سری لنکا : کولمبو میں سمندر کے کنارے….. کیا ہوا ؟

سری لنکا
loading...

شبنم گُل

سری لنکا کے ٹیمپل آف ٹوتھ، کولمبو ٹو ، کینڈی یا چائے کے باغات میں مختلف ملاقاتیں یادگار رہیں ۔ گھومتے پھرتے میں اسی تلاش میں رہتی کہ کسی خاتون سے بات چیت ہوجائے تاکہ میں سری لنکا کے گھریلو زندگی، خاندانی نظام اور عورتوں کے اسٹیٹس کے بارے میں جان سکوں ۔ سری لنکا کی اکانومی ہم جیسی ہے مگر ان لوگوں کو پیسہ خرچ کرنے کا سلیقہ آتا ہے ۔ یہ زیادہ خرچہ غذا اور گھر کی دیکھ بھال میں کرتے ہیں ۔ چھوٹے سے چھوٹا گھر بھی باہر سے بے رنگ یا ٹوٹا ہوا نہیں دیکھا!
گھر ایک خوبصورت اکائی ہے۔ در حقیقت اینٹوں ، سیمنٹ یا چونے سے گھر نہیں بنتے۔ یہ احساس کی چاشنی، جذبوں کے رنگوں و اپنائیت کے پھولوں سے مہکتے ہیں ۔ یہ مکان نہیں بلکہ گھر تھے ۔

سری لنکا
File Photo
سری لنکا
PC: lankabusinessonline.com

میں نے اپنے ملک میں اکثر مکان دیکھے ہیں۔ بڑے اور کشادہ مکان جو گھر کم مسافر خانے زیادہ لگتے ہیں ۔مگر دلوں میں تنگی دیکھی ۔ لہذا یہ گھر زندگی سے بھرپور دکھائی دیے ۔ ان کا خاندانی نظام مربوط ہے۔ آپس میں احساساتی طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ مل کر رہتے ہیں ۔ کولمبو میں سمندر کے کنارے جگہ جگہ خاندان ٹولیوں کی صورت نظر آئے۔ گاتے بجاتے زندہ دل قوم کے روپ میں ۔ آوازوں کا شور نہ تھا۔ یہ آپس میں دھیرے سے مخاطب ہوتے ہیں ۔ دور سے آواز دینے کے بجائے اٹھ کر اس کے پاس جاتے ہیں ۔
یہ ملک بھی ایسا گھر ہے جسے قدیم سنسکرت ادب میں سری لنکا کو Sindha Divipa کہا جاتا تھا یعنی سنہالی لوگوں کا جزیرہ۔ اس ملک کی تاریخ منفرد روپ لیے ہوئے ہے۔ شمالی انڈیا کے ایک جلاوطن شہزادے نے اس خوبصورت جزیرے کو اپنا نشیمن بنا لیا۔ 380 قبل مسیح میں انورادھا پورہ سری لنکا کا پہلا دارالخلافہ بنا جو کولمبو سے 205کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔تیسری صدی میں بدھ ازم کے ساتھ انڈین آرین کلچر یہاں متعارف ہوا۔ اس دور میں کئی خوبصورت شہر تشکیل دیے گئے جن میں دگاباس شہر قابل ذکر ہے۔ یہ شہر دلکش محلات، سرسبز لہلہاتے باغات، رنگا رنگ تہذیب، منفرد عمارت سازی اور مربوط آبپاشی نظام کی وجہ سے اہرام مصر سے مشہور تھے۔جن کی اہرام مصر سے تشبیہہ دی جاتی ہے۔ جنوبی انڈیا کے حملہ آوروں کے بعد یہ اقتدار پولا ناروا منتقل ہو گیا۔ سولہویں صدی کے دوران مغربی بیوپاری جب سری لنکا میں داخل ہوئے تو، اس ملک کی سیاسی، سماجی و معاشرتی صورتحال بدل گئی۔
اس ملک میں صدیوں تک ڈچ، برطانیہ اور پورجوگیز حکمرانی کرتے رہے۔ 1815 میں کینڈین حکومت کے زوال کے بعد برطانیہ نے اس ملک پر قبضہ کر لیا اور 1948 میں سری لنکا نے برطانوی سامراج سے آزادی حاصل کرلی۔ سری لنکا کی تاریخ ہمارے ملک اور بالخصوص سندھ کی تاریخ سے مختلف نہیں، جہاں حملہ آوروں کے گھوڑوں کی ٹاپ اور بارود کی بو فضائوں میں رچی بسی رہتی۔ مگر اس ملک کی ترقی، خوشحالی اور نظم و ضبط قابل رشک ہے۔ پرانا سیلون اور آج کا سری لنکا یہ ایک ایسا ملک ہے جو سبزے اور سمندر میں گھرا ہوا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے آسمان پر بادل امڈ آتے اور یکایک بارش ہونے لگتی۔ لیکن مٹی کی سوندھی خوشبو ویسی نہیں تھی جیسی اپنے ملک میں محسوس ہوتی ہے۔
ڈھلتی شام کے سایوں میں کولمبو پہنچے ۔ یہ شہر سولہویں صدی میں پورچوگیز (پرتگالیوں)کے آنے کے بعد مصروف ترین تجارتی بندرگاہ بنا۔ یہ شہر ڈچ اوربرطانوی اثر کے تحت پھلتا پھولتا رہا۔ مدغم ثقافت کا رنگ آج بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ مساجد ہوں یا ڈچ اور انجلیکن گرجا گھر قدیم حسن لیے ہوئے ہیں اور دنیا بھر سے آئے ہوئے سیاحوں کا مرکز بنے رہتے ہیں۔ عمارت سازی میں ڈچ تعمیراتی اثر آج بھی موجود ہے۔ کولمبو کے وسط میں بیرا لیک خوبصورت منظر پیش کرتی ہے۔ ڈچ ہاسٹل کی قدیم عمارت ماضی میں لے جاتی ہے جو اب تفریحی مرکز ہے، جہاں شاپنگ کی جا سکتی ہے۔
کولمبو میں دلنی، رادھا ، رتنا اور کافی عورتوں سے بات چیت ہونے کے بعد میں نے اندازہ لگایا کہ سری لنکا کی عورت بہت سادہ، خود انحصاری کی طرف مائل اور حقیقت پسند لگی۔آفس جانے والی خواتین عام سے کپڑوں اور بغیر میک اپ میں دکھائی دیں۔ کہیں بھی بناوٹ یا دکھاوا نہیں تھا۔ بہت سی خواتین سے گفتگو ہوئی مگر کہیں بھی خود رحمی یا شکایتی رویے نہیں تھے۔ وہ عورت تھوڑے میں خوش رہتی ہے۔ اور ہر حال میں نباہ کرنا چاہتی ہے۔ دکانوں اور خاص طور پر فروٹ کے ٹھیلوں پر پڑھی لکھی عورت نظر آئی۔ اسے موٹرسائیکل بھی چلاتے دیکھا۔ موٹر سائیکل چلاتے ہوئے یا سفر کرتے ہوئے ہر کسی کے سر پر ہیلمٹ تھا۔ وہ عورت محنتی، جفاکش اور محبت بھرے دل کی مالک ہے۔ ان کے دل میں گھریلو زندگی کے لیے نرم گوشہ موجود ہے۔اس عورت کے بھی بہت سارے مسائل ہیں۔ وہ بھی صنفی تفریق کے مسائل سے نبرد آزما ہے۔ اس کی بھی حق تلفی کسی نہ کسی موڑ پر کی جاتی ہے۔ مگر وہ ان تمام مسائل کو حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھتی اور سلجھاتی ہے۔ اسے گر کر اٹھنا اور خود سنبھلنا آتا ہے۔ اطمینان، ایثار، سکون قلب اور مسکراہٹ اس عورت کی شخصیت کا خاصا ہیں۔

مزید پڑھیں۔  جنوبی کوریا کے رکن پارلیمنٹ نے خود کشی کر لی
سری لنکا
PC: srilankabrief.org

ان ہی خوبیوں سے گھر بنتے سنورتے ہیں۔ اور رشتے فروغ پاتے ہیں۔ بہرحال قسمت کا بننا یا بگڑنا کسی حد تک زبان اور عمل کے ہنر کے اردگرد گھومتا ہے۔ ان لوگوں کو گفتگو کا فن آتا ہے ۔ سرل لنکا میں مائیں گھر کے افراد کو کھانا کھلانے کے بعد خود آخر میں کھاتی ہیں ۔ایک یونیورسٹی کی طالبہ نے بتایا کہ مسائل تو ہیں مگر یہاں عورت حل کے لئے زیادہ سوچتی ہے ۔ ہم زیادہ تر وسائل کو بہتر بنانے کے لئے سوچتے ہیں ۔
کولمبو کے سمندر پر پہنچ کے ایک الگ ہی سماں نظر آیا۔ ایسا لگا کہ یہ پیاس کے صحرا سے سبزے اور سمندر کی طرف کا سفر ہے۔ اپنے ملک میں ہر سمت کا احساس دیکھا ہے۔ پیاسے چہرے اچھے احساس کو ترستے ہوئے۔ حتیٰ کہ روح تک خشک اور بے جان تازہ جھونکے سے محروم نظر آتی ہے مگر یہ لوگ مختلف تھے۔ یہ خوشی منانا جانتے ہیں۔ نئی نسل بے فکر، آزاد اور مطمئن تھی۔ کسی کے چہرے پر خوف یا بے یقینی کا ہلکا شائبہ بھی نہ تھا۔ نوجوان گا رہے تھے۔ ان کے قہقہوں کے مدھر سر فضاں میں لہرا کر لہروں میں جذب ہو جاتے۔ لہریں مست ہو کر ساحل پر رقص کرنے لگتیں۔ آسمان کے بدلتے رنگ لہروں پر حسین دکھائی دیتے۔

سری لنکا
PC: intrepidtravel.com

یہاں کاروبار سات بجے بند ہو جاتا ہے ۔ رات کو ہوٹلز میں پاکستانی، انڈین دکھائی دیے ۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ بجلی کی بچت ہو پاتی ہے ۔ دوسری طرف گھر اور بچوں کو والدین وقت دے پاتے ہیں ۔ دوسری بات یہ کہ بدھ ازم میں ایڈلٹری ممنوعہ قرار دینے کی وجہ سے مرد اخلاقی حدود کے اندر رہتے ہیں ۔ سری لنکا کے مرد گھر کی دیکھ بھال میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔ دوسری طرف عورتیں ملازمت کے بعد زیادہ وقت گھر کو دیتی ہیں ۔ نہ تو انہیں شاپنگ کا کریز تھا اور نہ ہی پارلر جانے کا۔ کولمبو کے بڑے سے شاپنگ مال میں نے سیلز گرل سے پوچھا کہ مالز اسقدر خالی کیوں ہیں تو وہ مسکرا کر کہنے لگی کہ ہم خریداری ضرورت کے تحت کرتے ہیں ۔
سری لنکا کی عورت سندھ کے صحرائے تھر کی عورت کے مزاج سے ہم آہنگ ہے۔ بدھ ازم نے عام زندگی کے بہترین اصول وضع کئے ہیں۔ جس میں روز مرہ کی زندگی کو نظرداری سے گزارنا، انفرادی ذمیداری کو محسوس کرنا اور رشتوں کو مکمل توجہ دینا شامل ہے۔ بدھ مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ بہت پرسکون ہوتے ہیں۔ تھر میں بھی جین مت اور بدھ ازم کے آثار موجود ہیں۔ تھر میں کئی مندر آج بھی موجود ہیں جو قدیم زمانے کی مذہبی روایات کی یادگار ہیں۔ شاید اس لیے دو مختلف خطوں کے لوگ مزاج میں ایک جیسے محسوس ہوئے۔ تھر کی عورت اپنے گھر، روز مرہ کے کام اور خاندان کو خاص اہمیت دیتی ہے۔
ساحل سمندر ہر ایک شخص مناسنگھے سے بات چیت مفید رہی ۔ اس نیامریکا سے سیاست میں ماسٹرز کیا تھا۔ مگر لباس و بات چیت میں بیحد سادہ اور پرسکون ۔ وہ پاکستان کی سیاست پر بات کرنے لگا ۔ اسے سیاست کے مضمون پر عبور حاصل تھا۔اس نے بتایا کہ یہاں والدین بچوں کو گریڈز لانے کی مشین کے بجائے اچھا انسان بنانا چاہتے ہیں ۔ سری لنکا کی عورت اس کی نظر میں محنتی، فعال اور حقیقت پسند تھی ۔ اس کے ایک جملے نے مجھے چونکا دیا۔ یہ جملہ آج بھی مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے جب اس نے کہا:

مزید پڑھیں۔  2nd June 2018 - آج کا کارٹون

آپ برا مت منائیے گا پاکستانی عورتیں مغرور ہیں۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں