خُدا کی محبت اور ہیرا منڈی (دوسرا حصہ)… شہریار خاور

loading...

حصہ اول کے لئے لنک پر کلک کریں۔

لیکن دروازے میں داخل ہوتے ہی مجھے احساس ہوگیا کہ فلموں اور اصل زندگی میں ایک سو اسیّ ڈگری کا فرق ہوتا ہے۔ میں ایک چھوٹی سی ڈیوڑھی میں کھڑا تھا جس کے فرش پر شاید کسی زمانے میں سیاہ و سفید ٹائلیں ضرور رہی ہوں گی مگر اب میل کی دبیز تہ تلے صرف ایک سلیٹی مائل نمونے کا احساس ہوتا تھا۔

مٹیالی اور مکڑی کے جالوں سے ڈھکی چھت سے ایک پچیس واٹ کا بلب جھول رہا تھا جس کی تار پر سینکڑوں مکھیاں صبح ہونے کے انتظار میں مصروف استراحت تھیں۔ ڈیوڑھی میں نیلے سیاہی مائل رنگ کا ایک کُھلا اور دو بند دروازے تھے۔

کُھلے دروازے سے آتے بدبو کے بھبوکے اس کے بیت الخلاء ہونے کا خاموش اعلان کر رہے تھے۔ میں نے انگلیوں میں اپنی ناک دبائی اور واپسی کا ارادہ کیا لیکن ابھی مُڑنے کا سوچا ہی تھا کہ سامنے کا ایک دروازہ کھلا اور ایک عورت ڈیوڑھی میں داخل ہوئی۔

کیا ہے ؟ اس نے مجھے دیکھ کر چیخ مارنے کے انداز میں پوچھا۔

جی وہ ۔۔۔ جی وہ مجھے بخشو صاحب نے بھیجا ہے۔ میں نے گڑبڑا کر جواب دیا۔

بخشو صاحب نے ؟ اس نے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔

اور کیوں بھیجا ہے بخشو صاحب نے ؟

جی وہ شہناز صاحبہ کے پاس جانے کو کہا تھا۔

میں نے اپنے لہجے کی کپکپاہٹ پر قابو پانے کی بھرپور کوشش کرتے ہوئے جواب دیا۔

شہناز صاحبہ ؟ اس نے شاید مزید طنز کا ارادہ کیا مگر پھر میری حالت پر ترس آ گیا۔

“پیچھے آؤ میرے” وہ مڑ کر اسی دروازے میں داخل ہوگئی جس سے نکلی تھی۔

میں اس قدر حواس باختہ ہوچکا تھا کہ بھاگنے کا خیال بھلا کر چپ چاپ اس کے پیچھے بڑھ گیا۔

چھوٹا سا نیم روشن کمرہ تھا۔ میلی دیواروں پر گلابی چونا، تین چار نہایت عریاں تصاویر، سفید رنگ کی چھت اور اس سے لٹکتا ایک پرانا چکنائی میں لیپا پنکھا۔ گلی کی جانب ایک چھوٹی سی کھڑکی، جس کی جالی اس قدر گندی تھی کہ پردے کا کام دے رہی تھی اور کھڑکی کے سامنے شراب کی خالی بوتل میں سجے سستے پلاسٹک کے نمائشی پھول۔

مزید پڑھیں۔  عمران خان، اُتاوّلی قوم اور نوبیاہتا جوڑا۔ نوید نسیم

ایک کونے میں جھولتی ڈگمگاتی چھوٹی سی ڈریسنگ ٹیبل جس پر کاسمیٹکس کے سستے سامان کا انبار لگا تھا اور جس کا شیشہ کئی جگہ سے تڑخ چکا تھا۔ ایک معمولی سی سستی کرسی جس کی پشت پر میلے کپڑے لٹک رہے تھے اور ایک پلنگ جس پر سرخی مائل مخمل کی چادر بچھی تھی اور دو تکیے پڑے تھے۔ پلنگ کے اوپر دیوار پر ٹنگی ایک صلیب اور اس کی بغل میں جھولتا کسی عیسائی مشنری تنظیم کا شائع شدہ ایک پرانا کیلنڈر۔

میں نے کمرے کی کل کائنات کا جائزہ لے کر اپنی میزبان کی طرف دیکھا تو وہ کرسی سے کپڑے اٹھا کر سنبھالنے میں مشغول تھی۔ چونکہ اوسان کچھ کچھ واپس آ چکے تھے اور اس کی توجہ بھی میری جانب مبذول نہیں تھی تو میں نے اطمینان سے اس کا مشاہدہ شروع کیا۔

تیس یا پھر پینتیس کا سن، گہرا سانولا رنگ، بھورے مائل سیاہ لمبے بال اور ان میں بے ترتیبی سے اُلجھا سرخ ربن۔ ہونٹوں پر گہرے کاسنی رنگ کی لپ سٹک۔ موٹے نقوش جو کسی طور بھی پُرکشش تو نہیں تھے مگر بدصورت بھی نہیں کہے جا سکتے تھے۔ فربہی کی طرف مائل جسم جو سرخ رنگ کی ریشمی قمیض شلوار میں جکڑا نظر آ رہا تھا اور پاؤں میں سرخ اور کالی گرگابی۔

میں نے پاؤں سے نظریں اٹھا کر دوبارہ چہرے کی طرف دیکھا تو اس کی نظریں معنی خیز انداز میں مجھے ہی ٹٹول رہی تھیں۔ اس کے پورے وجود میں اگر کوئی دلکشی تھی تو وہ اس کی آنکھیں تھیں۔ شفاف سفید رنگ کی۔ زمین پر دو گہرے کالے پانی کے تالاب کہ جن میں جتنے بھی کنکر پھینکو لہریں نہیں اٹھتیں۔

مزید پڑھیں۔  سری لنکا : کولمبو میں سمندر کے کنارے..... کیا ہوا ؟

یہ بٹر بٹر کیا دیکھ رہے ہو ؟ پہلے کبھی لڑکی نہیں دیکھی کیا ؟ نہایت کُھردرا لہجہ تھا۔

جی دیکھی ہے۔ آپ شہنازصاحبہ ہیں ؟ میں نے اس کے ممکنہ طنز سے بچنے کے لیے ساتھ ہی سوال جڑ دیا۔

نہیں میں شہناز صاحبہ نہیں صرف شہناز ہوں۔ کہو کیا کام ہے مجھ سے ؟

اس کے ہونٹوں پر ایک شرارت آمیز مسکراہٹ ناچنے لگی۔

مجھ سے کوئی جواب نا بن پایا تو میں نے سٹپٹا کر ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیا۔ ساتھ ہی میری نظر دوبارہ صلیب پرپڑی۔

آپ عیسائی ہیں ؟ میں نے اپنا رہا سہا اعتماد مجتمع کر کے پوچھا۔

میں عیسائی، مسلمان، یہودی یا ہندو صحیح لیکن پیسوں کے لیے اور کچھ دیر کے لیے کچھ بھی بن سکتی ہوں۔ سوال یہ نہیں کہ میں کیا ہوں۔ سوال یہ ہے کہ تم کیا چاہتے ہو۔

اس نے بدستور میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا۔

جی میں بھلا کیا چاہوں گا ؟ میں کچھ نہیں چاہتا۔

میں اس کی نیم فلسفیانہ گفگتگو سے کچھ اُلجھ رہا تھا۔

کچھ نہیں چاہتے تو گناہ کی اس بستی میں کیا راستہ بھول کر آ گئے ہو ؟

اس نے طنز کا نشتر چلایا مگر پھر کچھ سوچ کر بولی۔

دیکھو لڑکے ! خواہش بہت اہم چیز ہے اور اپنی خواہش کی شناخت ضرور ہونی چاہیئے۔ کیا خواہش ہے کیوں ہے اور کیسے پوری کرنی ہے ان سب سوالوں کا جواب ڈھونڈنا بہت ضروری ہے۔

جی کیوں ضروری ہے ان سوالات کا جواب ڈھونڈنا ؟ خواہش تو بس خواہش ہوتی ہے۔

میں اس کی بات سمجھ نہیں پا رہا تھا۔

نہیں خواہش صرف خواہش نہیں ہوتی۔ خواہش ایک راستہ ہے جس پر چل کر ہم اپنے حصے کی آگ تک پہنچتے ہیں۔ خود کو جلانا انجام ہے تو یہ علم تو ہونا چاہیئے نا کہ کیوں جل رہے ہیں۔

(جاری ہے)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں