بچوں سے جنسی زیادتیاں، چلی کے تمام 34 بشپس کی پوپ کو استعفوں کی پیش کش

پوپ استعفے منظور کر لیے، تو کلیسائے روم کی تاریخ میں یہ استعفوں کا اپنی نوعیت کا آج تک کا اولین واقعہ ہو گا

سان تیاگو:کیتھولک مسیحیوں کے کلیسائے روم کی تاریخ میں شاذ و نادر نظر آنے والی ایک پیش رفت میں بچوں سے جنسی زیادتیوں کے ایک بہت بڑے اسکینڈل کی وجہ سے چلی کے تمام چونتیس بشپس نے پاپائے روم کو اپنے استعفوں کی پیشکش کر دی ۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جنوبی امریکی ریاست چلی میں کیتھولک چرچ کی کئی انتہائی اعلیٰ شخصیات پر الزام ہے کہ انہوں نے اس ملک میں کلیسائی اہلکاروں کی طرف سے بچوں سے جنسی زیادتیوں کے واقعات پر پردہ ڈالنے کی کوششیں کی تھیں۔

اس پر پاپائے روم فرانسس نے چلی کے ان تین درجن کے قریب بشپس کو ایک تین روزہ کانفرنس کے لیے ویٹیکن میں طلب بھی کر لیا تھا۔ چلی میں بچوں سے جنسی زیادتی کے مرتکب پادریوں کے مبینہ جرائم اور ان پر پردہ ڈالنے کی دانستہ لیکن مجرمانہ کوششوں کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد چلی کی بشپس کانفرنس کے تمام 34 ارکان نے پوپ فرانسس کو اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے کی پیشکش کر دی۔

اس بشپس کانفرنس کی طرف سے ویٹیکن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا گیاکہ تمام بشپس اپنی اپنی ذمے داریوں کو اس وجہ سے واپس پاپائے روم کے حوالے کرنے پر تیار ہیں کہ وہ ہم میں سے ہر ایک کے بارے میں جو بھی آزادانہ فیصلہ کرنا چاہیں، کر سکیں۔

پاپائے روم اب یا تو استعفوں کی یہ تمام پیشکشیں فرداً فرداً قبول یا مسترد کر سکتے ہیں یا وہ اس بارے میں اپنا فیصلہ مؤخر بھی کر سکتے ہیں

Leave a Reply