیغام رسانی کی سروس میں تبدیلیوں پر غور کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں۔  غزہ، فلسطینیوں کے آتشی کاغذی جہازوں سے یہودی کالونیوں میں آگ بھڑک اٹھی

واٹس ایپ پر بچوں کے اغوا سے متعلق جھوٹے پیغامات پھیلنے کے نتیجے میں پچھلے سال کے دوران 10 مختلف بھارتی ریاستوں میں کم ازکم 31 افراد کو اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھونے پڑے۔ ان ہلاکتوں میں 5 وہ افراد بھی شامل ہیں جنہیں مغربی بھارتی ریاست مہاراشٹر میں اتوار کے روز ایک ہجوم نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں